امریکی الیکشن.. ہندوستانی تناظر میں..

35

تحریر :خورشید انور ندوی

دنیا بہت سکڑ چکی ہے.. گلوب ولیج بن چکا ہے.. صرف تیز رفتار رابطہ کے وسائل کی ترقی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے تعلقات اور مفادات کی ناقابل تقسیم یکجائی کی وجہ سے بھی.. سیاسی سفارتی تعلقات سے آگے تجارت ومعیشت کے اشتراک اور ٹکنالوجی خاص طور سے ڈیفنس اور اسپیس ٹکنالوجی کے میدان میں باہمی تبادلے اور فروخت کی بنیاد پر بھی.. کم یا زیادہ سبھی ملک ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے ہیں.. دیکھا جائے تو انسانی تاریخ کے انتہائی دلکش اور خوبصورت دور سے تعلقات کے اس دور کی تعبیر کرنی چاہیے.. انسانوں کے درمیان قربت انسیت مودت اور افہام و تفہیم کی فضا تو ادیان سماویہ کا ہدف رہا ہے.. اسلام نے تو اس کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا.. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اطراف عالم میں سفارتی مشن کی ترسیل اور تہذیبوں اور سلطنتوں کے نمایندوں سے مراسلت ومکاتبت کی پہل اسی قربت کی ابتداء تھی.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانی آبادی کو اخوت کی مالا میں پرو دینا چاہتے تھے.. اور اس مشن کے لئے اتحاد و یگانگت کی سب سے فطری بنیاد، دین فطرت کو بنانا چاہتے تھے.. جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام شروع کیا، میری فہم کے مطابق یہ ربانی ہدایت کے مطابق ہوا ہوگا.. ورنہ اس معاشرہ میں اتنی بڑی اور جری پہل سوچ سے آگے کی بات ہے.. یہ پہل خود رسول اکرم کی نبوت کے آفاقی ہونے کی دلیل ہے.. .. نبوت کی ساری باتیں قدسیت سے مربوط ہوتی ہیں.. اس سے صرف نظر، اگر انسانوں کے درمیان کوئی قربت، محض بقائے باہم، اور قابل احترام اصولوں پر بھی حاصل کی جائے تو یہ بھی بہترین انسانی یافت کہی جانی چاہیے..

لیکن ہمیشہ سے انسانوں کی سوسائٹی میں کچھ مریض ذہنیتیں بھی پنپتی رہتی ہیں.. جو تعلقات کی بنیاد منفی سوچ اور تخریب کے ہتھکنڈوں پر رکھتی ہیں.. سوء اتفاق کہ اس وقت ہمارے میں تخریب کی یہی قوت منہ زور ہے… ورنہ حکمران جماعت اور عام ہندو ذہن کو مسٹر ٹرمپ سے کیوں اتنی قربت، ہمدردی اور حمایت ہے، کہ ان کی کامیابی کی تمنا اور مندروں میں ہون کیا جائے.. جب کہ موجودہ امریکی صدر نے پیشہ ورانہ ویزوں کے لئے ٹارگٹ کرکے ہندوستانی پروفیشنلز کے لئے مشکلات پیدا کیں.. مقامی آبادی کا کوٹہ بڑھاکر ہندوستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لئے چیلنج بڑھادیا.. ہماری آئی ٹی کمپنیوں کا 70٪ریونیو امریکہ سے ہی آتا ہے.. طرح طرح کے قوانین وضع کرکے ہزاروں ہندوستانی ملازمین کو لٹکے رہنے کی کیفیت سے دوچار کیا، اور ان کی کاروباری پوزیشن تو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کیا.. اگر کووڈ نہ آتا اور سارے کام آئی ٹی کے سہارے فاصلے سے کرنے کی مجبوری نہ آتی تو ہماری ان کمپنیوں کے برے دن آچکے تھے.. اور لاکھوں گھر بے آسرا ہوسکتے تھے… اس مصیبت میں مسٹر ٹرمپ کی ہٹ اور حسد کو بڑا دخل تھا.. اس کے باوجود ان سے ہمدردی اور ان کی یاری کا گان گانا اور مان بکھان کرنا کیوں؟ صرف اس لئے کہ اسلام اور مسلمانوں کی تئیں اس بدگو اور کم دماغ کا نظریہ دھندلا تھا…؟

انتہائی افسوس کی بات ہے ہمارے ملک نے ایک غیر کے ساتھ منفی یگانگت قائم اور اپنی ایک بڑی آبادی کا خیال نہیں رکھا.. وہ تو اتنا اجنبی تھا کہ ہمارے وزیراعظم مہاشے اس کا نام لکھ کر بھی صحیح نہیں پڑھ سکے.. پھر بھی ٹرمپ سے ہمدردی کمال کی رہی.. یہ کون سی قربت تھی؟ اس کا جواب بی جے پی اور مسلم بیزار عام ہندو ضرور تلاش کریں.. جب کہ اندرون ملک مسلمانوں اور مسلمان تنظیموں کا کوئی مستقل اور کھلا موقف کسی فریق کے بارے میں نہیں تھا.. ہاں امریکہ میں مسلمانوں نے ایک سروے کے مطابق 70٪ٹرمپ کے خلاف ووٹنگ کی.. یہ ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہے..

ہمارے چانکیوں کو پڑوسی چین کے خلاف امریکن مفادات کے تحفظ کی کیا جلدی تھی.. سرحد پر انتہائی درجہ کی کشیدگی کس ملک کے مفاد ہوتی ہے..؟ وہ بھی اپنے لئے نہیں ایک ایسے” دوسرے” کے لئے جو کبھی اپنا نہیں ہوا… حیرت ہے کہ منفی جذبات اور عناد سے مغلوب پالیسی بھی کسی ایسے ملک کی ہوسکتی ہے جو مستقبل میں دنیا کے نقشے پر اپنی اہمیت کا متلاشی ہو…. ٹرمپ کی بلاجواز حمایت کا نقصان کس طرح پورا کیا جائے گا اس کی ذمہ داری انھیں کے کندھوں پر ہے جنھوں نے یہ کارعث کیا ہے.. حیرت ہے کہ ٹرمپ نے امریکی انتخاب میں ہندو کارڈ کھیلا اور ہم مگن رہے جب کہ ہمیں اس پر سفارتی احتجاج کرنا چاہیے تھا.. کہ ہمارا سماجی تانا بابا بکھرتا ہے. ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے..لیکن یہ بھی ایک دستور ہے کہ چھوٹے لوگ بڑوں سے متاثر ہوجاتے ہیں…ایک طویل سیاسی تاریخ، اور ابھرتی معیشت رکھنے والے ملک سے یہ امید کیوں کر کی جا سکتی ہے محض مسلم دشمنی کے جذبے میں یکسانیت کی بنیاد پر کسی کی حمایت کی جاسکتی ہے.. ملکی پالیسی میں صرف اور صرف ملکی مفاد کو بنیاد بننا چاہئے نہ کہ تنگ جذبات کو.. اور ہم بین الاقوامی تعلقات کے اس اصول سے منحرف ہوئے ہیں.. جس نے بھی یہ کیا، ملک کا نقصان کیا.. اور کچے پن کا ثبوت دیا.. بالکل ایسے ہی جیسے ہم فرانس کے صدر کے کی جانب کھڑے ہوئے ہیں اور دنیا یا تو ان کے خلاف کھڑی ہے یا فاصلے پر کھڑی ہے..