امیر شریعت خامس: حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب رح مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

40
امیر شریعت خامس: حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب رح
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
عارف باللہ، فنا فی اللہ، رہبر شریعت،پیر طریقت، سابق نائب امیر شریعت،پانچویں امیرشریعت، سابق استاذ مدرسہ وارث العلوم نیا بازار چھپرا، سابق صدر مدرس مدرسہ حمیدیہ گودنا چھپرہ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کا وصال حی کلنک شریف کالونی، پٹنہ میں ٢٩/ستمبر ١٩٩٨ء مطابق ٨/جمادی الآخر ١٤١٩ھ بروز منگل بوقت ساڑھے سات بجے شام ننانوے سال کی عمر میں ہوا، جنازہ کی نماز اگلے دن ٣٠/ستمبر کو گیارہ بجے دن میں امارت شرعیہ میں نائب امیر شریعت و ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رح نے پڑھائی، دوسری نماز جنازہ ٣/بجے شام کو اسی دن مدرسہ حمیدیہ گودنا چھپرہ میں مولانا محمد مظہر صاحب مہتمم جامعہ سراج العلوم سیوان کی امامت میں ادا ہوئی، اور تدفین مسجد حمیدیہ کے اتر جانب احاطہ میں عمل میں آئی، پس ماندگان میں ایک لڑکا مولانا ابو داؤد سفیاناور دو لڑکیاں عائشہ صدیقہ (ولادت ١٩٤٦ء) اورصالحہ بشری کو چھوڑا، حضرت کی اہلیہ بی بی خیر النساء عرف گلو بوبو پہلے ہی رمضان ١٩٨٧ء میں جنت مکانی ہوچکی تھیں، حضرت کی یہ دوسری اہلیہ تھیں، پہلی کے لاولد فوت ہونے کے بعد حضرت نے ان سے نکاح ثانی کیا تھا۔
حضرت مولانا عبد الرحمن بن منشی بشارت علی بن محمد بقاء اللہ عرف  بکاءوبن فقیر الدین عرف فقیرہ بن محمد بہاء الدین کی ولادت ١٩٠٣ء میں پورہ نوڈیہ دربھنگہ میں ہوئی، ان کی والدہ کا نام بی بی بتولن تھا، ابتدائی تعلیم  گھر پر ہی ہوئی، آگے کی تعلیم مڈل اسکول دربھنگہ، مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ، مدرسہ اسلامیہ بتیا، مدرسہ حمیدیہ گودنا چھپرہ میں پائی، فضیلت کی سند مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ سے ١٩٣٠ء میں اول پوزیشن حاصل کر کے پائی اور طلائی تمغہ سے نوازے گئے،آپ کے نامور اساتذہ میں مولانا ریاض احمد صاحب سابق شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند، مولانا مفتی سہول احمد صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند، مولانا ظفر الدین بہاری مصنف مؤذن الاوقات اور صحیح البہاری، مولانا عبدالشکور آہ، مولانا دیانت حسین، اور مولانا شاہ عبید اللہ امجھری کا نام آتا ہے۔
تدریسی زندگی کا آغاز مدرسہ محمودیہ راج پور ملک نیپال میں صدر مدرس کی حیثیت سے کیا، ١٩٣٢ء میں مدرسہ وارث العلوم نیا بازار چھپرہ کے صدر مدرس بنے، ٢٩/جون ١٩٤٢ء میں مدرسہ حمیدیہ گودنا چھپرہ آگئے اور دس سال تک صدر مدرس کی حیثیت سے خدمت انجام دی، سبکدوشی کے بعد اپنے استاذ و مرشد حضرت مولانا ریاض احمد صاحب سنت پوری کی حکم کی تعمیل میں تازندگی مدرسہ حمیدیہ میں ہی قیام پذیر رہے اور آخری آرام گاہ بھی یہیں بنی۔
آپ کا علم انتہائی پختہ اور حافظہ بے مثال تھا، فقہ کی بیشتر متداول اور معروف کتابوں کی عبارتیں حافظہ کی گرفت میں تھیں، تصوف کے علوم و معارف، رموز و نکات سے بھی کامل واقفیت تھی، اس فن میں انہوں نے کسب فیض حضرت شاہ نعمت اللہ میاں عباد اللہ اندروا ضلع گوپال گنج، حضرت مولانا بشارت کریم گڑھولوی اور حضرت مولانا ریاض احمد صاحب بتیا ضلع مغربی چمپارن سے علی الترتیب کیا، اور ایک کے فوت ہونے کے بعد دوسرے سے منسلک ہوۓ، چھ سال کی عمر سے کوئی نماز قضا نہیں ہوئی، نماز باجماعت کا اہتمام سنتوں کی پابندی، صلہ رحمی، اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک، مہمان نوازی، تقوی،پرہیزگاری، کم گوئ آپ کی زندگی کا لازمہ تھا، باجماعت نمازوں میں انہیں سورتوں کی تلاوت کرتے اور کراتے جن کا ذکر احادیث مبارکہ میں آیا ہے، ملک کی آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف جد و جہد میں بھی آپ نے بھر پور حصہ لیا۔جمعیت علماء کی عظیم الشان کانفرنس چھپرہ میں کروائی اور اس کے کاموں کو آگے بڑھانے میں اپنی توانائیاں لگائیں۔
امارت کے حوالے سے آپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ نے بانئ امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاحسن محمد سجاد رح اور چاروں امراء شریعت کے ساتھ کام کیا اور ہر چار سے بیعت امارت کی، یہ امتیاز کسی اور کو حاصل نہ ہوا، ١٤/جمادی الاولی ١٣٩٣ھ مطابق ١٦/جون ١٩٧٣ء کو حضرت امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح نے آپ کو نائب امیر شریعت نامزد کیا اور تقریباً ١٨/سال آپ نے ان کے نائب کی حیثیت سے امارت شرعیہ کی خدمات انجام دیں، ١٤/رمضان المبارک ١٤١١ھ مطابق ٣١/مارچ ١٩٩١ء کو امارت شرعیہ کے جماعت خانہ میں مجلس شوریٰ اور مدعوئین خصوصی نے آپ کو پانچویں امیر شریعت کی حیثیت سے منتخب کیا، ا
امیر شریعت خامس نے امیر کی حیثیت سے ساڑھے سات سال خدمت انجام دیں، نائب امیر شریعت کے طور پر ان کے مہ و سال کو جوڑ دیا جاۓ تو یہ مدت ساڑھے پچیس سال بنتی ہے، اس دور میں بھی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید محمد نظام الدین صاحب رحمھما اللہ نے امیر شریعت کی دعا ءنیم شبی اور آہ سحر گاہی کے ساتھ ان کے دست و بازو بن کر کام کیا اس طرح امارت کے کام میں مزید وسعت پیدا ہوئی، مولانا سجاد میموریل اسپتال میں کئ شعبوں کا اضافہ ہوا، اور ٹکنیکل تعلیم کے ادارے وجود میں آئے، جس سے نوجوانوں کو معاشی اعتبار سے خود کفیل بنانے کا بڑا کام لیا گیا، تربیت افتاء و قضاء کا کام پہلے امارت شرعیہ کے دارالافتاء، دارالقضاء اور قضاء کی تربیت کے لیے منعقد تربیتی اجتماعات سے لیا جاتا تھا، حضرت کے وقت میں المعھد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء جیسا ادارہ وجود میں آیا، جس سے ہر سال پچیس مفتیان و قضاۃ تربیت لے کر نکل رہے ہیں۔
پانچویں امیر شریعت حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید نظام الدین صاحب رحمھما اللہ پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے اور اپنے دور میں تعمیری و ترقیاتی کاموں کو انہیں کی طرف منسوب کیا کرتے تھے، فرمایا کرتے:ناظم صاحب اور قاضی صاحب یہی دونوں امارت کے روح رواں ہیں، مجھ کو ۔۔۔۔۔انتشار و افتراق مسلمانوں میں نہ ہو اور ادارہ کو نقصان نہ ہو اس وجہ سے امیر شریعت چن دیا تو اختلاف سے تو مسلمان بچ گئے۔کام تو یہی حضرات کرتے ہیں، میں تو صرف دعا کرتا ہوں (حیات عبد الرحمن  ص ٢١٩-٢٢٠)
مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے معارف اعظم گڈھ میں حضرت کے انتقال پر اداریہ لکھا تھا، یہی اس مضمون کا مسک الختام ہے۔
“گومولانا عبد الرحمن صاحب کی امارت کا دور سات آٹھ برس کے قلیل زمانے کو محیط ہے، تاہم یہ بڑا زریں عہد تھا جس میں امارت کے مختلف شعبوں میں بڑی وسعت و ترقی ہوئی، مالی و انتظامی حیثیت سے بھی یہ دور مستحکم رہا، کئ اہم دینی تعلیمی اور فلاحی ادارے وجود میں آئے، سماجی خدمت، ریلیف اور راحت رسانی کے متعدد کام انجام پاۓ، تبلیغ و دعوت دین کا کام بڑے پیمانے پر ہوا، علمی، تعلیمی اور تربیتی نظام بہتر رہا، بہت سے دینی مکاتب قائم ہوۓ، عصری و دینی درسگاہوں کا نظام مستحکم ہوا، ٹکنیکل کے تعلیم کے شعبے کھلے، مولانا سجاد اسپتال کو وسعت و ترقی ملی، مولانا منت اللہ رحمانی ٹکنیکل انسٹی چیوٹ، المھد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء اور وفاق المدارس الاسلامیہ بہار وغیرہ کا قیام عمل میں آیا”(حیات عبد الرحمن ص ٦٦-٦٥)
اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اور امارت شرعیہ کے کاموں کے آگے بڑھانے کا ہم سب کو حوصلہ عطا فرمائے۔آمین