ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  میمونہ ارم مونشاہ 

133
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ
میمونہ ارم مونشاہ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی پاکﷺ کی محبوب بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ام المومنین یعنی مومنوں کی ماں اور اللہ پاک کی نزدیک وہ معزز ہستی ہیں جن کی پاک دامنی کی گواہی خود قرآن پاک نے بھی دی۔ اور حضور اکرمﷺ سے آپ راضی اللہ عنہا کی شادی کروانے میں خود رب تعالیٰ کی مرضی اور خوشنودی شامل تھی۔
آپ رسول کریمﷺ کی تیسری زوجہ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور امِ رومانؓ کی بیٹی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی ولادت بعثت نبویﷺ کے چار سال بعد ہوئی اس وقت تک آپ کے والدین اسلام قبول کر چکے تھے۔
آپ کا اسم گرامی عائشہ، لقب صدیقہ، خطاب ام المؤمنین اور کنیت اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے ”ام عبدﷲ” تھی۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی ﷲ عنہا کے انتقال کے بعد آپ کا نکاح حضورﷺ سے ہوا۔ آپ وہ خوش نصیب عورت ہیں جن کو نبی ﷺ کے لیے خود ﷲ تعالیٰ نے منتخب فرمایا۔ نکاح سے پہلے خواب میں نبی ﷺ کو دکھلایا اور پھر آپ نبی ﷺ کے نکاح میں آئیں۔
شادی سے قبل حضورﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ پوچھا “کیا ہے؟” جواب دیا کہ “آپﷺ کی بیوی ہے۔” آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ کی جھلک مبارک تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا “مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر۔ حق مہر چار سو درہم مقرر ہوا۔ نکاح کے بعد حضورﷺ تین سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے ہجرت فرمائی جس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ بھی ساتھ تھے لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں قیام پذیر رہے اور مدینہ ہجرت مکمل ہونے کے بعد جب وہاں تسلی بخش صورتحال سامنے آئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے اپنے اہل و عیال کو مدینے بلوالیا۔ یوں شوال کے مہینے میں حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔ رخصتی کے لیے شوال کے مہینے کے انتخاب میں بھی ایک حکمت تھی وہ یہ کہ قدیم زمانے میں چونکہ شوال کے مہینے میں طاعون آیا تھا اور بڑا جانی نقصان ہوا تھا اس لیے اہل عرب اس مہینے کو منحوس سمجھتے اور اس میں شادی بیاہ وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کا انتخاب فرماکر اس غلط خیال اور جاہلانہ توہم کی عملی طور پر بیخ کنی فرما دی۔
رخصتی چونکہ کم سنی میں ہوئی تھی اس لیے اس عمر کی بچیوں کی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھیل کود کی بڑی شوقین تھیں۔ محلے کی لڑکیاں ان کے پاس جمع رہتی۔ ان کوسب سے زیادہ دو کھیل مرغوب تھے ایک گڑیوں کے ساتھ کھیلنا اور دوسرا جھولا جھولنا۔
حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ؓ گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ رسول اﷲﷺ پہنچ گئے۔ ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی تھا جس کے دو پر بھی تھے۔ آپﷺ نے پوچھا
“یہ کیسا گھوڑا ہے؟ کیا گھوڑے کے بھی پر ہوتے؟”
آپؓ نے برجستہ جواب دیا “حضرت سلیمان ؑ کے گھوڑوں کے بھی تو پر تھے۔” اس جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بچپن میں بھی کس قدر دینی معلومات رکھنے والی اور حاضر جواب تھیں۔
آپ ﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہا سے بہت محبت تھی۔ ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاص نے حضور سے دریافت کیا کہ
“آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟” آپ نے فرمایا کہ “عائشہ ؓ عنہا کو” عرض کیا گیا کہ
“اے اللہ کے رسولﷺ! مردوں کی نسبت سوال ہے۔” فرمایا کہ عائشہ کے والد ابوبکر صدیق کو۔”
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہا کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے مبارک واسطہ سے امت کو دین کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ عنہ فرماتے ہیں کہ “صحابہ کرام کو کبھی ایسی مشکل پیش نہ آئی جس کے بارے میں ہم نے حضرت عائشہ ؓ عنہا سے پوچھا اور ان سے اس کے بارے میں کوئی معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔”
حضور اقدسﷺکو آپ ؓ سے بے انتہا محبت تھی، بعض اوقات دوسری ازواج مطہرات بشری تقاضے سے اس بات کو محسوس بھی کرتیں اور کبھی کبھی احتجاج تک کی نوبت آجاتی تھی۔ اسی نوع کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں لکھا ہے کہ
حضرت ام سلمہ رضہ اللہ عنہا نے ایک بار آپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ اپنے اصحاب کو کہیں کہ وہ جو ہدایا اور تحائف وغیرہ بھیجتے ہیں وہ تمام ازواج کے یہاں قیام کے دنوں میں بھی بھیجا کریں۔ صرف (حضرت) عائشہؓ کی باری کے دن ہی کیوں بھیجتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے ان کی بات پورے تحمل سے سنی اور پیار بھرے لہجے میں فرمایا “اللہ کی قسم !مجھے تو وحی بھی عائشہ کے حجرے میں آتی ہے، تم میں سے کسی کے حجرے میں نہیں آتی۔”
ایک اور واقعہ ہے کہ حضرت زینبؓ ایک دن حجرہ عائشہؓ میں تشریف لائیں۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ وہ کافی غصے میں تھیں کہنے لگیں “آپﷺ کو ابوبکر کی بیٹی کے علاوہ بھی کسی کی خبر ہے؟ وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں اور حضرت عائشہؓ ان کی بیٹیوں کی عمر کی تھیں، پھرحضرت عائشہؓ کی طرف رخ کیا اور دل کی بھڑاس نکالنے لگیں، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ میں کن اکھیوں سے اللہ کے رسول ﷺ کی طرف دیکھ رہی تھی ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دیں یا پھر انہیں جواب دینے کی اجازت دیں۔ نبی کریم ﷺ نے رخ انور حضرت عائشہؓ کی طرف کیا اور فرمایا “تم خود جواب دو۔” حضرت عائشہ ؓ نے جو ترکی نہ ترکی جواب دیا تو حضرت زینب ؓ دیکھتی ہی رہ گئیں۔ یہ دو سوکنوں کا معاملہ تھا اس لیے حضور اکرم ﷺ درمیان میں نہیں آئے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ اپناجوتا گانٹھ رہے تھے اور پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح جلد مبارک سے نکلتے تو ان میں نور کی چمک پیدا ہوتی جو بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔ چہرہ انور نورانی تجلیوں کا محور بنا ہوا تھا جیسے چاند پر تاروں کی جھڑی لگی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ مسلسل یہ منظر دیکھ رہی تھیں، پھر روئے انور کے قریب آئیں اور کہنے لگیں
“اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم! آج اگر شاعر ابو کبیرہذلی موجود ہوتا اور آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا تو اسے اپنے اشعار کا درست مصداق مل جاتا جو اس نے اپنے خیالی محبوب کی شان میں کہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا  “سناؤ! ذراہم بھی سنیں۔ حضرت عائشہؓ نے یہ شعر پڑھا:
ترجمہ: “میں نے اس کے روئے تاباں پہ نگاہ ڈالی تو اس کی شانِ درخشندگی ایسی تھی جیسے بادل کے کسی ٹکڑے میں بجلیاں کوند رہی ہوں۔”
یہ سن کرللہ کے رسول ﷺ نے دستِ مبارک میں جو کچھ تھا اسے رکھ دیا اور حضرت عائشہؓ کا ماتھا چوم کر فرمایا “عائشہؓ! جو سرور مجھے اس کلام سے حاصل ہوا ہے۔ وہ تجھے اس نظارے سے بھی حاصل نہ ہوا ہوگا۔”
یہ بھی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ اس میں مسلم شوہروں کے لیے اسوہ بھی ہے کہ خاتون خانہ کی تعریف وحوصلہ افزائی کرنا کوئی غیر اخلاقی یا غیر شرعی بات نہیں بلکہ محبوب دو جہاں ﷺ کی سنت ہے۔
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“آؤ عائشہ! دوڑ میں مقابلہ کرتے ہیں۔ چناںچہ مقابلہ شروع ہوا،چوں کہ حضرت عائشہ ؓ دبلی پتلی تھیں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ سے آگے نکل گئیں۔ پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد جب حضرت عائشہ ؓ کا وزن بڑھنے لگا تھا حضور ﷺ نے فرمایا “پھر مقابلہ کرتے ہیں” اور آپ ﷺ آگے نکل گئے اس موقع پر دل لگی کرتے ہوئے فرمایا
“یہ اس دن کا جواب ہے۔”
ایک مرتبہ جانِ دو عالمﷺ نے ایک موقع پر فرمایا:
عائشہؓ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتا چل جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا وہ کیسے؟ آپﷺ نے فرمایا جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو ربِ محمدﷺ کی قسم اور جب کوئی ناراضی ہو تو کہتی ہو ربِ ابراہیم ؑ کی قسم!
حضورﷺ اپنی رفیقہ حیات کو راضی کس طرح فرمایا کرتے تھے۔ اس کا دل فریب و قابل تقلید نمونہ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
اگر حضرت عائشہ ؓ ناراض ہوتیں تو جب وہ پانی پینے لگتیں تو رسول اکرم ﷺ ان کے ہاتھ سے پیالہ لے لیتے اور جہاں حضرت صدیقہ ؓنے منہ رکھ کے پانی پیا تھا ان کو دکھا کر اسی جگہ منہ رکھ کر پانی نوش فرماتے اور ساری ناراضی ختم ہوجاتی۔
حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے مرض الوفات میں دوسری ازواج مطہرات کی اجازت سے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں منتقل ہوئے۔ یوں آخری ایام میں سب سے زیادہ محبوب ﷺ کی خدمت کا شرف حضرت عائشہ ؓ کو ملا۔ ان کی چبائی ہوئی مسواک حضور ﷺ نے استعمال فرمائی۔ ان کی گود میں سر رکھ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور ان کے حجرے میں مدفون ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا پر جب منافقین نے تہمت لگائی تھی تو ان کی صفائی کسی انسان نے نہیں دی بلکہ خود رب کائنات نے آسمان نے دی اور سورہ نور کی تقریباً بیس آیات میں ان کی شانِ معصومیت ایسے بھرپور اور پُراثر و پرکشش انداز میں بیان فرمایاکہ جس سے بہتر انداز میں آپ کی معصومیت کو بیان ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ تاقیامت یہ آیات مبارکہ ان کی طہارت، عفت، پاکدامنی اور پاکیزگی کی گواہی دیتی رہیں گی۔
اور ایسا افک کا واقعہ میں ہوا  سب سے پہلے ضروری ہے کہ لفظ “افک” جو سورہ نور کی آیت “ان الذین جاء وابا لافک عصبہ منکم” میں آیا ہے، کے بارے میں تحقیق کی جائے۔
اس سلسلہ میں فخررازی کہتے ہیں۔ “افک” جھوٹ اور افتراء سے بالا تر ہے اور اس کے معنی “بہتان” ہیں۔ ایک ایسا امر جو اچانک آپ کو منقلب کرے، اصل افک کے معنی “القلب” یعنی کسی چیز کو اس کی اصلی صورت سے گرا نا ہے اور اس کے معنی بدترین جھوٹ اور بہتان ہیں جو کچھ مسلم ہے اور اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے اور قرآن مجید کے مفسرین کے لئے بالاتفاق ثابت ہے وہ یہ ہے کہ: یہ بہتان اور افتراء نبی اکرمﷺ کے گھر اور آپﷺ کی بیویوں میں سے ایک کے بارے میں واقع ہوا ہے، یعنی اس قسم کی ناروا تہمت لگانے والے گروہ کا اصلی مقصد یہ تھا کہ خود پیغمبر اسلامﷺ پر ضرب لگا دیں، کیونکہ پیغمبر اسلامﷺ کی بیوی پر تہمت لگانا، پیغمبر اکرمﷺ کی طرف سے اپنی بیویوں کو کنٹرول کرنے میں بے لیاقتی ثابت کرنا تھا اور جب پیغمبر اکرمﷺ کی بیوی کے لئے اس قسم کا کام انجام دینا ممکن ہو تو دوسروں کی بات ہی نہیں۔ اس بنا پر اسلام کے تمام فرقے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامﷺ کی بیویاں، اس آیت میں خداوند تعالیٰ کی طرف سے “افک” کے عنوان سے متعارف کرائے ہوئے برے عمل کو انجام دینے سے پاک و منزہ ہیں۔ پس اس آیہ شریفہ کے بارے میں اختلاف کس چیز پر ہے؟ اختلاف اس میں ہے کہ اس آیہ شریفہ کے نازل ھونے کا سبب کیا ہے؟ اور پیغمبر اکرمﷺ کی کس بیوی پر یہ تہمت لگائی گئی ہے؟ بعض نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی والدہ جناب ماریہ قبطیہ کا نام لیا ہے اور بعض نے جناب عائشہ پر یہ تہمت لگائی ہے۔
فخررازی، صرف جناب عائشہ سے نقل کی گئی کئی روایتوں کے پیش نظر لکھتے ہیں
“پیغمبر اسلامﷺ جب کہیں سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تھے تو اپنی بیویوں میں سے ایک کو اپنے ہمراہ لے جانے کے لئے قرعہ کشی فرماتے تھے۔ غزوہ بنی المصطلق میں قرعہ میرے نام پر نکلا اور میں پیغمبر اسلامﷺ کے ہمراہ چلی۔ راستہ میں ایک پڑاو پر ہم رک گئے اور میں ایک کام کی وجہ سے کاروان سے ذرا دور چلی گئی۔ جب میں واپس آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا گلو بند گم ہو چکا ہے۔ لہذا اس کو ڈھونڈنے کے لئے کاروان سے دور ہوئی اور جب میں واپس لوٹی تو میں نے وہاں پر کسی کو نہیں پایا، پس اس امید سے کہ کاروان والے میری عدم موجودگی سے آگاہ کوکر ضرور مجھے ڈھونڈنے آئیں گے، اسی جگہ پر ٹھہری رہی۔ صفوان بن المعطل، جو ہمیشہ کاروان کے پیچھے پیچھے چلتا تھا اور کاروان سے چھوٹ گئی چیزوں کو جمع کرتا تھا، مجھے دیکھ کر پہچان گیا اور مجھے اپنے مرکب پر سوار کرکے کاروان کے پاس پہنچا دیا لیکن لوگوں نے وہ سب کچھ کہا، جو انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا، اور انہوں نے مجھ پر تہمت لگائی، اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن ابی پیش پیش تھا”
اس روایت کے مطابق جناب عائشہ وہ خاتون ہیں، جو اس مشکل سے دوچار ہوئیں اور خداوند کریم نے اس آیہ شریفہ کے ذریعہ ان سے یہ تہمت دور کی۔ اس کے باوجود نا معلوم وجوہات کی بناء پر اہل سنت کے اکثر علماء اس آیہ شریفہ کی شان نزول کو جناب عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جانتے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضہ اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک بار حسرت میں نبی کریمﷺ سے کہنے لگیں کہ کہ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں کنیت رکھوں لیکن میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ تو آپﷺ نے فرما دیا کہ کہ اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر کنیت رکھ لو، جس پر انہوں نے اپنے بھانجے سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ کے نام پر کنیت رکھ لی۔
ایک موقع پر حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل آتے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا کہ ان پر بھی سلام اور ﷲ کی رحمت ہو۔ اس خصوصیت میں سوائے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے کوئی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریک نہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا ﷲ تعالیٰ کی اپنے اوپر ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں کہ مجھے ﷲ تعالیٰ نے نو خوبیاں ایسی عطا فرمائیں جوکسی عورت کو نہ ملیں:
میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے سب سے محبوب دوست ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی ہوں۔ مجھے پاکیزہ گھرانے میں پیدا فرمایا گیا میں نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں اسلام کی ہی بات سنی۔ نکاح سے پہلے میری تصویر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ نبی ﷺ نے میرے سوا کسی اور کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا، میرا نکاح فقط سات برس کی عمر میں اور رخصتی نو برس کی عمر میں ہوئی۔ نبی ﷺ پر وحی اس حالت میں بھی نازل ہوجاتی تھی کہ آپ میرے لحاف میں ہوتے تھے، امت کو میری وجہ سے تیمم کی اجازت ملی۔ میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو کھلی آنکھوں سے دیکھا، اورمجھ سے مغفرت اور رزق کا وعدہ اﷲ نے فرمایا ہے۔ میری برأت میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وحی نازل فرمائی۔ بوقت وصال نبی اکرمﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، آپ کاآخری عمل یہ تھا کہ آپ نے میری چبائی ہوئی مسواک استعمال فرمائی۔ نبیﷺ کی تدفین میرے حجرے میں ہوئی۔
خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں بھی ان کا فتویٰ قبول کیا جاتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے شریعت اسلامیہ کے متعلق احکام و قوانین اور اخلاق و آداب کی تعلیم کے حوالے سے نبیﷺ سے اتنا کچھ حاصل کرلیا تھا کہ علمی اعتبار سے کوئی مرد و عورت ان کی معلومات کے ہم پلہ نہیں تھا۔ آپ اپنی ذات میں فقیہہ، مفسرہ اور مجتہدہ تھیں۔ تفسیر، حدیث، اسرار شریعت، خطابت اور ادب و انساب میں ان کو کمال حاصل تھا۔ شعرا کے بڑے بڑے قصیدے ان کو زبانی یاد تھے۔ آپ کا شمار مدینہ منورہ کے ان علماء میں ہوتا تھا کہ جن کے فتاویٰ پر عام مسلمانوں کو مکمل اور بھرپور اعتماد تھا یہاں تک کہ بڑے بڑے صحابہ کرام کو بھی کسی مسئلے میں الجھن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ آپ سے معلوم کرایا کرتے تھے کیوں کہ سب کو اس بات کا اعتراف تھا کہ حضور اکرمﷺ کے احکام کی تبلیغ و اشاعت میں ام المؤمنین کا کوئی ثانی نہیں۔
جیسا کہ ابومسلم عبدالرحمنؒ کا قول ہے کہ حضورﷺ کی احادیث و سنن، فقہی آراء، آیات کے شان نزول اور فرائض (میراث) میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا۔ آپ راضی اللہ عنہا نے عورتوں، مردوں میں اسلام اور اس کے احکام و قوانین، اخلاق و آداب کی تعلیم دینے میں پوری زندگی گزار کر اسلام کی بہت بڑی خدمات انجام دیں۔ان کا شمار ان صحابہ ؓ میں ہوتا ہے جن سے کثرت سے احادیث مروی ہیں۔ ان کی مرویات کی تعداد دو ہزار سے زائدہے۔
آپ سے 2210 احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم روایت ہیں جبکہ اِن میں سے 174 متفق علیہ ہیں، یعنی اِن کو امام بخاری نے صحیح بخاری اور امام مسلم نے صحیح مسلم میں سنداً روایت کیا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے متفق روایات 174 لی ہیں جن میں امام بخاری 54 میں منفرد ہیں اور امام مسلم 69 احادیث میں منفرد ہیں۔[145] 2210 احادیث والی تعداد کو سید سلیمان ندوی نے سیرت عائشہ میں لکھا ہے مگر یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ صرف مسند احمد بن حنبل میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 2524 ہے۔
اہل علم کا کہنا ہے کہ امت کو آدھا دین صرف حضرت عائشہؓ کے وسیلے سے ملا، اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے دو حصے ہیں۔ گھر کی زندگی اور گھر سے باہر کی زندگی۔
سرور دو عالمﷺ کی گھریلو زندگی کا علم امت کو حضرت عائشہ ؓ کے ذریعے ہوا۔ حضرت عائشہ ؓ کم سن تھیں اور فطری طور پر انتہائی ذہین اور مجتہدانہ دماغ رکھتیں تھیں، یہی وجہ ہے کہ قربت رسول ﷺ کا جس قدر انہوں نے فائدہ اٹھایا، محبوب کے شب وروز کو محفوظ کیا، یہ انہی کا خاصہ ہے۔
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے اپنی ازدواجی زندگی اس خوبصورتی کے ساتھ گزاری کہ ایک مسلمان عورت کے لیے ان کی زندگی کے تمام پہلو، شادی، رخصتی، شوہر کی خدمت و اطاعت، سوکن سے تعلقات، بیوگی، خانہ داری کے تمام پہلو اس قدر روشن ہیں کہ ان کی تقلید کرکے ایک مسلمان عورت دونوں جہاں میں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔
بروز پیر 12 ربیع الاول 11ھ مطابق 8 جون 632ء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی سے ملحقہ حجرہ عائشہ میں وفات پائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک اُس وقت 18 سال تھی۔ آپ 9 سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تب آپ کی عمر 18 سال تھی اور قریباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال 6 ماہ 5 یوم (قمری) اور 46 سال 1 ماہ 5 یوم (شمسی) تک بقید حیات رہیں۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے 9 سال، خلافت راشدہ کے مکمل 30 سال اور امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 17 سالوں کی وہ عینی شاہد تھیں۔ اِس تمام عرصہ میں آپ کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے، کبھی آپ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دیتی نظر آتی ہیں اور کبھی آپ عبادات و ایمانیات کے متعلق تعلیم دیتی ہیں، کبھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کے روشن پہلو بیان فرماتی ہیں اور کبھی امت میں اصلاح کے واسطے مہمل و کجاوے میں مسند نشیں نظر آتی ہیں۔ گویا اِس تمام مدت میں آپ کی شخصیت محور و مرکز بنی ہوئی تھی اور تمام مملکت اسلامیہ میں آپ بحیثیت مرکز و محور تسلیم کی جاتی تھیں، خلافت راشدہ کے اختتام پر اور اُموی خلافت کے زمانہ میں یہ شانِ جلالت اوجِ کمال پر رہی۔ حرم نبوت کی یہ شمع اپنی آب و تاب سے ملت اسلامیہ کو ہر وقت روشن کرتی رہی، اِس بات کا اندازہ اِس سے کیا جاسکتا ہے جس روز آپ کا اِنتقال ہوا تو مدینہ منورہ میں کثرت اژدھام کی وجہ سے عید کا گماں ہونے لگا تھا۔
نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد تقریباً اڑتالیس(48) سال تک یہ امت کی محسنہ، عالم اسلام کے شب وروز کو انوارالہٰی اور اسوۂ حسنہ سے مسلسل اور متواتر منور کرتے رہنے کے بعد چند روز علیل رہ 58 ہجری رمضان المبارک کی17 تاریخ کو آپ سخت بیمار ہوئیں۔ نماز وتر کی ادائیگی کے بعد آپ اس جہاں سے اس جہاں کو کوچ فرما گئیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مدینہ طیبہ کے قائم مقام حاکم تھے انہوں نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجوں اور بھتیجوں قاسم بن محمد بن ابو بکرؓ، عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو بکرؓ، عبداللہؓ بن عتیق، عروہ بن زبیرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ نے نبی کریم ﷺ کی پیاری بیوی اور امت محمدیہﷺ کی ماں کو قبر میں اتار دیا۔
بلاشبہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تمام مسلمان عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کے بتائے طریقوں پر عمل کرنے سے ہر عورت وہ رتبہ حاصل کر سکتی ہے جس کی بدولت وہ اپنے مجازی خدا سے لے کر حقیقی خدا کی نظروں اور دل میں گھر کر سکتی ہے