امام جرح و تعدیل: مفتی مبشر احمد ربانی

192

تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی

شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

 

سعدیا مردِ نکونام نمیرد هرگز

مرده آن است که نامش به نکویی نبرند

 

ترجمہ :اے سعدی! نیک نام شخص ہرگز نہیں مرتا؛ مردہ تو وہ ہے جس کا نام نیکی کے ساتھ نہ لیا جائے۔

 

مسلسل کچھ ایام سے یہ خبر سن کر دل مغموم ہے کہ عصر حاضر میں جرح و تعدیل کے امام فضیلتہ الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی کافی علیل ہے۔ مفتی صاحب سرزمین پاکستان کے لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور ابو الحسن کنیت سے معروف ہیں۔مفتی صاحب عرصہ دراز سے علم حدیث میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔ شیخ محترم مفتی پاکستان کے لقب سےمعروف ہیں۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شیخ محترم کا شمار برصغیر پاک و ہند کے کبار اور جید علماء میں ہوتا ہے۔ سرزمین پاک وہند میں اس وقت جو علماء ربانیین میدان عمل میں کام کر رہے ہیں ان میں محدث العصر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ تعالی، محدث ھند کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ تعالی، مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی، مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی، ماہر جرح و تعدیل حافظ ابو یحییٰ نور پوری حفظہ اللہ تعالی اور انکے شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ تعالی صف اول میں کھڑے ہیں۔یہاں نہ بات واعظین کی ہورہی ہے اور نہ ہی خطباء کی۔مذکورہ علماء اس وقت محدثانہ منھج پر چل کر امت میں پھیلی بدعات و شرکیات کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں۔

 

مفتی مبشر احمد ربانی صاحب “مناظرہ اسلام” کے خطاب سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ حق کی حمایت اور باطل کی تردید میں انکی تحریریں اور تقاریر اپنی مثال آپ ہے۔ دینار و درھم کے اس کارواں میں شیخ محترم اخلاص کے پیکر ہیں۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور علامہ البانی رحمہ اللہ کے بعد فن تحقیق و تخریج میں شیخ محترم اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ شیخ محترم شعبہ افتاء میں صدر مفتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علم و عمل کا یہ شمس عظمیٰ طویل عرصہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے انہیں فالج کے خطرات سامنے آئے۔طلباء حدیث اس بات سے باخبر ہیں کہ علم حدیث، اصول حدت، اسماء رجال اور جرح و تعدیل میں شیخ محترم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔علم عقیدہ میں انکی منفرد کتاب “کلمہ گو مشرک” آج بھی اپنی عظمت پر کھڑی ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب نے امت مسلمہ میں موجودہ گمراہ کن عقائد کا تعاقب سلف و صالحین کے منھج پر کیا۔خواتین کے مسائل پر بھی شیخ عبور رکھتے ہیں۔ انکی کتاب “پردے کی شرعی حیثیت” اس پر دال ہے۔ جدید فقہی مسائل پر بھی شیخ محترم منصب امامت پر فائز ہیں۔ انکی عظیم کتاب “احکام و مسائل” اس کی زندہ مثال ہے۔

 

راقم نے بڑی باریک بینی سے مفتی مبشر احمد ربانی صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ضوابط جرح و تعدیل پر انکی گرفت قابل رشک ہے۔احادیث کی اسناد و متون کی جانچ پرکھنے کی صلاحیت سے انہیں اللہ عزوجل نے نوازا ہے۔”آپ کے مسائل اور ان کا حل” وہ عظیم شہرہ آفاق کتاب ہے جو تین مجلدات پر مشتمل ہے جس میں شیخ نے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرکے عام قاری کے لئے فقہ العبادات کا ححصہ سمجھناآسان کردیا ہے۔امت مسلمہ جن جدید فتنوں کا سامنا کر رہی ہے ان میں فتنہ تکفیر سب سے گمراہ کن اور ایمان لیوا فتنہ ہے۔ گلشن رسالت کے اس پھول نے اس پر بھی قلم اٹھایا اور خوب اٹھایا۔ ان کی کتاب “مسئلہ تکفیر اور اس نے اصول و ضوابط” اس موضوع پر انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

احکام دینیہ اور تحقیق مسائل فقہیہ کی تبیین وتحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ان کے عام فہم فتاویٰ جات اور مناظرے ومباحثے قارئین وسامعین اورعلمی حلقوں میں یکساں مقبول ومعروف ہیں۔ان کے اس فن میں رسوخ اور مہارت تامہ رکھنے کی بدولت تبیین حق اورابطال باطل کے ذریعے سے بہت سےمتلاشیان حق کوقرآن وسنت پر عمل پیراہونےکی سعادت نصیب ہوئی ہے۔

 

شیخ محترم کے خطبات پر اثر اور مدلل ہوتے ہیں۔اپنے خطبات میں ہر بات کا حوالہ پیش کرکے عوام الناس کے سامنے رکھنا ان کی خوبصورت ادا ہے۔ شیخ محترم کے خطبات سے امت کے لئے درد ہدایت بالکل عیاں اور واضح ہوجاتی ہے۔ذاتی زندگی میں بھی مفتی صاحب حسن اخلاق کے مالک ہیں۔ راقم نے کبھی بھی انکی تحریروں میں یا تقاریر میں کوئی غیر شائستہ بات نہ پائی۔ان کے چہرے پر صدا بہار مسکراہٹ طلباء کو انکی طرف مائل کرتی ہے۔ ان کے الفاظ میں کشش موجود ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتی۔مقالات ربانیہ اور ضربات ربانیہ ان کی وہ اعلیٰ کتب ہیں جن میں مفتی صاحب نے مناظرانہ اسلوب اپنا کر قارئین کو کافی متاثر کردیا ہے۔ شیخ کی علمی شخصیت عرب و عجم میں متعارف ہیں۔ شیخ محترم تراجم کے ابواب میں بھی الگ پہچان کے مالک ہیں۔عقیدہ توحید کے قیام اور شرک کی مذمت میں انکے دروس لیے

دل کو چھو جاتے ہیں۔ شیخ محترم نے سلف و صالحین کی عقائد و منھج پر لکھی جانے والی کتب کے دروس دے کر پاک و ہند کے مسلمانوں کو اسلاف کے نوشہ قدم پر چلنے کی راہ دکھلائی۔ مرکز الشیخ حماد حمید الزبیدی میں آپکی نگرانی میں درس نظامی، تحفیظ القرآن وغیرہ علوم اسلامیہ طلباء و طالبات کو پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملتان روڑ لاہور پر آپکے دارالعلوم مرکز الحسن للتعلیم والتربیتہ الاسلامیہ میں طلباء کو علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ فن خطابت اور دیگر فنون بھی سکھائے جاتے ہیں۔

 

راقم الحمد للہ شیخ کے شاگردوں میں شامل ہے۔ اگرچہ ہم نے آمنے سامنے ملاقات نہ بھی کی ہے لیکن آن لائن دروس میں راقم شیخ محترم سے کافی استفادہ کرچکے ہیں۔ بحمداللہ تعالیٰ راقم نے شیخ محترم سے لقاء اور سماع انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی کیا ہے۔وقت وقت پر شیخ محترم نے قراقم کو اپنے عظیم نصائح سے نوازا۔فن ترجمہ ق بھی شیخ سے کافی استفادہ کرچکا ہوں۔راقم کو جب بھی کبھی عربی عبارات کے ترجمہ کرنے میں دشواری آتی ہے تو شیخ ہمیشہ مدد کے لئے سامنے موجود رہتے ہیں۔ اس سے انکی عاجزی و انکساری کا پتہ چلتا ہے۔ ملک پاکستان قققق اکثر شیوخ الحدیث اور کبار علماء انکے شاگردوں کی صف میں شامل ہیں۔ مفتی صاحب نے کبار و جید علماء سے تعلیم حاصل کی ہے۔البتہ یہ بات واضح ہے کہ مفتی صاحب محدث العصر علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ تعالی سے کافی متاثر ہیں۔جامعہ سلفیہ فیصل آباد پاکستان و دیگر ادارے آپکی خدمات سے مزین ہوئے ہیں۔ شیخ محترم کی سند نبی کریم ﷺ تک بغیر انقطاع پہنچ جاتی ہے۔ ایک سند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی کے واسطے اور دوسری سند امام شوکانی رحمہ اللہ تعالی کے واسطے۔

 

امام جرح و تعدیل مفتی مبشر احمد ربانی صاحب حفظہ اللہ تعالی کے دروس سماعت کرنے کے بعد مردہ دلوں میں جان پڑ جاتی ہے۔ مفتی صاحب کا کتب خانہ پاک و ہند کے چند عظیم اور اعلی کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں متقدمین سے لیکر متاخرین تک کی کتب میسر ہیں۔قلمی نسخے بھی اس کتب خانہ میں میسر ہیں۔ ایک ہی کتاب کے مختلف نسخ جو مختلف ترک سے ہمارے پاس پہنچے ہیں یہاں دستیاب ہیں۔طلب مال اور طلب شہرت کے اس کارواں میں شیخ کی شخصیت اپنی معصومیت کی سبب قلوب میں گھر کر چکی ہیں۔جبکہ اکثریت کا حال یہ ہے کہ

 

توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے

حاصل کسی طرح کی سعادت نہیں مجھے

جب سے سنی ہیں متّقیوں کی کرامتیں

اپنے کیے پہ کوئی ندامت نہیں مجھے

 

شیخ محترم ایک حق گو اور بے باک عالم دین ہیں۔شیخ ہمیشہ طلباء کو یہی تاکید کرتے ہیں کہ علم مال سے بھتر ھے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ھے اور مال کی تم اور مال خرچ کرنے سے کم ھوتا ھے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ھے۔مال اکٹھاکرنے والے مردہ ھوتے ھیں اور علماء رھتی دنیا تک باقی رھتے ھیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ھوجاتے ھیں لیکن ان کی صورتیں دلوں میں باقی رھتی ھیں.

 

اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ شیخ محترم کی حفاظت فرمائے اور انہیں شفاء کاملہ عطا فرمائے۔ اللہ عزوجل ان کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔