امیر شریعت رابع: ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح

31
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
امیر شریعت رابع امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری،جمعیت علمائے بہار کے سابق ناظم،خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں، جامعہ رحمانی مونگیر کے سابق استاذ ،سینکڑوں مدارس اور تعلیمی اداروں کے صدر اور سرپرست، تحفظ شریعت کے مرد میداں، ملی، تعلیمی اور رفاہی کاموں کے سرگرم قائد، ملک اور بیرون ملک میں بے شمار مسلمانوں کے پیر و مرشد ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح کا وصال رمضان المبارک ١٤١١ھ کی تیسری شب  کوخانقاہ رحمانی مونگیر میں ہوگیا، دوران تراویح ہی دل کا دورہ پڑا، حجرہ میں لے جاۓ گئے اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی، سب کچھ منٹوں میں ختم ہو گیا، ١٩/مارچ ١٩٩١ء کی شام شریعت و طریقت کا آفتاب غروب ہوگیا، ٣/رمضان المبارک ١٤١١ھ کو بعد نمازِ مغرب جامعہ رحمانی کے صحن میں ناظم امارت شرعیہ مولانا سید نظام الدین صاحب (جو بعد میں امیر شریعت سادس ہوئے) جنازہ کی نماز پڑھائی اور اپنے نامور والد قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رح کی قبر کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے،
حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی بن قطب عالم مولانا محمد علی مونگیری بن سید عبد العلی بن سید غوث علی بن سید راحت علی بن سید امان علی رحمھم اللہ کی ولادت ٩/جمادی الثانی ١٣٣٢ھ روز منگل خانقاہ رحمانی مونگیر میں ہوئی، سلسلہ نسب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے جاملتا ہے، ابتدائی تعلیم خانقاہ رحمانی میں حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی رح کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، پھر گیارہ سال کی عمر میں ہی حیدرآباد مولانا عبد اللطیف رحمانی صاحب کی خدمت میں بھیج دئیے گئے، ایک سال ہی میں صرف و نحو، منطق اور دیگر فنون سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوگئی، وہاں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے، اور ہدایہ اولین تک کی تعلیم یہیں پائی، طالب علمانہ زندگی کے چار سال یہاں لگاۓ، ١٩٣٠ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور یہاں کے نامور اساتذہ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب، حضرت علامہ ابراہیم صاحب بلیاوی اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح سے کسب فیض کیا، آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا حیدر حسن خاں محدث کا نام بھی آتا ہے۔١٩٣٣ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت ہوئی۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے دوران ہی حضرت مولانا محمد علی مونگیری کا وصال ہوگیا، ظاہر ہے یہ عمر تصوف و سلوک کے کُنہیات سمجھنے کی نہیں تھی، اس لیے تصوف و سلوک کی تربیت بعد میں آپ نے حضرت مونگیری کے خلیفہ حضرت مولانا محمد عارف صاحب سے حاصل کی جو ہرسنگھ پور ضلع دربھنگہ کے رہنے والے تھے، اس راہ میں مرتبہ کمال پر پہونچنے کے بعد مولانا محمد عارف صاحب نے اجازت بیعت و خلافت سے نوازا، ١٩٤٢ء میں جب حضرت مولانا لطف اللہ صاحب نے سفر آخرت اختیار کیا تو حضرت مونگیری کے تمام خلفاء و مریدین نے خانقاہ رحمانی کا سجادہ نشیں  آپ کومقرر کیا  آپ نے مخلوق خدا کی روحانی تربیت  کے ساتھ جامعہ رحمانی کی نشأۃ ثانیہ کا کام کیا، برسوں خود بھی تدریسی کاموں سے منسلک رہے، بعد میں ہجوم کار کی وجہ سے یہ سلسلہ باقی نہ رہ سکا؛ لیکن آپ کی خصوصی توجہ اور طریقہ کار کی وجہ سے جامعہ اور خانقاہ دونوں کی پورے ملک میں ایک شناخت بن گئی،اور اس کا شہرہ ملک و بیرون ملک میں پھیلا۔
 ١٩٣٥ء میں آپ جمعیت علمائے بہار کے ناظم منتخب ہوئے،١٩٣٧ء میں مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے، ٢٤/مارچ ١٩٥٧ء کو حضرت مولانا ریاض احمد سنت پوری کی صدارت میں منعقد اجلاس میں آپ امیر شریعت منتخب ہوئے، اس وقت مجلس ارباب حل و عقد کے نام سے کوئی مجلس نہیں تھی، بڑے علماء اس موقع سے مدعو ہوتے تھے اور امیر شریعت کا انتخاب عمل میں آتا تھا، انتخابی اجلاس مدرسہ رحمانیہ سپول دربھنگہ میں ہوا تھا، نہ پولنگ بوتھ بنا تھا اور نہ ہی بیلٹ پیپر کی چھپائی ہوئی تھی، مولانا حفظ الرحمن صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند کی شرکت بحیثیت مشاہد ہوئی  تھی، مجلس میں حضرت مولانا عبد الصمد رحمانی نائب امیر شریعت دوم، مولانا محمد عثمان غنی ناظم امارت شرعیہ، مولانا عبد الرحمن صاحب گودنا(جو پہلے نائب امیر شریعت بعد میں امیر شریعت خامس بنے) قاضی احمد حسین صاحب، مولانا مسعود الرحمن، مولانا محمد عثمان سوپول رحمھم اللہ وغیرہ شریک تھے۔
انتخاب امیر کے بعد شروع کے پانچ سال بڑی آزمائش اور کشمکش کے تھے؛ لیکن جب اللہ کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو رفقاء کار بھی اسی انداز کے عطا فرماتا ہے؛ چنانچہ ١٩٦٢ء میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح جامعہ رحمانی کی معلمی چھوڑ کر امارت شرعیہ آگئے، اور جلد ہی مولانا سید نظام الدین صاحب کو امارت شرعیہ لانے میں کامیاب ہو گئے، حضرت امیر شریعت رابع کی فکر و تحریک کو ان حضرات نے زمین پر اتارنے کا کام کیا اور امارت شرعیہ کا کام پھلینے لگا، امارت شرعیہ کا دفتر خانقاہ مجیبیہ میں تھا، وہاں سے قاضی نورالحسن اسکول کی موجودہ عمارت میں منتقل ہوا، قریب کی ایک اور بلڈنگ خریدی گئی،بڑی جد و جہد کے بعد امارت شرعیہ کے دفتر کی موجودہ اراضی سرکار سے لیز پر لی گئی اور ١٥/نومبر ١٩٨١ء کو اس زمیں پر حضرت امیر شریعت رابع رح نے دفتر امارت شرعیہ کی سنگ بنیاد ڈالی، اس موقع سے آپ نے فرمایا: 
“میں عمر کی اس منزل پر پہنچ چکا ہوں جہاں لوگ نئے منصوبے نہیں بناتے؛لیکن خدا کے فضل اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے مخلصین پر اعتماد کرتے ہوئے یہ نیا کام شروع کیا جارہا ہے، قومی اور ملی کاموں کا انحصار افراد پر نہیں ہوتا، میں رہوں یا نہ رہوں اسے پورا کرنے کی ذمہ داری آپ سبھوں کی ہے”۔
جب پارلیمنٹ میں یکساں شہری قانون لاکر مسلم پرسنل لا بورڈ کو کالعدم قرار دینے کا منصوبہ بنایا گیا تو آپ میدان میں نکلے، ٢٨/جولائی ١٩٦٣ء کو  امارت شرعیہ کے زیر اہتمام انجمن اسلامیہ ہال پٹنہ میں ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی، جس کی صدارت مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے فرمائی، مولانا ابواللیث اصلاحی امیر جماعت اسلامی نے افتتاح فرمایا، کئ سال کی تگ و دو کے بعد ١٤/١٣ /مارچ ١٩٧٢ء کو دارالعلوم دیوبند میں نمائندہ اجتماع ہوا، اور اس کے فیصلہ کی روشنی میں ٢٨/٢٧/ دسمبر ١٩٧٢ء کو ممبئی میں وہ تاریخی اجلاس ہوا، جس میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی، اپریل ١٩٧٣ء میں حیدرآباد اجلاس میں آپ جنرل سکریٹری منتخب ہوئے اور تادم آخری اس عہدے پر فائز رہے۔آپ نے پورے ہندوستان میں گھوم گھوم کر اعلان کیا:
“میں اس کے لئے تیار ہوں کہ ہماری گردنیں اڑادی جائیں، ہمارے سینے چاک کر دیۓ جائیں، مگر ہمیں یہ برداشت نہیں کہ”مسلم پرسنل لا “کو بدل کر ایک “غیر اسلامی لا” ہم پر لاد دی جائے ہم اس ملک میں باعزت قوم اور مسلم قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں۔”
آپ کے وقت میں امارت شرعیہ نے خدمت خلق اور عصری تعلیمی اداروں کے قیام کا فیصلہ کیا، مولانا سجاد ہوسپیٹل اور ام ام یو ہائی اسکول آسنسول اس کام کا نقطۂ آغاز تھا، جو بعد کے امراء کے دور میں پھیلا، حضرت کی خدمات کا دائرہ اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اس پر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور آئندہ لکھی جاتی رہیں گی،واقعہ یہ ہے کہ “دامان  نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار”۔
میں اپنے ہی ایک مضمون کے اقتباس پر اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔
“مولانا دارالعلوم دیوبند کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوں یا ندوۃ کی مجلس شوریٰ میں کوئی مسٔلہ زیر بحث ہو، جامعہ رحمانی مونگیر کو عروج و ارتقاء کے مختلف مدارج سے گزارنا ہو یا خانقاہ کی مسند سجادگی ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کی تحریک ہو یا اس کا دور نظامت، شاہ بانو کیس میں نفقہ مطلقہ کے خلاف احتجاج ہو یا ایمرجنسی میں خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف تحریر و تقریر، امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی حیثیت سے تنفیذ و شریعت اور توسیع دارالقضاء کی جہد مسلسل ہو یا انڈیپنڈنٹ پارٹی کی سیاسی جد و جہد ،قریہ قریہ دعوت دین کا کام  ہویا مدارس کی سرپرستی سب تحفظ شریعت اور دفاع اسلام ہی کے مختلف عنوان ہیں، اور ہر عنوان ایک ضخیم کتاب کا مضمون، اس لیے امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب نوراللہ مرقدہ نے بجا لکھا ہے کہ”ہندوستان میں اسلام کی حفاظت و صیانت کی تاریخ جب بھی لکھی جاۓ گی وہ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری اور نامکمل ہوگی، بلکہ میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ مولانا کے کالبد خاکی میں جو خون گردش کررہا تھا اور جسم و جان کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے جو سانس کی آمد و رفت تھی اگر زبان حال کو سننے والے کان ہوتے تو معلوم ہوتا کہ وہ تحفظ شریعت ہی کے لیے وقف تھے”۔