جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزامریکی افسر کاسوال :بھارت کے لاکھوں مدارس کا کھربوں صرفہ کہاں...

امریکی افسر کاسوال :بھارت کے لاکھوں مدارس کا کھربوں صرفہ کہاں سے آتاہے؟

امریکی افسر کاسوال :بھارت کے لاکھوں مدارس کا کھربوں صرفہ کہاں سے آتاہے؟
بھارت کے عام مسلمانوں کے چندے سے:مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی استاذ امریکی افسر کاسوال :بھارت کے لاکھوں مدارس کا کھربوں صرفہ کہاں سے آتاہے؟حدیث دارالعلوم دیوبند
انوارالحق قاسمی
بھارت میں یقینا لاکھوں مدارس اسلامیہ چل رہے ہیں۔جن کی بنا آج پورے بھارت میں اسلام کا غلغلہ ہے اور ان شاء اللہ جب تک بھارت میں مدارس دینیہ کا سلسلہ جاری رہے گا،اس وقت تک مذہب اسلام کا سورج ہرگز غروب نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی میں اس کی معمولی ہمت ہے۔اللہ کرے کہ مدارس اسلامیہ کا سلسلہ تاقیامت چلتارہے اور اسلام کا سورج ہمیشہ تابناک رہے۔
سارے مسلمان یہ بات بہت ہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت کے اکثر مدارس کے جملہ اخراجات بس بھارتیے مسلمان ہی دیتے ہیں اور کہیں سے کچھ نہیں آتاہے۔چوں کہ مدارس اسلامیہ کے اخراجات کھربوں میں ہیں، اس لیے اکثر لوگ گراں قدر اخراجات سن کر محو حیرت ہوجاتے ہیں ۔
دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث اورنائب صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی زیدمجدہ کی ایک مختصر ویڈیو کلپ ہے،جو مدارس اسلامیہ کے اخراجات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے،حضرت نے اس ویڈیو میں فرمایا کہ: ایک دفع میرے یہاں امریہ کی وزارت خارجہ کا ایک فلسطینی عیسائی افسر آیا،جو عربی بولنے والاتھا،اس کے ساتھ بات کرنے کی میری ڈیوٹی لگ گئی ۔اس نے مجھ سے بہت سارے سوالات کیے اور بہت دیر تک بات ہوتی رہی،اخیر میں اس نے یہ پوچھا کہ بھارت میں مدارس کتنے ہیں ؟تو میں نے کہاکہ:مجھے معلوم نہیں اور نہ میرے پاس کوئی سروے ہے کہ میں کوئی تعداد بتاسکوں ؛البتہ لاکھوں ہیں یہ میں کہہ سکتاہوں ،تو اس نے کہاکہ:ان مدرسوں کاخرچ کتناہے؟تو میں نے کہاکہ: جب مجھے مدرسوں کی تعداد کا علم نہیں ،تو خرچ کا کیا علم ہوگا؟تو اس نے کہاکہ :دارالعلوم دیوبند کا بجٹ(خرچ)کتناہے؟تو اس وقت جوتھا میں نےبتادیا اور میں نے کہا کہ:دارالعلوم کا بجٹ تو یہ ہے اور اس سے کچھ کم خرچ مثلا کروڑوں والے بھی کئی مدارس ہیں اور لاکھوں خرچ والے تو ہزاروں ہیں ۔تو اس نے ذراسا رک کر ذہن میں ایک اندازہ کیا_ظاہر ہے کہ یہ خرچے کھربوں روپے بنتےہیں _تو وہ سوچ کریہ کہنے لگا کہ یہ سارا پیسہ کہاں سے آتاہے _اس کا جواب اس نے سمجھا کہ میرے لیے مشکل ہے؛مگر میرےلیے یہ سب سے آسان تھا_جیسے ہی اس نے کہا تو میں نےکہاکہ:عام مسلمانوں کے چندے سے، تو اس نے یوں دیکھا اور مسکراکر کہنے لگا کہ :مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا ،تومیں نے کہاکہ:آپ کی سمجھ میں کیا آئےگا ،ہماری سمجھ میں بھی نہیں آتا؛اس لیے کہ دیکھتےہیں تو مسلمان کمزور،غریب اور بےروزگار نظر آتاہے۔مگرپھر بھی یہ کھربوں کا صرفہ صرف اور صرف بھارت کا عام مسلمان کررہاہے،کہیں سے کوئی ان مدارس کی امداد نہیں کررہاہے۔بھارتیےمسلمان اپنے دین کی ذمہ داری سمجھ کر یہ ساراصرفہ اٹھارہاہے۔اللہ اس کو جاری رکھے قیامت تک۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے