امارت شرعیہ ؛اور اس کی سوسالہ قیادت ✍خالدانورپورنوی المظاہری

70

امارت شرعیہ ؛اور اس کی سوسالہ قیادت
✍خالدانورپورنوی المظاہری

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جس میں پیداہونے سے لے کرقبر میں جانے تک کے اصول وآداب سکھلائے گئے ہیں ، ایک دوسرے سے کٹ کر،من مانی،شتربے مہارکی طرح آزاد رہ کر زندگی گذارنے کانام اسلام نہیں ہے،بلکہ ایک ساتھ مل جل کر رہنے،اتحاد واتفاق کے ساتھ، اجتماعیت کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رہنے کا حکم اسلام دیتاہے،آج سے سوسال قبل امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ، جھارکھنڈ کا قیام اسی لئے عمل میں آیاتھا۔

امارت شرعیہ کیاہے؟یہ ایک دینی،ملی،تعلیمی، سماجی، اور فلاحی ادارہ ہے،نظم واتحاد کے ساتھ زندگی گذارنے،ا ور کسی مذہبی سردار کی سرپرستی میں جماعتی زندگی کو بہتربنانے کے لئے 1921میں، حضرت مولانابوالمحاسن سجادؒ نے اس کی داغ بیل ڈالی تھی،پتھر کی مسجد،پٹنہ میں منعقد اس اجلاس عام کی صدارت امام الہند مولاناابوالکلام آزادؒ کررہے تھے، مولانا محمد علی مونگیریؒ،مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ،علامہ انور شاہ کشمیریؒ ، مفتی کفایت اللہؒ  جیسے چوٹی کے سوسے زائد متبحراور ممتاز علما ءموجود تھے،شرکاء کی تعدادچار ہزار کے قریب تھی،اتفاق رائے سے امارت شرعیہ کاقیام عمل میں آیا،اور سب سے پہلے امیرشریعت حضرت مولانا سید شاہ بدرالدين قادری ؒ سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ منتخب کئے گئے۔

بھارت جیسے ملک میں جہاںقوت واقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہیں ہے، مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے میں سے کسی صالح اور دین دار شخص کو اپنا امیرشریعت (شرعی سردار) منتخب کریںاوراس کے ذریعہ ممکن حد تک تمام شرعی امور کا اجراء ونفاذعمل میں لائیں،اور امارت شرعیہ کے قیام کایہی مقصدہے،اسی لئے حضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒ امارت شرعیہ کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:آئین اسلام کی روسے یہ ظاہرہے کہ امارت شرعیہ کاوجود نہ کوئی مخفی سیاسی جزہے،اور نہ وقتی مسئلہ ہے،بلکہ یہ خالص مذہبی اصول اور شرعی حکم کے ماتحت مسلمانوں کی حیات وزندگی کے لئے لازمی جزہے،اور تمام اہل علم اور اکثر ارباب حل وعقد نے مناسب غوروخوض کے بعد اس چیز کی بنیادڈالی،اور ہندوستان کے ہرصوبہ کے لئے بہترین نمونہ پیش کیا۔

جماعتی زندگی کا جو تصور مذہب اسلام میں ہے،کہ تین آدمی سفرمیں جارہے ہوں تو انہیں چاہئیے کہ ایک کو اپناسرداربنالیں،امارت شرعیہ گذشتہ سو سالوں سے مضبوطی سے اس پر پابند عمل ہے،سب سے پہلے امیر شریعت حضرت مولاناشاہ بدرالدین صاحب قادریؒ تھے،دوسرے حضرت مولاناشاہ محی الدین قادریؒ،تیسرے مولاناشاہ قمرالدین ؒ،ان تینوں کاتعلق خانقاہ مجیبیہ سے تھا،اور وہاں کےسجادہ نشیں تھے،چوتھے امیر شریعت حضرت مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ (سجادہ نشیں کاخانقاہ رحمانی مونگیر)،پانچویں حضرت مولاناعبدالرحمن صاحبؒ،چھٹے حضرت مولاناسید نظام الدین صاحبؒ،ساتویں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب ؒمنتخب ہوئے،ان بزرگوں نے اپنی دورِامارت میں امارت شرعیہ کو وہ مقام دیاکہ رہتی دنیا انہیں یادکرے گی،اسی طرح اب تک سات نائبین امیر شریعت کی سرپرستی بھی امارت شرعیہ کو حاصل رہی،سب سے اول حضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒتھے،جو امارت شرعیہ کے بانی ومحرک بھی تھے،دوسرے حضرت مولاناعبدالصمد رحمانیؒ صاحب جنہیں امیر شریعت ثانی سے اپنانائب منتخب کیاتھا، تیسرے حضرت مولانا عبدالرحمن صاحبؒ جنہیں امیرشریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نے حضرت مولانا عبدالصمد رحمانیؒ کی وفات کے بعد اپنا نائب نامزد کیا تھا،اورآپ ہی امیرشریعت رابع کے انتقا ل کے بعد امیر شریعت خامس منتخب ہوئے،چوتھےحضرت مولانا سید نظام الدین صاحب،جنہیں امیرشریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب نے اپنا نائب منتخب کیاتھا،امیر شریعت خامس کے انتقال کے بعد آپ امیر شریعت سادس منتخب ہوئے، پانچویں حضرت مولانا قاضی مجاھد الاسلام صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ،آپ کو امیرشریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب نے اپنا نائب بنایا تھا تا آنکہ 4 اپریل 2002ء کو قاضی صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،تو مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کوحضرت قاضی صاحب کے انتقال کے بعد 3 اپریل 2005ء میں امیرشریعت سادس مولانا سید نظام الدین نے اپنا نائب بنایا تھا،امیر شریعت سادس کے انتقال کے بعد آپ ہی ساتویں امیرشریعت منتخب ہوئے،مفکراسلام حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی صاحب نے مورخہ 21مارچ2021کو ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے فاضل نوجواں، جناب مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی کو اپنا نائب متعین کیا،مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظورتھااوراپنی نیابت کی ذمہ داری دینے کے محض ایک ہفتہ کے بعد حضرت امیرشریعت کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی،اور 3 اپریل 2021ء کو  اس دنیائے فانی سے رحلت فرماگئے۔اناللہ واناالیہ راجعون

امارت شرعیہ؛ایک باوقار ادارہ ہے،دینی،ملی،تعلیمی،سماجی،اوررفاہی میدانوں میں اس کی خدمات کادائرہ بہت ہی وسیع،قابلِ رشک اورسوسالوں پر محیط ہے،یہاں تک کے حضرت مولالاناعلی میاں ندوی ؒ یہ لکھنے پرمجبورہوتے ہیں کہ:اگر مجھے ہندوستان کے کسی صوبہ پر رشک آتاہے تو بہارپر،اوراگربہار پر رشک آتاہے،تو امارت شرعیہ کی وجہ سے،کہ یہاں کے مسلمان اس کی بدولت ایسی زندگی گذاررہے ہیں جومعتبراسلامی سے قریب تر،اور جاہلی وغیراسلامی زندگی سے بعیدترہے۔اور اس کامکمل کریڈٹ یقینااس کے بانی ومحرک جناب حضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒ کے ساتھ،وقت کے تمام امراء شریعت، نائبین ،نظماء،معاونین ونائبین،ودیگرخدام واراکین تک جاتاہے،ان کی صاف،ستھری اور پرعزم شخصیتوں کی وجہ سے ہی نہ صرف بہار،اڑیسہ، جھارکھنڈ میں ،بلکہ ملک وبیروں ملک تک اس کا وقار بلندہواہے۔

امارت شرعیہ کے تما امرائے شریعت کی خدمات کا احاظہ ظاہرہے کہ اس مختصرمضمون میں ممکن نہیں ہے،ابھی حال ہی میں رحلت فرماگئے،ساتویں امیرشریعت مفکرِاسلام حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانیؒ اسم بامسمی تھے، دینی ،دنیاوی،سیاسی ،سماجی ،بلکہ ہراعتبارسے وہ ولی کامل تھے،قیادت انہیں ورثہ میں ملی تھی ؛ مگراپنی قوتِ فیصلہ،اصابتِ رائے کے ساتھ، محنت وجدوجہد،سعی پیہم،اور عمل مستحکم کے ذریعہ امارت شرعیہ کے لئے جو قائدانہ کردار انہوں نے ادا کیا تاریخ انہیں ہمیشہ یادرکھے گی ، آپ کے دورِ امارت میں ،امارت شرعیہ کے کاموں میں مزیدوسعت ہوئی،متعدداقدامات کے ذریعہ امارت شرعیہ کواستحکام بخشا،ہر ضلع میں صدر، سکریٹری، اور فعال کمیٹی کی تشکیل کی،بڑی تعدادمیں مبلغین کی بحالی عمل میں آئی، دارالقضاء کے کاموں کوو سعت بخشی،کئی مقامات میں دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا،دینی تعلیم کے ساتھ، عصری تعلیمی اداروں کے قیام،اردو کی بقاء وتحفظ اور ترویج واشاعت کے لئے بہاروجھارکھنڈمیں تحریک چلائی،جس کے مفیداثرات دیکھے گئے،اسی کے ساتھ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ نوجوانوں کو آگے بڑھاتے تھے،اوران کی صلاحیت کے اعتبارسے ان سے کام لیتے تھے، اپنے انتقال سے بارہ دن قبل ، اپنے دوفیصلوں کے ذریعہ مزیداس میں انہوں نےچارچاند لگایا،ایک تو صلاحیت وصالحیت سےبھرپور،دینی،ملی،سیاسی،سماجی تمام میدانوں میں دور رس نگاہ کرکھنے والے،آپ ہی کے تربیت یافتہ ، در جنو ں کتابوں کے مصنف،شعلہ وشیریں بیاں خطیب ،ذکرواذکار کاپابند،فاضل نوجواں،مشہورعالم دین،حضرت محمدمولاناشمشاد رحمانی صاحب کو اپنانائب امیرشریعت منتخب فرمایا،اور دوسرے فاضل ِ،نوجواں،ذی علم،مسئلہ قضاپر گہری نظررکھنے والے جناب مولاناانظار عالم صاحب قاسمی کو قاضی شریعت نامزدفرمایا۔

اسی طرح تمام نائبین امراء شریعت نے بھی امارت شرعیہ کو عروج بخشنے کے لئے جو کردارپیش کیاہے،وہ تاریخ کے صفحات میں درج ہے،ان تما م کی خدمات اور تعارف کے لئے ہزاروں صفحات پر مشتمل کتاب بھی ناکافی ہے،موجودہ نائب امیرشریعت کون ہیں،اور ان کاانتخاب کیوں کیاگیا؟مختصرمیں ملاحظہ فرمائیں!،نائب امیر شریعت ؛حضرت مولانامحمد شمشاد صاحب رحمانی،قاسمی کی اصل تعلیم جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیرسے ہوئی ہے،زمانہ طالب علمی سے ہی وہ بڑے ذہین، محنتی ،جفاکش ،اور اپنے ساتھیوں میں ممتاز رہے ہیں،نوسال کی عمرمیں ہی انہوں نے قرآن کریم حفظ کرلیاتھا،اور ایک بیٹھک میں قرآن کریم سناکر اساتذہ سے دادتحسین حاصل کیا تھا ،جامعہ رحمانی مونگیرمیں جب یہ درجہ عربی چہارم کے طالب علم تھے،جامعہ مدنیہ سبل پورکی جانب سے  1996میں،منعقد آل بہار مسابقۃ القرآ ن الکریم کے تفسیر کے شعبہ میں یہ بھی شریک ہوئے تھے،حالانکہ جامعہ رحمانی مونگیرسے درجہ عربی ہفتہ کے ایک طالب علم شرکت کے متمنی تھے،مگر عین موقع پر انہوںنے شرکت سے انکارکردیا،جامعہ رحمانی کےاساتذہ نے محض ڈھائی دن قبل مولانا محمدشمشادرحمانی (جو اس وقت درجہ عربی چہارم میں تھے) سے کہا،اور یہ طے تیار ہوگئے ، اپنی محنت وجدوجہد کے ذریعہ انہوں نے اول مقام حاصل کیا،جامعہ رحمانی مونگیرسے فضیلت کے بعد دوبارہ انہوںنے دارالعلوم وقف میں دورہ حدیث میں داخلہ لیا،اور وہاں بھی اول مقام حاصل کیا ، دوسرے سال تکمیل ادب میں رہے،اور پھر وہیں پہلے معین المدرسین،پھر مکمل طورپراستاذ مقرر  ہو گئے ، اس وقت وہ دارالعلوم وقف دیوبندمیں حدیث وتفسیراورفقہ کے بہت ہی کامیاب استاذ ہیں،اپنی بے پناہ خوبیوں، تدریس،تقریر،تحریرکے ساتھ، انتظامی صلاحیتوں اور بہترین حسنِ اخلاق کی وجہ سے وہاں کی انتظامیہ میں بھی بیحد مقبول ہیں ،وہ الجامعۃ الفاروقیہ للعلوم العصریہ ریہی ارریہ کے بانی،کئی مدرسوں کے سرپرست،اورعلم دوست انسان ہیں، ملک وبیرون ملک میں ان کے اصلاحی بیانات ہوتے ہیں،اورہزاروں لوگ ان کے عقیدت مند ہیں،ساتویں امیر شریعت،مفکراسلام حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی کی تربیت کے وہ شاہکارہیں،اورآپ ہی سے مجاز بھی ہیں،گذشتہ چندسالوں سے وہ امارت شرعیہ کے شوریٰ،ٹرسٹ سے لے کرتمام پروگراموں میں شامل کئے گئے ہیں،مفکراسلام حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی صاحبؒ کو نومنتخب نائب امیرشریعت حضرت مولاناشمشادعالم صاحب رحمانی پر کتنااعتماد تھا،اس کااندازہ ان کی اس تحریرسے لگایاجاتاہے،وہ لکھتے ہیں:میری ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ نائب امیرشریعت کی تعیین کردوں،امارت شرعیہ کاکام الحمدللہ بڑی وسعت پاچکاہے،اور پورے نظام پر نگاہ رکھنے والے کے لئے وسیع النظر ذہین،متقی انسان کی ضرورت ہے جوجوابدہی کے پورے احساس کے ساتھ کاموں کی نگرانی کرے،جس میں معاملات ومسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہو،اذکار کاپابندہو،خدمت کا جذبہ رکھتاہو،اور وقت دے سکے،اس لحاظ سے مختلف حضرات پر غورکرتارہا،آخرمیں نائب امیرشریعت کے لئے جناب مولانامحمدشمشاد صاحب رحمانی (جھوا،بٹین گنہ،ارریہ) استاذدارالعلوم وقف ،دیوبند کے نام پردل مطمئن ہوا،اس لئے موصوف کو نائب امیرشریعت ،بہار،اڈیسہ،وجھارکھنڈ متعین کرتاہوں،اللہ کرے اس فیصلہ میں خیرہو،اور وہ امارت شرعیہ اور امت مسلمہ کے لئے مفیدثابت ہوں (آمین)

امارت شرعیہ کا ماضی بہت ہی تابناک ہے،نائب امیرشریعت،قائم مقام ناظم جناب مولاناشبلی القاسمی،نومنتخب قاضی شریعت جناب مولاناانظارعالم صاحب قاسمی،معاونین ناظم،نائبین،ودیگرخدام ،اراکین ،ملازمین کی قیادت،نگرانی،سعی پیہم،عملی جدوجہد کی وجہ سے امارت ترقی کی راہ پرگامزن ہے،جویقیناروشن مستقبل کی علامت ہے،کسی بھی معاملہ میں ،علم،اور جذبہ خلوص کے ساتھ ہرایک کواختلاف کی گنجائش ہے،مگر ادارہ کی بقاء ،اور تحفظ کے لئے افواہوں سے بچنا بھی دینی،اور ایمانی فریضہ ہے،آپ کاتعاون کسی بھی ادارہ کی ترقی کے لئے جزؤ لاینفک ہے،اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی اور آپ کے اداروں کی حفاظت فرمائے۔آمین