امیر شریعت سابع کے انتقال سے ملت اسلامیہ ہند ناقابل تسخیر قیادت سے محروم ہوگئی ، مفتی رضوان قاسمی.

87

بیرول 3 / اپریل ( پریس ریلیز) قحط الرجال کے اس نازک دور میں جب کہ چاروں طرف یہ اُمت اندرونی و بیرونی انتشار و خلفشار اور مختلف قسم کے مسائل و مشکلات سے دوچار ہے ایسے حالات میں مختصر علالت کے بعد پٹنہ کے پارس اسپتال میں اچانک مرد آہن ، فولادی صفت کی حامل شخصیت ، امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی رحمانی صاحب سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کے انتقال سے ملت اسلامیہ ہند ناقابل تسخیر قیادت سے محروم ہوگئی انا للہ وانا الیہ راجعون حضرت امیر شریعت سابع کے انتقال پر مذکورہ تعزیتی کلمات کا اظہار جاری اپنے پریس بیان میں صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہی انہوں نے جاری اپنے پریس بیان میں کہا کہ گزشتہ کل 2/ اپریل کی شام میں حالات حاضرہ اور حضرت امیر شریعت کی صحت و علالت پر نو منتخب نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی مدظلہ العالی سے دیر تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی پرسوں یکم اپریل کی رات حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ کے دونوں پرسنل موبائل نمبر پر میں نے صحت و علالت سے متعلق تاثرات اور دعائیہ کلمات میسیج کیئے لیکن افسوس کے وقت موعود آ پہونچا اور حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ ہمارے درمیان سے رخصت ہو گئے جید عالم دین مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ گزشتہ 28 / سالوں میں مجھے بارہا ان کے بے حد قریب رہنے ، سینکڑوں گاؤں دیہات قصبہ و شہر کے دینی و اصلاحی اسفار میں شریک رہنے کی سعادت حاصل رہی ہے بس اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ کی بال بال مغفرت فرمائے انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ دے امارت شرعیہ سمیت ان کے زیر اثر تمام اداروں کی حفاظت فرمائے اور ملک و بیرون ملک میں پھیلے ہوئے ان کے مریدین ، متوسلین ، متعلقین اور عقیدتمندوں کو صبر جمیل عطا کرے آمین ثم آمین خانوادہ رحمانی اور سلسلہ رحمانیہ کے تمام احباب سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ بزرگوں کی امانت خانقاہ رحمانی کا فیض سابقہ روایات کے ساتھ قائم و دائم رہے