امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال ۔ شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی

45
امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال ۔
شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی
 امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح عقائد و ایمانیات، عبادات، اخلاق اور معاشرت و معاملات، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ کے بارے میں ہدایت دیں اور امت کی رہنمائی فرمائی، اسی طرح مستقبل میں واقع ہونے والے دینی انحطاط و زوال، تغیرات اور فتنوں کے بارے میں بھی امت کو آگاہی دی ہے اور ہدایات فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر منکشف فرمایا تھا کہ جس طرح اگلی امتوں میں دینی زوال و انحطاط آیا اور وہ طرح طرح کی گمراہیوں اور غلط کاریوں میں مبتلا ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اور نصرت سے محروم ہوئیں ایسے ہی حالات آپ کی امت پر بھی آئیں گے اس انکشاف و اطلاع کا مقصد یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کریں اور اس بارے میں ہدایات دیں ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یقیناً ایسا ہوگا کہ تم (یعنی میری امت کے لوگ) اگلی امتوں کےطریقوں کی پیروی کروگے بالشت برابر بالشت اور ذراع برابر ذراع ( یعنی بالکل ان کے قدم بقدم چلو گے) یہاں تک کہ اگر وہ گھسے ہوں گے گوہ کے بل میں تو اس میں بھی تم ان کی پیروی کروگے عرض کیا کہ اے خدا کے رسول کیا یہود ونصاریٰ (مراد ہیں) ؟ آپ نے فرمایا تو اور کون)۔ (بخاری و مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یقیناً ایک وقت ایسا آئے گا کہ میری امت کے کچھ لوگ اگلی امتوں کے گمراہ لوگوں کی قدم بقدم پیروی کریں گے جن گمراہیوں اور غلط کاریوں میں وہ مبتلا ہوئے تھے یہ بھی ان میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے  کسی سرپھرے  پاگل نے ( گوہ) کے بل میں گھسنے کی کوشش کی ہو گی تو میری امت میں بھی ایسے پاگل ہوں گے جو یہ مجنونانہ حرکت کریں گے ( مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی احمقانہ حرکتوں میں بھی ان کی پیروی اور نقالی کریں گے یہ دراصل کامل پیروی اور نقالی کی ایک تعبیر و تمثیل ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر کسی صحابی نے عرض کیا کہ حضرت ہم سے پہلی امتوں سے کیا یہود ونصاریٰ مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا وہ نہیں تو اور کون مطلب یہ ہے کہ ہاں میری مراد یہود و نصارٰی ہی ہیں۔ یہ صرف پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ بڑے مؤثر انداز میں آگاہی ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والے خبردار اور ہوشیار رہیں اور یہود و نصاریٰ کی گمراہیوں اور غلط کاریوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی فکر سے کبھی غافل نہ ہوں ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے عبداللہ بن عمرو تمہارا اس وقت کیا حال  اور کیا رویہ ہوگا جب صرف ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے معاہدات اور معاملات میں دغا فریب ہوگا اور ان میں  سخت اختلاف اور ٹکراؤ ہوگا اور وہ باہم اس طرح گتھ جائیں گے جیسے میرے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گتھی ہوئی ہیں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر مجھے کیسا ہونا چاہیے یا رسول اللہ؟یعنی اس فساد عام کے زمانہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟  آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ جس بات اور جس عمل کو تم اچھا اور معروف جانو اس کو اختیار کرو اور جس کو منکر اور برا سمجھو اس کو چھوڑ دو اور اپنی پوری توجہ خاص اپنی ذات پر رکھو اور اپنی فکر کرو اور ان ناکارہ و بے  صلاحیت اور آپس میں لڑنے بھرنے والوں سے اور ان  کے عوام سے تعرض نہ کرو  ۔ (صحیح بخاری)
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جلدی کرلو اعمال صالحہ ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے حال یہ ہو گا کہ صبح کرے گا آدمی اس حال میں کہ اس میں  ایمان ہوگا اور شام کرے گا اس حال میں کہ وہ ایمان سے محروم ہو چکا ہوگا اور شام کو وہ مومن ہوگا اور اگلی صبح وہ مومن نہیں رہے گا کافر ہوجائے گا دنیا کی متاع قلیل کے بدلے وہ اپنا دین و ایمان بیچ ڈالے گا (صحیح مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کیا گیا تھا کہ آپ کی امت پر ایسے حالات بھی آئیں گے کہ رات کے اندھیرے کی طرح نو ع بہ نوع فتنے لگاتار برپا ہوں گے ان کی وجہ سے ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی صبح کو اس حال میں اٹھے گا کہ اپنے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے اچھا خاصا مومن و مسلم ہو گا لیکن شام ہوتے ہوتے وہ کسی گمراہی یا بد عملی میں مبتلا ہو کر اپنا دین ایمان برباد کر دے گا ۔
فتنہ کی 72 نشانیاں ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ قیامت کے قریب 72  باتیں پیش آئیں گی ۔
(1) لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں گے۔  یعنی نمازوں کا اہتمام رخصت ہو جائے گا یہ بات اگر اس زمانے میں کہی جائے تو کوئی زیادہ تعجب کی بات نہیں سمجھی جائے گی اس لیے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نماز کی پابند نہیں ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان حد فاصل قرار دیا گیا تھا۔  اس زمانے میں  مسلمان تو مسلمان  منافق  بھی نماز چھوڑنے کی ہمت نہیں کرتا تھا ۔
(2) امانت ضائع کرنے لگیں گے! یعنی امانت میں بلا اجازت تصرف کو گناہ ہی خیال نہیں کیا جائے گا (3) سود کھانے لگیں گے! یہ پیشنگوئی بھی پوری طرح صادق آ رہی ہے کیوں کہ بینکوں سے تعلق رکھنے والوں اور بینک کے ذریعہ کاروبار چلانے والوں کو اور پھر ان سے شرکت یا ملازمت کے ذریعہ روپیہ حاصل کرنے والوں کو شمار کریں تو اندازہ ہوگا کہ سود سے یا اس کے اثر سے کون بچ رہا ہے (4) جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے! یعنی جھوٹ ایک فیشن اور ہنر کی حیثیت اختیار کر لے گا (5) معمولی معمولی باتوں پر خون ریزی کرنے لگیں گے ذرا سی بات پر ایک دوسرے کی جان لے لیں گے (6) اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں گے (7) دین بیچ کر دنیا جمع کریں گے (8) قطع رحمی!  یعنی رشتہ داروں سے تعلق کو توڑا جائے گا (9) انصاف ختم ہو جائے گا (10) جھوٹ سچ بن جائے گا (11) لباس ریشم کا پہنا جائے گا (12) ظلم عام ہو جائے گا (13) طلاقوں کی کثرت ہو گی 14) ناگہانی موت عام ہو جائے گی! یعنی ایسی موت عام ہو جائے گی جس کا پہلے سے پتہ نہیں ہو گا بلکہ اچانک پتہ چلے گا کہ فلاں شخص ابھی زندہ ٹھیک ٹھاک تھا اور اب مر گیا (15) خیانت کرنے والے کو امین سمجھا جائے گا (16) امانت دار کو خیانت کرنے والا سمجھا جائے گا! یعنی امانت دار شخص پر تہمت لگائی جائے گی کہ یہ آدمی بہت بڑا خائن ہے (17) جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا (18) سچے کو جھوٹا کہا جائے گا (19) تہمت درازی عام ہو جائے گی یعنی لوگ ایک دوسرے پر جھوٹی تہمتیں لگائیں گے (20) بارش کے باوجود گرمی ہو گی (21) لوگ اولاد کی خواہش کرنے کے بجائے اولاد سے کراہیت کریں گے یعنی جس طرح لوگ اولاد ہونے کی دعائیں کرتے ہیں اس کے بجائے لوگ یہ دعائیں کریں گے کہ اولاد نہ ہو چنانچہ آج دیکھ لیں کہ خاندانی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور یہ نعرے لگا رہے ہیں کہ بچے دو ہی اچھے:  ایک اور ابھی نہیں اور دو  کے بعد کبھی نہیں (22) کمینوں کے ٹھا ٹھ ہوں گے یعنی کمینے لوگ بڑے ٹھاٹ باٹ اور عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے (23) شریفوں کا ناک میں دم ہو گا یعنی اگر شریف لوگ شرافت کی باتیں کریں گے تو دنیا سے کٹ جائیں گے (24) امیر اور وزیر جھوٹ کے عادی بن جائیں گے یعنی سربراہ حکومت اور اس کے اعوان و انصار اور وزراء جھوٹ کے اس قدر عادی ہو جائیں گے کہ سچ کا تصور ان کے ذہنوں سے نکل جائے گا اور صبح و شام جھوٹ ہی جھوٹ بولیں گے (25) امین لوگ خیانت کرنے لگیں گے (26) قوم کے سردار ظلم پیشہ ہوں گے (27) عالم اور قاری بدکار ہوں گے یعنی عالم  بھی ہونگے اور قرآن کریم کی تلاوت اور احادیث رسول بھی پڑھائیں گے اور وعظ و تقریر بھی کرتے ہوں گے مگر بدکار ہوں گے (28) لوگ جانوروں کی کھالوں کا لباس پہنیں گے (29) مگر ان کے دل مردار سے زیادہ بدبودار ہوں گے یعنی لوگ جانوروں کی کھالوں سے بنے ہوئے اعلی درجے کے لباس پہنیں گے لیکن ان کے دل مردار سے زیادہ بدبودار ہوں گے (30) اور ایلوے سے زیادہ کڑوے ہوں گے (31) سونا عام ہو جائے گا (32) چاندی کی مانگ ہو گی (33) گناہ زیادہ ہو جائیں گے یعنی گناہ اس کثرت سے ہوں گے کہ آدمی گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھے گا (34) امن کم ہو جائے گا یعنی ہر طرف بدامنی پھیلی ہوئی ہوگی (35) قرآن کریم کے نسخوں کو آراستہ کیا جائے گا اور اس پر نقش ونگار بنایا جائے گا (36) مسجدوں میں نقش و نگار کئے جائیں گے،  مسجدوں کو خوب سجایا جائے گا (37) اونچے اونچے مینار بنیں گے (38) لیکن دل ویران ہوں گے یعنی مسجدوں میں نقش و نگار اور میناروں کی بلندی کے باوجود ان کے دل ویران اور اجڑے ہوئے ہوں گے (39) شرابیں پی جائیں گی یعنی شراب کا پینا عام ہوجائے گا جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے (40) شرعی سزاؤں کو معطل کر دیا جائے گا (41) لوندی اپنے آقا کو جنے گی یعنی بیٹی ماں پر حکمرانی کرے گی اس کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے آقا اپنی کنیز کے ساتھ سلوک کرتا ہے (42) جو لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن غیر مہذب ہوں گے وہ بادشاہ بن جائیں گے کمینے اور نیچ ذات کے لوگ جو نسبی اور اخلاق کے اعتبار سے کمینے اور نیچے درجے کے سمجھے جاتے ہیں وہ سربراہ بن کر حکومت کریں گے (43) تجارت میں عورت مرد کے ساتھ شرکت کرے گی جیسے آج کل ہو رہا ہے کہ عورتیں زندگی کے ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش کر رہی ہیں (44) مرد عورتوں کی نقالی کریں گے (45) عورتیں مردوں کی نقالی کریں گی یعنی مرد عورتوں جیسا حلیہ بنائیں گے اورعورتیں مردوں جیسا حلیہ بنائیں گی آج دیکھ لیں کہ نئے فیشن نے یہ حالت کر دی ہے کہ دور سے دیکھیں تو پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت ہے (46) غیر اللہ کی قسم کھائی جائیں گی یعنی قسم تو صرف اللہ کی یا اللہ کی صفت کی اور قرآن کی کھانا جائز ہے دوسری چیزوں کی قسم کھانا حرام ہے لیکن اس وقت لوگ اور چیزوں کی قسمیں کھائیں گے مثلاً تیرے سر کی قسم تیری جان کی قسم وغیرہ (47) مسلمان بھی بغیر کہے جھوٹی گواہی دینے کو تیار ہوجائیں گے (48) صرف جان پہچان کے لوگوں کو سلام کیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر راستے میں کہیں سے گزر رہے ہیں تو ان لوگوں کو سلام نہیں کیا جائے گا جن سے جان پہچان نہیں ہے اگر جان پہچان ہے تو سلام کر لیں گے حالانکہ حضور صلی اللہ وسلم کا فرمان ہے اے لوگو سلام کو لوگوں کے درمیان عام کرو۔ اور کہیں یوں ارشاد فرمایا جس کو تم جانتے ہو اس کو بھی سلام کرو اور جس کو تم نہیں جانتے اس کو بھی سلام کرو (49) دنیا کی خاطر شرعی علم پڑھا جائے گا یعنی علم دین کا پڑھنا آخرت کے لیے نہیں بلکہ حصول دنیا کے لئے ہوگا اور اس سے مقصد یہ ہو گا کہ اس کو پڑھنے سے ڈگری مل جائے گی ملازمت مل جائے گی پیسے مل جائیں گے عزت اور شہرت حاصل ہو جائے گی ان مقاصد کے لئے دین کا علم پڑھا جائے گا (50) آخرت کے کام سے دنیا کمائی جائے گی یعنی کوئی کام خالص لوجہ اللہ نہیں ہوگا بلکہ دنیا کمانا مقصود ہو گا (51) مال غنیمت کو ذاتی ملکیت سمجھ لیا جائے گا یہاں مال غنیمت سے مراد قومی خزانہ ہے یعنی قومی خزانہ کو ذاتی دولت سمجھ کر خوب دل کھول کر خرچ کیا جائے گا (52) امانت کو لوٹ کا مال سمجھا جائے گا یعنی اگر کسی آدمی نے کسی کے پاس امانت رکھ دی تو یہ سمجھا جائے گا کہ لوٹ کا مال حاصل ہوگیا (53) زکوٰۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا (54) سب سے رذیل آدمی قوم کا لیڈر اور قائد بن جائے گا یعنی جو شخص سب سے زیادہ رذیل اور بد خصلت انسان ہوگا اس کو قوم کے لوگ اپنا قائد اپنا ہیرو اور اپنا سربراہ بنا لیں گے (55) آدمی اپنے باپ کی نافرمانی کرے گا (56) آدمی اپنی ماں سے بدسلوکی کرے گا (57) دوست کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرے گا (58) بیوی کی اطاعت کرے گا (59) بدکاروں کی آوازیں مسجدوں میں بلند ہوں گی (60) گانے والی عورتوں کی تعظیم و تکریم کی جائے گی یعنی جو عورتیں گانے بجانے کا پیشہ کرنے والی ہیں ان کی تعظیم اور تکریم کی جائے گی اور ان کو بلند مرتبہ دیا جائے گا (61) گانے بجانے کے اور موسیقی کے آلات کو سنبھال کر رکھا جائے گا (62) سر راہ شرابیں پی جائیں گی (63) ظلم کو فخر سمجھا جائے گا (64) انصاف بکنے لگے گا یعنی عدالتوں میں انصاف فروخت ہو گا لوگ پیسے دے کر اس کو خریدیں گے (65) پولیس والوں کی کثرت ہو جائے گی (66) قرآن کریم کو نغمہ سرائی کا ذریعہ بنا لیا جائے گا یعنی موسیقی کے بدلے میں قرآن کی تلاوت کی جائے گی تاکہ اس کے ذریعہ ترنم کا حظ اور مزہ حاصل ہو اور قرآن کی دعوت اور اس کو سمجھنے یا اس کے ذریعہ اجر وثواب حاصل کرنے کے لیے تلاوت نہیں کی جائے گی (67) درندوں کی کھال استعمال کی جائے گی (68) امت کے آخری لوگ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن طعن کریں گے یعنی ان پر تنقید کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کریں گے اور تنقید کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ انہوں نے یہ بات غلط کہی اور یہ غلط طریقہ اختیار کیا چنانچہ آج بہت بڑی مخلوق صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی شان میں گستاخیاں کر رہی ہے بہت سے لوگ ان ائمہ دین کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں جن کے ذریعہ یہ دین ہم تک پہنچا اور ان کو بےوقوف بتارہے ہیں کہ وہ لوگ قرآن وحدیث کو  نہیں سمجھے دین کو نہیں سمجھے آج ہم نے دین کو صحیح سمجھا ہے۔  پھر فرمایا کہ جب یہ علامات ظاہر ہوں تو اس وقت اس کا انتظار کرو کہ (69) یا تو تم پر سرخ آندھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ جائے (70) یا زلزلے آجائیں (71) یا لوگوں کی صورتیں بدل جائیں (72) یا آسمان سے پتھر برسیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اور عذاب آجائے  اب ان علامات میں ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ سب علامات ایک ایک کر کے کس طرح ہمارے معاشرے پر صادق آرہی ہیں اور اس وقت جو عذاب ہم پر مسلط ہے وہ درحقیقت انہی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے  (در منثور )
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین