اندھے منصف! تحریر :خورشید انور ندوی

50

آج بابری مسجد کی شہادت کا کیس کلیر ہوگیا.. پورے اٹھائیس سال بعد فیصلہ آگیا.. قائم کردہ مقدمہ کا مقصد مسجد کے انہدام کی تعزیری حیثیت اور ملزمان کے اقدام کی قانون حیثیت طے کرنا تھا جو آج پورا ہوگیا.. دراصل یہ فیصلہ تو بہت پہلے ہوچکا تھا کہ اس مقدمے میں کیا ہونا ہے لیکن اس دن تو عیانا بیانا ہوچکا تھا جس دن جسٹس گوگوئی اور ان کے بنچ نے رام مندر / بابری مسجد اراضی کی ملکیت کا فیصلہ کردیا تھا.. اب اس فیصلے کا انتظار کسی کو نہیں تھا سوائے تبصرہ نگاروں کے… جسٹس گوگوئی فیصلہ سناکر راجیہ سبھا چلے گئے، اور آج جسٹس سریندر کمار یادو فیصلہ سناکر اپنا آخری دن عدالت کی دہلیز پر گزار کر ریٹائرڈ ہوگئے.. اب دیش کی مزید سیوا کے لئے عدالت کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر شاید قانون سازی کی کوئی بہتر ذمہ داری قبول کرنے کی تیاری کررہے ہوں گے..کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے.. بنابریں منصف کو بھی اندھا ہونا چاہیے.. تاکہ کام اور کارندے کی فطری مناسبت قائم رہے.. شعر جذبوں کی تپش پیش کرتا ہے تو شاعر بھی جذباتی ہونا چاہئے.. وعظ دل گرماتا ہے تو واعظ کو گرم دل ہونا چاہئے..
آج حیرت اس بات پر ہوئی کہ کماری اوما بھارتی جی نے سینکڑوں بار ببانگ دہل کہا ہے کہ بابری مسجد کا ڈھانچہ ہم نے منہدم کیا ہے اور اس پر ہم کو گرو ہے.. قانون کے مسائل قانون جانے، وہ ہمیں سزائے موت دیدے، ہم بخوشی قبول کریں گے ، نہ جھوٹ بولیں گے نہ کرپا کی بھیک مانگیں گے.. یہ سارے ویڈیو جب چاہیں آپ دیکھ سکتے ہیں.. شری سریندر کمار یادو جی نہیں آپ، وہ منصف ہیں اور بربنائے فریضہ اندھے منصف ہیں.. شری سنجے راوت شیو سینا ترجمان اور پارلیمنٹیرین روز کہتے ہیں، ہم نے مسجد منہدم کی اور یہ ہمارا اعزاز ہے.. اب شاید منصوبہ اس کو کہتے ہیں، جو ویدوں میں لکھا ہو اور اپنشدوں نے اس کی شرح کی ہو..
لیکن مجھے حیرت ہے کہ فیصلہ سے لے کر اب تک، میڈیا میں اس فیصلے پر بہت کم کچھ کہا جارہا ہے اور ہاتھرس کی دلت بیٹی کی عصمت ریزی اور پولیس کی طرف سے اس کی جبری کریا کرم کا موضوع زیادہ چھایا ہوا ہے.. حالانکہ یہ بھی کوئی معقول بات نہیں لگتی.. عصمت ریزی بھی کوئی اہم موضوع ہے؟ اس کے ملزم تو مانیہ آدتیہ ناتھ یوگی جی خود بھی ہیں، جو رام راجیہ کی ایک بڑی ریاست کے سروے سروا، اور پرتھم سیوک ہیں..
مجھے اس فیصلے کا بالکل انتظار نہیں تھا.. یہ معلوم ومشہود تھا.. میری گزارش میری قوم سے ہے کہ اس کو بھولیں.. اور آگے کوئی اپیل نہ کریں.. خود کو آنے والے چیلنجز کے لئے تیار کریں.. نئی تعلیمی پالیسی کے پڑنے والے اثرات پر غور کریں، اس کے ضرر سے بچنے کی تدبیر کریں،، اس کے بہت سارے بہتر امکانات سے استفادہ کی منصوبہ سازی کریں.. این آر سی کو نظر انداز نہ کریں، کشمیر کو خود سے دور ایک علاقائی مسئلہ نہ سمجھیں، امت مسلمہ ہندیہ کا مسئلہ سمجھیں.. سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں، اور مقامی سطح پر متحرک رہیں،، مدارس ومساجد کے بہتر استعمال پر غور کریں.. جو وہ تمام زیریں مذہبی موضوعات کو ایشوز میں تبدیل نہ ہونے دیں، جو امت کو تقسیم در تقسیم کرتے ہیں اور ہمارے درمیان ہمیشہ سے رہے ہیں.. سیاسی ہزیمتوں سے بھی نہ گھبرائیں.. مختلف سیاسی رجحان اور سیاسی رائے بنے گی، بننے دیں، کسی ایک رائے اور رجحان پر ہارڈ لائنر نہ بنیں.. گفت وشنید، ڈیبیٹ، مباحثے کریں.. اور بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ، بابری مسجد، مسلم پرسنل لاء کے کیسز کے بارے میں اکابرین اور نمایندہ جماعتوں تنظیموں کے ذمہ داروں سے دل میلا نہ کریں.. ان کی کوششوں کی قدر کریں اور ناکامیوں کو وقت کا فیصلہ تسلیم کرلیں.. اپنی تنظیموں کی تنظیم نو کریں،، نیا خون شامل کریں.. اور تربیتی پروگراموں کا ایک سلسلہ قائم کریں.. راجہ رام موہن رائے کی طرح ہندوسماج میں دوسوسال پہلے سماجی مذہبی تعلیمی اصلاح کا نمونہ دیکھیں اور اس تحریک کی بارآوری دیکھیں.. کام تو سرسید نے بھی بڑا کیا، لیکن ہم نے سوسال ان کے اور ان کے مشن کے ساتھ کیا کیا؟ اب اون لائن تعلیم کے جواز عدم جواز، فعالیت غیر فعالیت پر گفتگو مذاق لگتی ہے.. اس سے گزرنا چاہئے.. بابری مسجد کہیں نہیں گئی.. یہ وقت کی بات ہے..توڑنے والوں کو ہمارا ملک سزا نہیں دے سکا تو ہم اس کے گنہ گار ہرگز نہیں.. قوم اب اپنا مزید نقصان کسی عنوان سے نہ کرے.. خود احتسابی اور رجوع الی اللہ مومن کا شعار نہیں، فریضہ ہے..