جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتانگریزی دوراورجہالت کازمانہ

انگریزی دوراورجہالت کازمانہ

انگریزی دوراورجہالت کازمانہ
شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنی نوراللہ مرقدہ
مگرانگریزوں کویہ خطرہ لاحق ہواکہ تعلیم یافتہ لوگوں کی کثرت اگرہندوستان میں رہی تووہ ہماری حکومت کوفناکردیں گے اس لئے انہوں نے تعلیم گاہوں کو ملیامٹ اورتعلیم کونیست ونابودکردیااورتعلیم کی ت مام موقوفہ زمینوں کو1838ء میں سرکاری قبضہ میں لے لیا۔سرولیم ٖڈگبی پرسپرس برتژ انڈیامیں لکھتاہے۔
(ضمن سوال وجواب میجرجنرل سمتھ کے۔سی۔بی)
سوال ۵۶۳۰: کیاآپ کسی طرح اسبات کی روک کرسکتے ہیں کہ دیسیوں کوان کی طاقت کاعلم نہ ہو۔
جواب: میرے خیال میں انسانی تاریخ میں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ معدودے چنداغیارچھ کروڑ آبادی کے ملک پرحکمرانی کرسکیں جسے آج کل رائے کی بادشاہت کہتے ہیں اس لئے جونہی وہ تعلیم یافتہ ہوجائیں گے تو تعلیم کی تاثیرسے ان کے قومی اورمذہبی تفرقے دورہوجائیں گے جس کے ذریعہ سے اب تک ہم نے اس لک کو اپنے قبضہ میں رکھاہواہے۔یعنی مسلمانوں کوہندوؤں کے خلاف کرنااور علیٰ ہذاالقیاس تعلیم کااثریہ ضرورہوگاکہ ان کے دل بڑھ جائیں گے اورانہیں اپنی طاقت سے آگاہی ہوجائے گی۔(خوشحال برطانوی ہندترجمہ اسپرس برٹش انڈیا:۱۰۹)
اسی بناء پرانگریزوں نے تعلیم اورتعلیم گاہوں کوبربادکیااورچونکہ ان کانصب العین زیادہ سے زیادہ مالی منافع حاصل کرناتھااس لئے بھی انہوں نے ہندوستانیوں کوتعلیم دینااپنے مقاصدکے خلاف سمجھا۔ بہرحال تھوڑے ہی عرصہ میں جبکہ تعلیم گاہیں مٹ گئیں اوران کی جگہ دوسرے اسکول اورکالج وغیرہ قائم نہ کئے گئے اورپرانے تعلیم یافتہ لوگ آہستہ آہستہ وفات پاگئے توچاروں طرف ہندوستان میں جہالت اورنادانی کا دور دورہ ہوگیا۔ چنانچہ 1823ء میں آنر یبل الفنسٹن اور آنریبل ایف وارڈن نے ایک متفقہ یاداداشت گورنمنٹ میں پیش کی جس کا اقتباس حسب ذیل ہے:
’’انصاف یہ ہے کہ ہم نے دیسیوں کی ذہانت کے چشمے خشک کردیئے۔ہماری ف توحات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس نے نہ صرف ان کی علمی ترقی کی ہمت افزائی کے تمام ذرائع کو ہٹالیاہے بلکہ حالت یہ ہے کہ قوم کے اصلی علوم بھی گم ہوجانے اورپہلے لوگوں کی ذہانت کی پیداوارفراموش ہوجانے کااندیشہ ہے اس الزام کودورکرنے کیلئے کچھ کرناچاہئے۔‘‘(روشن مستقبل:۱۲۸)
ہم اس سے پہلے لارڈمنٹووائسرائے ہندکی 1811ء والی یادداشت کااقتباس ذکرکرچکے ہیں جوکہ انہوں نے کورٹ آف ڈائرکٹران کوبھیجی تھی اوراس میں اقرارکیاتھاکہ علم کا روزبروززوال ہورہاہے ہندومسلمانوں میں مذہبی تعلیم نہ ہونے سے دروغ حلفی اورجعلسازی کے جرائم بڑھ رہے ہیں۔اورسفارش کی تھی کہ متعددکالج قائم کئے جائیں اورتعلیم پرزیادہ روپیہ خرچ کیاجائے۔
ہندوستان کوہمیشہ غلام رکھنے کی ہوس اوراس کو ہمیشہ لوٹتے رہنے کی ملعون خواہش کی وجہ سے انگریزہمیشہ یہی پالیسی رکھتے رہے کہ ہندوستانیوں کی ذہانت بالکل بربادکردی جائے ان میں علمی بیداری پیدانہ ہونے دی جائے۔ان کے ہرقسم کے کمالات فناکردیئے جائیں اوران کو غلامی کی بدترین خدمت گذاریوں ،کاشتکاری وغیرہ ہی میں ہمیشہ مبتلارکھاجائے تاکہ ہماری برتری ہمیشہ قائم رہے اورہم ہندوستان کے اعلیٰ حاکم بنے رہیں۔یہی وجہ ہے کہ1792 ء میں جبکہ مسٹرولیم فورس نے پارلیمنٹ میں اس مضمون کوتجویزپیش کی کہ ہندوستان میں پروٹسٹنٹ مذہب کے عقیدے کی عبادت اورتعلیم کے ذرائع مہیاکئے جائیں اورا مقصدکیلئے وقتاً فوقتاً پادری بھیجے جائیں تو مالکان ایسٹ انڈیاکمپنی نے ان تجاویزکی شدت سے مخالف کی اورکہاکہ:
’’ایک مذہب کے قائم ہوجانے سے انسانوں کے مقاصدمتحدہوجاتے ہیں اوراگریہ ہوگیاتو ہندو ستا ن میں انگریزوں کی برتری کاخاتمہ ہوجائے گا۔لوگوں کو اپنے مذہب میں لانے کااصول اس اٹھارہویں صدی میں خلاف مصلحت ہے۔اگرچندلاکھ عیسائی بھی وہاں ہوگئے تواس سے سخت مصیبت آجائے گی۔امریکہ میں درسگاہیں اورکالج قائم ہونے کانتیجہ یہ ہواتھاکہ وہ ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔اسی طرح جب نوجوان پادری اندرون ہندمیں پھلیں گے توکمپنی کے فوائدکاخاتمہ ہوجائیگا۔جس ہندوستانی کو تعلیم حاصل کرنی ہو وہ انگلستان چلاآئے۔‘‘(روشن مسقتبل :۱۲۵،ازتاریخ تعلیم میجرباسو:۲۰۳)
تعلیم گاہوں اورعلم کافناکردینا اورفناہوجاناکوئی معمولی مسئلہ نہ تھااس لئے مالکان ایسٹ انڈیاکمپنی اورعہدہ داران کمپنی کے ہرقسم کے خلاف کے باوجودآوازیں اٹھتی رہیںاورچیخ پکارہوتی رہی۔بہت سے منصف مزاج انگریزہندوستانیوں کی موافقت بھی کرتے رہے جس کے نتیجہ میں 1834ء میں تعلیمی ضروریات انجام دینے اوراس کے پروگرام وغیرہ کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کااجلاس7؍مارچ1835ء میں منعقد ہوا اورلارڈمیکالے اس کے صدربنائے گئے۔کمیٹی اوراس کے صدرنے ہندوستانیوں کیلئے تعلیم گاہیں بنانے اورتعلیم کوزیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت کوتسلیم کیامگرہرہرقدم اورہرہرشعبہ میں ایسے امورکولازم قرار دیا جس سے نہ تعلیم عام ہوسکے ۔نہ ہندوستانیوں کواعلیٰ علوم میں کامیابی ہوسکے اورنہ ان کا کیرکٹراعلیٰ درجات حاصل کرسکے نہ ایسی چیزیں اورسہولتیں اس میں رکھی گئیں کہ وہ ایک آزادقوم کے ممبرشمارکئے جاسکیں۔
(۱) تمام فنون وعلوم کی تعلیم انگریزی زبان میں لازمی قراردی گئی۔ظاہرہے کہ سات ہزارمیل کی وہ زبان جس سے ہندوستانیوں کوکوئی مناسبت نہیں جبکہ فنون اورعلوم کوحاوی ہوکرہندوستانی بچوں کیلئے ذریعہ تعلیم بنائی جائے گی تو ان کے اذہان پران فنون میں مہارت پیداکرنے کیلئے کس قدرثقیل بوجھ پڑے گا۔ اگریہ فنون ان کی مادری زبان میں پڑھائے جاتے اورانگریزی زبان بحیثیت زبان ثانوی درجہ پرتسلیم کی جا تی توان کوان فنون میں کس قدرزیادہ اورکس قدرجلدمہارت تامہ حاصل ہوجاتی۔
(۲) پھرجوفنون داخل درس کئے گ ئے وہ ایسے اوراتنے ہرگزنہ تھے جن سے وہ ماہرہوکرصنائع اورترقیات معاشیہ و حربیہ وغیرہ کے ایسے درجوں پرپہنچ سکیں جن پریورپین اقوام جرمنی،برطانیہ،روس،جاپان وغیرہ پہنچیں۔
(۳) فضول اورزائدازحاجت کتابیںاورفنون ایسے بھردیئے گئے جن میں دماغ کمزوراور بیکار ہوجاتارہا۔اورکوئی معتدبہ کمال حاصل نہیں ہوتاتھا۔
(۴) نصاب میں وہ کتابیں سائنس اورطبعیات کی داخل کی گئیں جن کی خیالی اورموہوم مگرمزین باتیں نوعمربچوں کومذہب اورعقائددینیہ سے یک قلم منحرف کرکے لامذہب اوربے دین بنادیں۔
سب سے بڑامقصدان ممبران کمیٹی کایہ رہاکہ انگریزحکام کواپنے اپنے آفسوں میں کلرک اورترجمان مہیاہوجائیں اوراگریزی تہذیب اورانگریزوں کاکلچرہندوستانیوں میں رائج ہوکران کوہندوستانی اخلاق قدیمہ اورروحانیت ومذہبیت سے دوراورانگریزی اخلاق خبیثہ اوران کی ڈپلومیسیوں سے نزدیک کردے ان میں دنیاطلبی اورخودغرض اورنفاق کی ایسی اسپرٹ آجائے جس کی علمبردارتمام یورپین اقوام سے بڑھ کر برطانیہ واقع ہوئی ہے۔چنانچہ لارڈمیکالے اوراس کی کمیٹی اپنی تعلیمی اغراض ومقاصداوران کی اسکیم کی رپورٹ میں مندرجہ ذیل کلمات تحریرکرتی ہے۔
’’ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جوہم میں اورہماری کروڑوں رعایاکے درمیان مترجم ہواوریہ ایسی جماعت ہونی چاہئے جوخون اوررنگ کے اعتبارسے توہندوستانی ہومگرمذاق اوررائے الفاظ اورسمجھ کے اعتبارسے انگریزہو۔‘‘(روشن مستقبل :۱۳۱،ازتاریخ التعلیم میجرباسو:۱۰۵)
اسی کے ساتھ س اتھ وہ رائے جولارڈمیکالے کے قلب کے اندرونی پردوں کے اندرچھپی ہوئی تھی وہ وہ تھی جوکہ انہوں نے اپنے والدکوایک چھٹی میں لکھ کربھیجی تھی اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
’’اس تعلیم کااثرہندوؤں پربہت زیادہ ہ۔کوئی ہندوجوانگریزی داں ہے کبھی اپنے مذہب پرصداقت کے ساتھ قائم نہیں رہتا۔بعض لوگ مصلحت کے طورپرہندورہتے ہیں مگربہت سے یاتوموحدہوجاتے ہیں یامذہب عیسوی اختیارکرلیتے ہیں ۔میراپختہ عقیدہ ہے کہ اگرتعلیم کے متعلق ہماری تجاویزپرعمل درآمدہواتوتیس سال بعدبنگال میں ایک بُت پرست بھی باقی نہ رہے گا۔‘‘(روشن مستقبل:،ازتاریخ التعلیم میجرباسو:۱۰۵)
چنانچہ ان مقاصدکاظہوربہت تھوڑے عرصہ میں ہوگیااوران کالجوں اوراسکولوں اوریونیورسیٹیوں سے جولڑکے فارغ ہوکرنکلنے لگے وہ اپنے اسلاف کے مذہب اوران کے طریقوں سے بیزاراورمتنفرہوتے تھے اورچونکہ موجودہ مذہب عیسوی میں ایسی معقولیت اورجاذبیت نہ تھی کہ و ہ اپنی طرف ان کو کھینچ سکے نیزخودانگریزبھی عموماً اس مذہب پرقائم نہیں ہیں ان کی عیسائیت صرف قومیت کے درجہ تک ہے عمل اورعقیدہ میں کوئی تاثرنہیں ہے اس لئے وہ الحاداورلادینیت کی دلدل میں پھنس کراخلاق حسنہ اورخداترسی سے بالکل دورہوجاتے رہے۔
ڈبلوڈبلوہنٹرکہتاہے:
’’ہمارے انگلوانڈین اسکولوں سے کوئی نوجوان خواہ ہندویامسلمان ایسانہیں نکلتاجواپنے آباواجداد کے مذہب سے انکارکرنانہ جانتاہو۔ایشیاکے پھلنے پھولنے والے مذاہب جب مغربی سائنس بستہ حقائق کے مقابلہ میں آتے ہیں تو سوکھ کرلکڑی ہوجاتے ہیں۔‘‘(ترجمہ رسالہ ہمارے ہندوستانی مسلمان:۲۰۲)
الغرض باوجوداس شوراشوری اوراتنی تعلیمی جدوجہدکے مظاہروں ،کمیشنوں ،کمیٹیوں اوراسکیموں کے اعلانات ،اورکالجوں ،یونیورسیٹیوں اوراسکولوں کی بلندبانگی کے جب پینتیس برس کے بعد1871ء میں پہلی مردم شماری ہوئی تو تمام ہندوستان میں خواندہ(یعنی پڑھے لکھے لوگوں کاخواہ ،اردوہو،یاانگریزی،یافارسی ، یاناگری وغیرہ)انسانوں کافیصدی اوسط(۲ء۳)پایاگیا۔وہ انگریزی نظام جوکہ نہایت بلندبانگ دعاوے کے ساتھ 1763ء یااس کے قریبی زمانہ سے شروع کیاگیاتھااوراس کے محاسن اورخوبیوں اورانسانی خدمات کے ہمیشہ راگ گائے جاتے رہے۔سوبرس سے زائدمدت میں ہندوستان میں خواندہ لوگوں کی تعدادفیصدی(۲ء۳) پیداکرسکااس سے انگریزوں کی سچائی اورانسان دوستی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ بقول مسٹرلڈلواورڈاکٹرلیٹزودیگرماہران تعلیم(حسب تصریحات اَن ہیبی انڈیا)انگریزی حکو مت سے پہلے عام طورپربکثرت خواندہ تھے۔پس کم ازکم فیصدی ۵۱خواندون کااوسط ہوناچاہئے۔ پھر1871ء میں اس اوسط کاپایاجاناکیاصریح طورپردلالت نہیں کرتاکہ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی مشئومہ اغراض کیلئے علم اوراس کی درسگاہوں کودشمنی کی نظرسے دیکھ کربربادہی کرنے کاسلسلہ ہمیشہ رکھاہے اورجومیشن وکالج وغیرہ کی حکایات سامنے رکھی جاتی تھیں وہ محض دکھاوے اورطفل تسلی کیلئے تھیں۔1871ء سے 1921ء تک پچاس برس کے عرصہ میں خواندہ لوگوں کااوسط جوکچھ بڑھاوہ صرف چارفیصدہے کیونکہ1921 ء میں خواند ہ لوگوں کی تعداد(۳ ء ۷)فیصدی ہے۔سوویت روس نے صرف پچیس برس کے اندریعنی 1918ء سے لیکر1942ء تک 8؍فیصدی تعلیم یافتوں سے 80 فیصدی یااس سے زائداپنے ملک روس میں تعلیم یافتہ بنادیئے۔جاپان نے ایک صدی سے کم میں اپنے ملک میں95 فیصدی سے زیادہ تعلیم یافتہ بنادیئے اورایسی حیرت انگیزترقی کی کہ یورپ کی حکومتیں اس سے لرزہ براندام ہوگئیں مگرانگریزی حکومت تقریباًپونے دوسوبرس میں )یعنی1765 ء سے لیکر1931ء تک فیصدی دس تعلیم یافتہ نہ بناسکی۔
’’حسب بیان مسزخان گنتھر1943ء میں جبکہ امریکہ اورانگلستان میں فیصدی ایک بھی ناخواندہ اورجاہل نہ تھاتوہندوستان میں فیصدی نوے جاہل محض اورناخواندہ پائے جاتے ہیں۔‘‘(مدینہ بجنور مورخہ9؍جون 1943ء ازکامن سنس امریکہ)
’’حالانکہ سوویت روس نے ایسے تعلیم یافتہ بنائے جنہوں نے جرمنی جیسی ترقی یافتہ اورسائنسداں قوم کوشکست دیکرنہ صرف اپنے ملک سے نکال باہرکردیابلکہ ان کے پایۂ تخت میں گھس گئے برخلاف اس کے انگریزوں نے جوتعلیم یافتہ ہندوستان میں بنائے وہ معمولی سے معمولی صنائع پرقادرنہیں ہیں سوائے اس کے کہ دفاترمیں کلرکی کی خدمتیں انجام دیں اورکسی قسم کی قابلیت ان میں نہ پائی جاتی اورکیوں نہ ہوسائمن رپورٹ کے موافق جبکہ انگلستان میں صرفہ تعلیم فی کس سالانہ ۲پونڈ ۱۵شلنگ یعنی اکتالیس روپے چارآنے اورامریکہ میں فی کس سالانہ پچاس روپیہ تھاتوہندوستان میں صرفہ تعلیم فی کس سالانہ ۹پنس یعنی ۹ آنہ تھا اور1943ء میں حسب بیان مسزجان جبکہ امریکہ فی کس خرچ کررہاتھاتوہندوستان میں برطانیہ فی کس سالانہ تین ڈالرخرچ کرتاتھا۔‘‘(امریکی اخبارکامن سنس1934ء)جب اس قدرخودغرضی اورکوتہ اندیشی اورہندوستان دشمنی سے کام لیاجائے توبجزاس کے کیانتیجہ ہوگا۔انہیں ملعون اغراض کی بناء پرہمیشہ انگریزوں نے ہندوستان میں علیم کی مدمیں ایسی ایسی مشکلات اورپیچیدگیاں پیداکیں جن کی بناء پریہ ملک انتہائی جہالت میں پھنس کررہ گیا۔ 26۔ء میں ہندوستان کی آمدنی میں سے جبکہ ڈیفنس پرفیصدی(۵ ء ۳۹) اورانتظام ملکی پر(۲ء ۳۹)خرچ کیا جارہاتھاتومدتعلیم پر(۶ء۷)صرف کیاجاتاتھا۔مدت درازسے ہندو ستا ن میں جبریہ تعلیم کامسئلہ چل ر ہاہے مگرسب سے بڑی رُکاوٹ اس کے راستہ میں یہی رہی کہ اس کام کیلئے کافی روپیہ نہیں ملا۔جب بھی تعلیمات پرسوال اٹھایاگیاتویہی جواب ہوتاتھاکہ بجٹ میں روپیہ نہیں ہے حالانکہ ساٹھ کروڑروپیہ سالانہ کے قریب فوج پراوراسی طرح بڑی بڑی رقوم پولیس وغیرہ پرصرف کی جاتی رہیں جن کی غرض صرف اس قدرتھی کہ برطانوی حکومت کی سطوت اورجبروت قائم رہے اوراس سے رعایاکاایک ایک فردحکام کے چنگل میں پھنسارہے۔
سرجان سائمن اپنی رپورٹ میں لکھتاہے:
’’ہندوستان کے مشکلات کی جڑبالیقین فوج ہے۔مرکزی حکومت ہندکے موجودہ اخراجات کا ساڑھے باسٹھ فیصدی ڈیفنس پرصرف ہوجاتاہے جودنیابھرسے زائدصرفہ ہے۔تمام مملکت برطانیہ کی نسبت دوسے تین گناتک ہندوستان ڈیفنس پرزائدصرف کرتاہے۔یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ1913 ء اور1928ء میں برطانیہ عظمیٰ کے مصارف جنگ 49فیصدی بڑھے۔نوآبادیات کے 33فیصدی مگرہندوستان کے اعداداس مدت میں دوگنے ہوگئے۔واقعہ یہ ہے کہ انگریزی افواج کے اخراجات ہندوستان میں ہیبت ناک ہیں۔ ایک انگریزسپاہی کاصرفہ ہندوستانی سپاہی سے چوگناپانچ گنازیادہ ہوتاہے۔توپ خانہ اورہوائی فوج میں ہندوستانی کو کمیشن ملناممنوع ہے۔‘‘(ہندوستان ٹائمزمورخہ ۱۳؍ستمبر۱۹۳۰ء)
برخلاف اس کے انگلستان میں جنگ عظیم کے دوران میں اس ا مرکی ضرورت محسوس ہوئی کہ ثانوی تعلیم کوجبریہ کردیاجائے۔وہ وقت ایساسخت تھاکہ سلطنت کوفوجی اخراجات کیلئے لاکھوں روپیہ روزانہ کی ضرورت ہوتی تھی مگرعین جنگ کے زمانہ میں 1918ء میں ایک قانون پاس کیاگیاجس کی روسے انگلستان کے ہربچہ کیلئے ہائی اسکول تک کی تعلیم جبریہ مفت کردی گئی اورجس طرح بن پڑااس کیلئے روپیہ فراہم کیاگیا۔(حکومت خوداختیاری:۸۵)انہیں وجوہ سے سرڈی ہملٹن نے کہاتھاکہ:
’’اگرکبھی انگریزوں کوہندوستان اس طرح چھوڑناپڑاجس طرح روس نے انگلستان چھوڑاتھاتووہ ایک ایساملک چھوڑجائیں گے جس میں نہ تعلیم ہوگی نہ حفظانِ صحت کاسامان ہوگااورنہ ہی دولت ہوگی۔‘‘ روزانہ ملت دہلی مورخہ۲۶؍جولائی ۱۹۳۲ء)

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے