امیر شریعت سابع کا وصال دراصل ابوالکلام ثانی کی رحلت               از مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول

111

دربھنگہ : 3 / اپریل2021 ء کی سہ پہر تقریباً 3 / بجے مدرسہ رحمانیہ واقع اپنی رہائش گاہ پر تھا کہ اچانک ایک صاحب نے یہ خبر دی کہ حضرت صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہی نظروں کے سامنے ایک عجیب اندھیرا سا چھا گیا یقین نہیں آرہا تھا میں نے سوچا کہ ابھی کل کی بات ہے حضرت والا کے علالت کی خبر سن کر نصف شب میں میں نے ان کے دو پرسنل واٹشپ نمبر پر دعائیہ کلمات کے میسیج کیا ابھی ان کے رفقائے کار میں ان سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں مگر قدرت کے آگے کس کا بس چلنے والا ہے موت برحق اور یہ دنیا فانی ! میرے مرشد امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی رحمہ اللہ رحمتہً واسعہ کا وصال دراصل امام الہند مولانا ابوالکلام ثانی کی رحلت ہے وہ اپنی ذات میں انجمن اور کئی دماغوں کے اکیلے انسان تھے قدرت نے انہیں ملت اسلامیہ ہند کیلئے انمول ہیرا بنایا تھا وہ اس ملک میں ہمارے اسلاف کا عکس جمیل تھے حضرت رحمہ اللہ سے کم از کم 30 / سالہ قدیم ہمارے تعلقات تھے اللّٰہ پاک کا فضل و کرم ہے کہ اس درمیان ان کے ہمراہ خانقاہ رحمانی ، امارت شرعیہ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے سینکڑوں گاؤں دیہات شہر و قصبات کے دینی دعوتی اصلاحی و تبلیغی دورے کی سعادت ملی میں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا دنیا اور دنیاداروں سے بے نیاز ، اشاعت دین اور مسلمانوں کے دینی معاشی سیاسی اور تعلیمی استحکام کی ان کو ہمیشہ فکر رہتی تھی یہی وجہ ہے کہ ہارے بزرگوں نے انہیں مفکر اسلام کا لقب دیا انہوں نے مدارس دینیہ کے علاوہ عصری علوم کے اداروں کے قیام و استحکام کی طرف بھی خوب توجہ ڈالی اور اس گوشے میں بھی انہیں بے نظیر کامیابی حاصل ہو رہی تھی دیکھتے ہی دیکھتے کئی معیاری ادارے قائم ہوگئے مگر افسوس صد افسوس کہ ناقابل تسخیر قیادت و صلاحیت کے حامل اس عظیم انسان کو ظلم و عدوان اور تعصب و نفرت کے اس ماحول میں جب ملک و ملت کو ان کی سخت ضرورت تھی اللہ نے اپنے پاس بلا لیا لیکن نا امیدی ہمارے یہاں کفر ہے تھوڑا پیچھے چلیئے اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے اوائل میں جب ایک طرف برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہو چکی تھی اور انگریزی حکومت ابھی مکمل جوان بھی نہیں ہوئی تھی کہ انگریزی حکومت کے ظلم و جبر اور بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نت نئی شازسوں اور عیسائی مشنریوں کو مکمل آزادی کی وجہ سے ہر طرف بدامنی پھیلتی جا رہی تھی ایسے حالات میں فتنہ قادیانیت و عیسائی مشنریوں کا قلع قمع کرنے کے لئے مشہور بزرگ اور حضرت مولانا شاہ فضل رحماں گنج مرادابادی رحمہ اللہ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ بانی دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنئو نے مونگیر میں خانقاہ رحمانی قائم فرمایا جہاں سے ایک طرف تزکیہ نفس، اصلاح باطن اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے کا عمل شروع ہوا تو دوسری طرف فتنہ قادیانیت اور عیسائی تحریکوں کا قلعہ منہدم کرکے مسلمانوں کو دین پر جمنے کا حوصلہ دیکر مرتد ہونے سے بچایا گیا اپنے قیام کے تقریبا سوا سو سالہ تاریخ میں خانقاہ رحمانی آج تک بانی خانقاہ کے اصول پر عمل پیرا ہے جس کے مریدین و عقیدت مند برصغیر ہندوستان پاکستان و بنگلہ دیش کے ساتھ بی دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں شمال مشرقی بہار کے مسلمانوں کا خانقاہ رحمانی سے محبت و عقیدت کا ابلتا ہوا چشمہ ایک ایسا لازم و ملزوم فیضان صدق و صفا کا حسین احساس پیش کرتا ہے جو شاید کہیں اور نظر آتا کیونکہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشینوں کی یہ خصوصیت رہی پے کہ وہ سبھی حضرات ہر دور میں علم و اخلاق، اخلاص و روحانیت، بصیرت و ذہانت، جرآت و عزیمت، دور اندیشی، سیاسی و ملی مسائل کی نباضی، اصابت رائےاور جہد مسلسل کا عزم پر مصمم جیسی دیگر خصوصیات و کمالات میں یکتائے زمانہ رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ سبھی حضرات خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں یہاں تک کہ موجودہ سجادہ نشین مرشد کامل شیخ طریقت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی دامت برکاتہم کا سلسلہ نسب 26 / ویں پشت میں پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے جا ملتا ہے اور پھر وہاں سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم تک، آپ کےآباو اجداد سمر قند و بخارا میں قیام پذیر تھے وہاں سے خاندان کے کچھ بزرگ ملتان تشریف لائے اور پھر ملتان سے خاندان کے دو بزرگ حضرت شاہ بہاءالحق حبیب اللہ ملتانی و آپ کے نامور فرزند ارجمند حضرت شاہ ابوبکر چرم پوش جیسے کبار اولیاء اج سے تقریبا چار سو سال پہلے یوپی کے مظفر نگر سے قریب قصبہ کھتولی میں آباد ہوئے اس وقت یہ جگہ بالکل ویران اور غیر آباد تھی ایک مرتبہ حضرت سید شاہ ابوبکر چرم پوش رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری نسل کبھی ولایت سے خالی نہیں رہے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت سے لیکر آج تک یہ سلسلتہ الذہب مرشد کامل شیخ طریقت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی زیب سجادہ خانقاہ رحمانی مونگیر تک برابر جاری و ساری رہا ہر صبح و شام سینکڑوں ہزاروں مختلف اقسام کے ضرورت مندوں کا ہجوم خانقاہ رحمانی کے در پر لگا رہتا سبھوں کا خیال دوست و دشمن سبھوں کے ساتھ حسن و سلوک اور ہر ایک کا مطمئن ہو کر واپس جانا اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے یوپی کے قصبہ کھتولی مظفر نگر سے خاندان کے بزرگ حضرت خواجہ سید شاہ محمد غوث علی کانپور تشریف لائے انگریزی حکومت نے جس طرح دینی مدارس و مراکز کو برباد کرنے اور ملت اسلامیہ ہند کو نئے نئے فتنوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کی فتنہ قادیانیت بھی اس میں ایک اہم فتنہ تھا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ایک لڑکے کی شادی مونگیر کے ایک صاحب ثروت اور بڑے ذہین آدمی حکیم خلیل الرحمٰن کی لڑکی سے کیا اور فتنہ قادیانیت میں حکیم صاحب کو استعمال کیا دیکھتے ہی دیکھتےمونگیر و بھاگلپور کا بڑا حلقہ فتنہ قادیانیت کی زد میں آ گیا یہ صورتحال دیکھ کر مونگیر کے نواب احمد اللہ خان جو اعلی حضرت فضل رحماں گنج مرادابادی رحمہ اللہ کے مرید تھے اعلی حضرت سے درخواست کی کہ قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی کو فتنہ قادیانیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مونگیر بھیجا جائے چنانچہ نواب صاحب کی درخواست قبول کرتے ہوئے حضرت شاہ فضل رحماں گنج مرادابادی رحمہ اللہ نے قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی صاحب کو مونگیر بھیجا اور آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مسلمانوں کو مرتد بنانے کی شازس کےخلاف مناظرہ ، کتابچہ کی اشاعت اور ایسا موثر قلمی جہاد فرمایا کہ قادیانیت کو اس علاقے سے اپنا بوریا بستر لپیٹنا پڑا ، بات تقریبا 1900ء کے شروع کی ہے دربھنگہ ضلع کا شمال مشرقی حلقہ جو بہت بڑی مسلم آبادی کا علاقہ ہےاس وقت عمومی جہالت کا دور دورہ تھا اس علاقے کے موضع جمالپور میں علاقہ میرٹھ یوپی کے رہنے والے ایک بزرگ حضرت مولانا عبد الباقی صاحب رہتے تھے انکی اور قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا محمد عارف ہرسنگھپوری رحمہ اللہ کی مشترکہ کوششوں سے مسلمانان علاقہ میں دینی شعور بیدار کرنے کے لئے 1322ھ میں علاقہ سوپول بیرول کا پہلا جلسہ ہوا اس میں قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ کو شرکت کی دعوت دی گئی جسے حضرت مونگیری رحمہ اللہ نے قبول فرمایا اور شریک ہوئے اس میں قدسی نفوس علماء کرام کی موثر اصلاحی تقریریں ہوئیں جس سے لوگوں کو نئی تحریک ملی حرارت ایمانی میں اضافہ کا احساس ہوا اور اسی موقع پر مدرسہ رحمانیہ سوپول کا مبارک قیام عمل میں آیا اور پھر مدرسہ رحمانیہ سوپول کے قیام کے بعد الحمدللہ جو دینی بیداری اور تعلیمی تحریک اٹھی اس سے نہ صرف یہ پورا خطہ متاثر ہوا بلکہ قدیم بہار اور بنگال و نیپال تک کہ تشنگان علوم نبوت نے یہاں سے سیرابی حاصل کی جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جاتے ہیں اور پورے ملک سے علماء کرام ومشائخ عظام کی وقتا فوقتا آمد کا سلسلہ شروع ہوا مگر یہ دور ہی عجیب ہے حق کو چھپانے اور من گھڑت باتوں کو حقیقت کا روپ دیکر پھیلانے والے نکمے احباب وافراد اور اس فن کے ماہرین محض اپنے مفاد کی خاطر کچھ بھی کرنے اور گمراہی پھیلانے سے ذرہ برابر بھی نہیں ڈرتے جس کا نتیجہ اجتماعی نقصان کے سوا کچھ نہیں ملی اتحاد و عمل کے اصول پر معاشرے کے قیام اور بزرگوں کے قدرومنزلت کی بقا کیلئے ایسے خود غرض اور ضمیر فروش لوگوں کو پہچاننے اور معاشرے میں الگ تھلگ کیئے بغیر صاف ستھرے ماحول کا قیام ناممکن ہے تاریخ کے صفحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدرسہ رحمانیہ سوپول کے قیام کے برسوں بعد متھلانچل کے اس کوردہ پسماندہ و ناخواندہ علاقہ میں متعدد بار جس قدآور دینی شخصیت کی آمد ہوتی رہی وہ قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ ہیں یہاں تک کہ پھر عرصہ دراز کے بعد موضع یکہتہ ضلع مدھوبنی کی رہنے والی ایک خدا ترس دیندار خاتون مسمات حسن بانو کی دعوت پر 1920ء میں قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ یکہتہ و قرب و جوار کے دینی دعوتی اصلاحی دورہ پر آئے آپ کی آمد کی خبر سن کر پڑوسی ملک نیپال تک سے بڑی تعداد میں لوگ آنے لگے آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد روزانہ اتنی بڑی ہو جاتی کہ کئی جانور روزانہ ان کی ضیافت کے لیے ذبح ہوتے تھے حضرت مونگیری رحمہ اللہ جب تک اس پورے علاقے میں رہے پورا ماحول بقعہ نور بنا رہا اور لوگوں کے دلوں میں محبت الہی کی آگ بھڑکتی رہی الحمدللہ آج بھی اس گئے گزرے دور میں خانقاہ رحمانی ک بوریہ نشیں سجادہ نشینوں کی یہ خصوصیت ہے کہ جہاں بھی جاتے ہیں یہ نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے حضرت مونگیری کے بعد ملک کے مسلمانوں کو ان کے لائق فرزند ارجمند مرد آہن امیر شریعت حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ صاحب رحمانی رحمہ اللہ سے بھی وہی لگاو وہی محبت و عقیدت رہی جو مجددالعلم والعرفان قطب عالم حضرت مولانا سید شاہ محمد علی مونگیری رحمہ اللہ سے تھی اور امیر شریعت رابع قطب زماں حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ صاحب رحمانی رحمہ اللہ نے بھی اس تعلق کو نہ صرف نبھایا بلکہ دور دراز دشوار گزار راہوں کا سفر کر کے اسے خوب تر بڑھایا عام مسلمانوں کے ایمان و عقائد کی اصلاح فرمائی جگہ جگہ دینی مدارس و مکاتب قائم فرمائے الحمد للہ بار بار لوگوں کو حضرت کی زیارت نصیب ہوئی اور دینی و دنیاوی دونوں زاویے سے فیض یاب ہوئے خوب فائدہ اٹھایا جن کے بہت سے مریدین و متوسلین آج بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اس وقت ہمارے وطن عزیز میں جس طرح سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور اقتدار کے بھوکے پیاسے ملک کو بحرانوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مسلمان قوم جس غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے سب سے بڑی جانی و مالی قربانیاں دی ہیں آج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر نام نہاد سیاست داں دستور ہند کی روح کے منافی جو حرکتیں کر رہے ہیں ایسے دشوار گزار اور صبر آزما حالات میں خانقاہ رحمانی کی سابقہ روایات کے مطابق ملت اسلامیہ ہند کی سربلندی کے لئے باد مخالف کی پرواہ کئیے بغیر ماضی کی یاد تازہ کرنے کا عزم و حوصلہ تیار رکھنے کی ضرورت ہے جو اسلامی شعائر اور ملک کے اتحاد و یگانگت کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کے مفاد کو ہضم کرنے کی فکر کو ناکام بنائے شمال مشرقی بہار کی بیشتر آبادی گاوں دیہات اور چھوٹے چھوٹے قصبوں پر مشتمل ہے جہاں ہندو مسلمان سب آپس میں مل جل کر رہتے ہیں لیکن بعض گاوں دیہات ایسے بھی ہیں جہاں خالص مسلم آبادی ہے یا مسلمانوں کی اکثریت ہے جیسے متھانچل میں ململ، یکہتہ، مدھےپور، سنگرام، عمری پچہی، ستروپٹی، پپرولیا، شکری، بھوارہ، اونسی، بسفی، چندرسینپور، نظرامحمد، شکری، تریانتی، بتھیا، گرول، ککوڑھا، ہرسنگھپور، ہریٹھ، اجرہٹہ، جمالپور، ناڑی کومئی، بورام، منسرا، جھگڑوا، سریارتنپورہ، بردی پور، للہول، بھریہار، علاقہ کوشیشور استھان، تاجپور، ساتنپور، حیاگھاٹ بلاسپور، اسی طرح سیمانچل کا پورا خطہ وغیرہ غرض کہ متھلانچل و سیمانچل کی بیشتر آبادی کا آج بھی آپ ملک و علاقہ کے بااثر چنندہ علماء کرام کے ساتھ موقع بہ موقع اصلاحی دورہ ، جگہ جگہ وعظ و نصیحت کی مجلسیں ، جس سے عام مسلمانوں کو اپنے ایمان و عقیدے کو درست کرنے اور سنت رسول کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے بڑی تعداد میں لوگ دست حق پرست پر بیعت ہو کر اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ددجنوں قسم کے باہمی اختلافات و تنازعات کا تصفیہ ہوتا ہے جس سے اجتماعیت برقرار رہتی ہے اور لوگوں کو ملی مسائل سے واقفیت بھی ملتی ہے عام مسلمان انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانے اور اپنی نئی نسل کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی فکر کرتے ہیں اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان بزرگوں کے قدم بار بار اس خطے پر پڑنے کی وجہ سے یہ پورا علاقہ ملک و صوبہ کے دیگر علاقوں کی بنسبت بہت حد تک جہالت، شرک و بدعت، اور عدم اجتماعیت سے محفوظ ہے اور ماضی بعید میں علاقہ متھلانچل و سیمانچل کے اندر بڑی تعداد میں مدارس اسلامیہ کا قیام نصف صدی قبل سے ہی موجود ہے جو اس پسماندہ و کوردہ علاقہ کی آبیاری کا کامیاب فریضہ انجام دے رہے ہیں ہم مسلمانان شمال مشرقی بہار کے لیے یہ بات لائق صد افتخار ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی یاد تازہ کرنے اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کا عزم حاصل کرنے کی خاطر خانقاہ رحمانی جیسے پلیٹ فارم سے ہم سب منسلک ہیں ہیں اور سیدی و مرشدی مفکر اسلام حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی رحمہ اللہ کے وصال کے معاً بعد آج 9/ اپریل2021 ء بروز جمعہ کو ان کے سچے جانشین اور خلف رشید حضرت مولانا سید شاہ احمد ولی فیصل رحمانی ازہری دامت برکاتہم کی خانقاہ رحمانی کی سجادگی کیلئے کرونا وبا کی وجہ سے ایک سادہ روحانی تقریب میں تاج پوشی ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ اسے بے حد قبول فرمائے اور خانقاہ رحمانی کے اس پانچویں زیب سجادہ کو اپنے اسلاف و بزرگوں کا مظہر اور عکس جمیل بنائے ،آمین ثم آمین ” تیری لحد پے خدا کی رحمت تیری لحد پر سلام پہونچے : مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے ( رابطہ 9931417259)