جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہومنقطہ نظرانتخاب امیر کاحق کس کو؟

انتخاب امیر کاحق کس کو؟

امارت شرعیہ__________ کالم 5

کل سے امارت شرعیہ کے امیرشریعت کا موضوع پھر سے گردش کرنے لگاہے، یہاں تک کہ کچھ اراکین شوری کی جانب سے انتخاب امیرکی تاریخ تک کااعلان کردیاگیا،جگہ،تاریخ تک طے کردی گئی،جن کی طرف سے انتخاب امیرکااعلان کیاجاناچاہئے،انہیں اس کاعلم ہی نہیں۔

مفتی نذرتوحید مظاہری، مولانا منظورعالم اٹکی،حاجی سلام الحق صاحب نے مشترکہ طور پرپریس ریلیزجاری کیا،جس میں انہوں نے دستورامارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "تین ماہ کے اندرنائب امیرکو انتخاب کرالیاناچاہئیے تھا،لیکن وہ نہیں کراسکے،اس لئے دستور امارت کی روشنی میں 10اکتوبرکو 11بجے دن،المعہدالعالی امارت شرعیہ کے ہال میں ارباب حل وعقد کا اجلاس طلب کیاجاتاہے۔”

اس خبرکے پڑھتے ہی ہم نے دستورامارت کا کئی بارمطالعہ کیا،اس کو پڑھااور سمجھنے کی کوشش کی،اس میں یقینادفعہ 11 میں موجود ہے کہ:_”امیرکا منصب خالی ہوتو تین ماہ کے اندرنئے امیرکا انتخاب ہوناہے”_مگراختیارات نائب امیر،دفعہ 25 کے شق ”ب” میں یہ بھی درج ہے کہ: "اگرکسی وجہ سے امیرکامنصب خالی ہو،تو اس منصب کے پرہونے تک نائب امیر،امیر کی طرح نظام امارت کے نقطہ مرکزی کی حیثیت رکھیں گے،اور ان کے احکام مثل احکام امیرواجب الاطاعت ہوں گے۔”
اس طرف پریس ریلیزجاری کرنے والوں نے شایدتوجہ ہی نہیں دی۔

دفعہ 11کے تحت یقیناتین ماہ کے اندرارباب حل وعقد کااجلاس اور نئے امیرکا انتخاب ہونا چاہئیے تھا، مگر ملک میں جاری لاک ڈاون کے پیش نظر کیایہ مممکن تھا؟اسی لئے نائب امیرشریعت کی صدارت میں مورخہ 20جون کو آن لائن زوم ایپ پراراکین شوری کی میٹنگ بھی منعقد ہوئی تھی،جس میں ارکان شوریٰ کی بڑی تعداد(90 معزز ارکان)نے شرکت کی تھی،اس میں کئ اہم فیصلے لئے گئے،خاص طورسے آٹھویں امیرشریعت کے مسئلے پر کئی اہم تجاویزمنظورکی گئیں،جس میں تجویز2 یہ تھی:کہ "امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ کااس بات پر اتفاق ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے حالات نئے امیر شریعت کے انتخاب کے لیے موافق نہیں ہیں ، اس لیے حالات کے موافق ہونے کا انتظار کیا جائے ۔ حالات درست ہونے کے بعد حضرت نائب امیر شریعت انتخابی عمل کا آغاز فرمائیں گے”۔اس کی روشنی میں جب حالات کے موافق ہونے تک انتخاب کامکمل اختیار نائب امیرشریعت کو دے دیاگیا،تو پھرباربار اس موضوع کوکریدکرملک بھرمیں مفتی نذرتوحیدصاحب کیاپیغام دیناچاہتے ہیں۔

اختیارات نائب امیرشریعت کے دفعہ25 کے شق”ب”میں یہ بھی درج ہے کہ :”اگرکسی وجہ سے امیرکا منصب خالی ہو،تو اس منصب کے پرہونے تک نائب امیرامیرکی طرح نظام امارت کے نقطہ مرکزی کی حیثیت رکھتے ہیں،اور ان کے احکام مثل احکام امیرواجب الاطاعت ہوں گے”۔اس دستور میں واضح طورپر موجودہے کہ اگرکسی وجہ سے امیرکامنصب خالی ہو،اوریقینالاک ڈاون کی وجہ سے اس وقت کے حالات ایسے ہی تھے، اراکین شوری نے 20جون کو منعقد میٹنگ میں اس کابرملااقرار اعتراف بھی کیا_ جب لاک ڈاون کھلا تونائب امیرشریعت جو اس وقت مثل امیرشریعت ہیں ،نے اعلان بھی جاری کیاکہ ماہ اکتوبرمیں ان شاء اللہ امیرشریعت کا انتخاب ہوگا،مگر اس کے باوجود اراکین شوری میں سے کچھ لوگوں کا دستورکا حوالہ دے کرانتخاب کااعلان کیادستوری ہے،یاغیردستوری؟

امارت شرعیہ ایک دینی،ملی، تعلیمی،فلاحی،اورالہامی ادارہ ہے،جس کے سارے اموردستورکی روشنی مِں حل ہوتے ہیں،اس سے ہمارارشتہ دینی بھی ہے،ایمانی بھی ہے،اورچونکہ ہمارامادرعلمی بھی رہاہے،اس لئے جو صورت حال پیداکی جارہی ہے،اس نے ہم جیسے طالب علموں کو بے چین کردیاہے، باربارنصف سے زائد اراکین شوری کی تعدادگنائی اور گنوائی جارہی ہے،یہ کس مقصدکے تحت؟شورائی نظام کا مقصد؛کسی بھی ادارہ کی فلاح ہے،موچ کی لڑائی نہیں کہ ہمارے پاس اکثریت ہے،ہم جوچاہیں گے وہ کریں گے؟یہ دھمکی آمیزجملے کسی بھی دینی،وملی اداروں کوبربادکرنے کے لئے کافی ہیں۔اراکین شوری کی جو تعدادیہاں دکھلائی جارہی ہے انہیں چاہئیے کہ سب سے پہلے دستورامارت میں اراکین شوری کے جو فرائض موجود ہیں،اس کامطالعہ کریں_

فرائض مجلس شوری،دفعہ 21میں درج ہے کہ (1)امور مشورہ کے طلب میں امیرشریعت کو مشورہ دینا_(2) اغراض ومقاصد امارت شرعیہ کوبروئے کارلانے کے لئے اپنے اپنے حلقہ اثرمیں جدوجہدکرنا، (3)امیرشریعت کے فیصلوں اور فرمانوں کو اپنے اپنے حلقہ اثرامیں نافذوجاری کرنے کی کوشش کرنا۔وغیرہ۔

ظاہرہے دستورکی روشنی میں نائب امیرمثل امیرہیں،اراکین شوری کی ذمہ داری ہے کہ مثل امیرکسی بھی مسئلے میں خیرخواہانہ انداز میں مشورہ دیں،خود سے انتخاب کی تاریخ کااعلان کرنایہ کہاں کادستورہے؟پھر ایسے وقت میں جبکہ نائب امیرشریعت اس سے قبل ہی انتخاب کے لئے ماہ اکتوبر کااعلان کرچکے ہیں_یہ اعلان پر اعلان ہی نہیں_بلکہ مثل امیرشریعت کی خلاف ورزی بھی ہے_جبکہ دستور میں کہاگیاہے کہ کسی وجہ سے بھی منصب امیر خالی ہوتوان کے احکام مثل احکام امیر واجب الاطاعت ہوں گے_
ہمیں امید ہے کہ جن کی طرف سے پریس ریلیز جاری ہوئی ہے تو تردیدی بیان شائع کریں گے!!
✍خالد انور پورنوی

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے