انتہائی خلوص ,جرأتمندی, اور دور اندیشی پر مبنی ہے حضرت امیر شریعت کا فیصلہ. مفتی حسین احمد ہمدم

111

مفتی حسین احمد ہمدم مدیر چشمۂ رحمت ارریہ

مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کے ذریعہ نائب امیر شریعت کے طور پر بہار کے ارریہ ضلع سے تعلق رکھنے والے اور دارالعلوم وقف دیوبند کے مقبول استاذ حضرت مولانا شمشاد رحمانی صاحب کا انتخاب اگر چہ حیرت انگیز قدم ہے مگر یہ حضرت کی دور اندیشی,جرأتمندی اور ملت کے تئیں ان کے انتہائی خلوص کی دلیل ہے.آپ نے واقعی
جوانوں کو پِیروں کا استاد کردیا.
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے نائب امیرِ شریعت کے طور پرایک صالح اور نوجوان عالم دین کو اپنا جانشین منتخب کرنا حضرت والا ہی کی بے لوث اور بے باک شخصیت سے متوقع ہوسکتی تھی. حضرت مفکر اسلام نے امارت شرعیہ میں بحیثیت امیر شریعت اور مسلم پرسنل لا بورڈ میں بھی بحیثت جنرل سکریٹری نوجوان قیادت پر اعتماد فرمایا ہے اور متعدد نوجوان علماء وفضلاء کو آگے بڑھایا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت کی عظمت اور بلند نگہی ہےاور یہی طرز فکر ملت اسلامیہ ہند کے لئے نیک فال ہے کیونکہ نوجوان قیادت وقت اور حالات سے نہ صرف باخبر ہوتی ہے بلکہ حالات کا رخ موڑدینے کی صلاحیت ہمت اور فرصت بھی رکھتی ہے . یقینی امید ہے کہ حضرت والا کی جہاندیدہ نگاہوں نے خاص طور پر مولانا شمشاد رحمانی صاحب میں جوکچھ دیکھا ہے وہ مستقبل قریب میں بہتر انداز میں پورا ہوتا ہوا نظر آئے گاان شاء اللہ العزیز.
نگاہ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں.
لہذا ہم بصمیم قلب مبارکباد پیش کرتے ہیں ملت اسلامیہ کو اور نو منتخب نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی صاحب کو بھی, اللہ ان کی قیادت کو ملت کے لئے کامیابی وسربلندی کا سبب بنائے ,ہرمشکل راہ کو آسان کرے.آمین ثم آمین.