انڈین یونین مسلم لیگ کی وفد نے تمل ناڈو وزیراعلی سے ملاقات کرکے اقلیتی بہبود سے متعلق مطالبات پر میمورینڈم پیش کیا

70


چنئی۔(پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کی ایک اعلی سطحی وفد نے28جون 2021کو قومی صدر پروفیسر کے ایم قادر محی الدین کی قیادت میں تمل ناڈو وزیر اعلی ایم کے اسٹالن سے چنئی انا اری والیم میں ملاقات کی اور اقلیتی بہبود سے متعلق مطالبات پر مشتمل ایک میمورینڈم پیش کیا۔ اس ملاقات کے دوران انڈین یونین مسلم لیگ ریاستی جنرل سکریٹری و سابق رکن اسمبلی کے اے ایم محمد ابوبکر، ریاستی چیف نائب صدر و سابق رکن پارلیمان ایم ایس عبدالرحمن، ریاستی نائب صدر کے نواز غنی ایم پی، موجود رہے۔ ملاقات کے دوران قومی صدر پر وفیسر کے ایم قادر محی الدین نے ا نڈین یونین مسلم لیگ کی طرف سے چیف منسٹر ریلیف فنڈکیلئے5لاکھ روپئے جمع کئے اور کورونا وباء کو قابو پانے میں انتھک محنت کرنے والے تمل ناڈو وزیر اعلی ایم کے اسٹالن،وزراء اور حکام اور عوامی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔اس ملاقات کے دوران انڈین یونین مسلم لیگ کی وفد نے تمل ناڈو وزیر اعلی ایم کے اسٹالن سے مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل میمورینڈم سونپا۔ ٭۔اقلیتی اسکولوں کیلئے سرکار ی سبسڈی۔ 2011چنئی تامبر م میں منعقدہ انڈین یونین مسلم لیگ کے اسٹیٹ کانفرنس میں اس وقت کے وزیر اعلی ڈاکٹر ایم کروناندھی مہمان خصوصی مدعو تھے۔ کانفرنس میں سال 1991/92کے بعد خود مختار اقلیتی اور غیر اقلیتی اسکولوں کیلئے سرکاری مالی اعانت سے خالی آسامیوں کو بھرنے کی اجازت دینے کیلئے ایک قرارد اد منظور کی گئی۔ ڈاکٹر ایم کروناندھی نے کانفرنس کے اسٹیج پر ہی اس قرارد اد کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور 26/02/2011کو اس تعلق سے ایک گورنمنٹ آرڈر جاری کیا۔ جس کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے اقتدار میں آتے ہیں اس سرکاری حکم نامہ کو روک دیا۔ اقلیتی برادری کی طرف سے چلائی جانے والی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کئی سالوں سے معاوضہ ادا نہیں کیا جاسکا ہے۔ لہذا، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ 26/02/2011کو ڈی ایم کے حکومت کی طرف سے جاری کردہ گورنمنٹ آرڈرکو نافذ کریں۔ ٭۔ سچر کمیٹی کی سفارش پر عمل درآمد کیلئے مشاورتی کمیٹی۔ جس دن سے آپ نے وزیر اعلی کی ذمہ داری سنبھالی ہے آپ تمل ناڈو اور اقلیتی برادری کی بہتر ی کیلئے مختلف منصوبوں کا اعلان کررہے ہیں۔ 21/06/2021کو تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں عزت مآب گورنر نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ سچر کمیٹی سفارشات کی بنیاد پر اقلیتوں کو تعلیم، ترقی، معاشی ترقی اور مکانوں کی سہولت تک آسان رسائی کیلئے یہ حکومت منصوبوں کو موثر طریقے سے نافذ کرے گی۔ نیز وقف بورڈ کی اراضی کا تحفظ مناسب انتظامیہ اور قانونی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا۔ اقلیتی برادری کی جانب سے ہم اس اعلان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ حکومت کمیٹی کی سفارشات کو بہتر طریقے سے نافذکرنے کیلئے تمل ناڈو میں ایک ایڈوائزیری کمیٹی تشکیل دینا فائدہ مند ہوگا جو سرکاری عہدیداروں کے ساتھ اقلیتی برادری کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا۔ ٭۔ نئے مساجدکی تعمیر کیلئے اجازت حاصل کرنے میں آسانی پیدا کی جائے۔ نئی مساجدتعمیر کرتے وقت ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینے کے حکومتی عمل کی وجہ سے اسلامی برادری کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف شہریوں کے توسیع والے علاقوں میں نئی مسجد بنانے کی اجازت کیلئے حکومت کی اجازت کیلئے منتظر رہنا پڑ رہا ہے۔ ہم حکومت تمل ناڈو سے درخواست کرتے ہیں کہ بلدیہ اداروں کے ذریعے عبادت گاہوں کو تعمیرکرنے کی اجازت دینے کے پرانے طریقہ کار کو ہی دوبارہ نافذ کیا جائے۔ ٭۔ علماء کیلئے کورونا ریلیف فنڈ۔ یہ قابل تحسین ہے کہ حکومت تمل ناڈو کی طرف سے کورونا ریلیف فنڈ فرنٹ لائن عملے اور مندروں میں کام کرنے والوں کو فراہم کیا جارہا ہے۔تمل ناڈو میں مساجد، عربی اسکولوں اور درگاہوں میں کام کرنے والے مذہبی اسکالر اور عملہ کورونا کے دوران زندگی گذارنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ لہذا، ہم حکومت تمل ناڈو سے درخواست کرتے ہیں کہ علماء اور ملازمین کی فلاح و بہبود بورڈ میں اندراج اور علماء پنشن وصول کرنے والے علماء کو کورونا ریلیف فنڈ مہیا کریں۔٭۔ مسلم قیدیوں کی رہائی۔ تمل ناڈو میں 38مسلم قیدیوں کوایکسپلوشیوس ایکٹ اور تعزیرات ہند کے تحت عمر قید کی سزاسنائی گئی ہے۔ مذکورہ 38قیدی اب تک جیل میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ اور پرول پر باہر جانے کے دوران ابھی تک کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ایس اے باشاہ بھی ہیں، جو کوئمبتور جیل میں 24سال قید کی زندگی گذار چکے ہیں۔ اب ان کی عمر 81سال ہے۔ عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور بار بار اسپتال بھی آ جارہے ہیں۔ سال 2008میں ڈاکٹرایم کروناندھی کی سربراہی والی ڈی ایم کے حکومت میں سابق وزیر اعلی انا کی پیدائش کی صد سالہ تقریب کے موقع پر حکومت نے 15/09/2008کے ایک حکمنامہ میں ان افراد کو جنہوں نے سات سال عمر قید کی سزا کاٹی ہو اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر والے جنہوں نے پانچ سال کی سزا پوری کی ہو، رہائی کا حکم دیا تھا۔ اس وقت صرف عمر قیدکی سزا پانے والے قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا اس لئے اگلے سال 2009میں انا درائی کی سالگرہ کے موقع پر گورنمنٹ آرڈر نمبر 792، تاریخ 14/09/2009کے تحت 10 سال جیل کی سزا پوری کرنے اور ایکسپلوشیوس ایکٹ کے تحت سزا پانے والے 10قیدیوں کو ان کے بقیہ سزا کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنے والی ا ے آئی اے ڈی ایم کے حکومت میں دھرمپوری بس جلانے کے معاملے میں سزا پانے والے مجرموں کو کوئی خاص غور و فکر کئے بغیر رہا کیا گیا لیکن امتیازی سلوک کرتے ہوئے مسلم قیدیوں میں سے کسی کو بھی رہا نہیں گیا۔ لہذ ا، انڈین یونین مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ ایکسپلوشیوس ایکٹ کے تحت سزا یافتہ قیدیوں سمیت مذکورہ بالا 38مسلم قیدیوں کو ڈاکٹر ایم کروناندھی کی حکومت کے دوران جاری کئے گئے گورنمنٹ آرڈر نمبر 792، مورخہ 14/09/2009کی بنیاد پر اب تک 14تا28سال جیل کی سز ا کاٹنے والے مسلم قیدیوں کو اس سزا کو ہی مکمل سزا مان پر انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ مکمل رہائی کا فیصلہ ہونے تک ان38مسلم قیدیوں کو عارضی طویل مدتی پیرول پر رہا کیا جائے۔ تمل ناڈو وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے انڈین یونین مسلم لیگ کے وفد کو یقین دلایا کہ ان مطالبات پرمناسب کارروائی کی جائے گی۔