جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتامارت شرعيه بهار اور انتخاب امير شريعت

امارت شرعيه بهار اور انتخاب امير شريعت

محمد نوشاد نوري قاسمي
امارت شرعيه بهار اڈيشه وجھاركھنڈ ميں، آٹھويں امير شريعت كا انتخاب هونا هے، امارت شرعيه ميں امير شريعت كي حيثيت ، بنيادي قطب كي هے،ان كي فراست اور انتظامي صلاحيت پر هي ، امارت شرعيه كا قافله اپنے مراحل طے كرتا هے، هندوستان كي ملي تنظيموں كي تاريخ ميں ، امارت شرعيه اس حيثيت سے بهت ممتاز هے كه اسے هر دور ميں ايسے قافله سالار ملے جنهوں نے بهتر طريقے پر ملت كي قيادت كي، اس ليے اس انتخاب ميں عجلت بھي مقصود هے اور حكمت بھي۔
كرونائي دور ميں ايك بار انتخاب امير كا اعلان هوا ؛ مگر اس ميں كچھ شرطيں ايسي لگادي گئيں جس نےمتعدد اراكين شوري سميت، ملت كے بهت سے لوگوں كو بے چين كرديا، اس بے چيني كو محسوس كركے حضرت نائب امير شريعت نے اس انتخاب كے التواء كا اعلان كرديا ، جس كا تمام هي لوگوں نے استقبال كيا اور امارت كے ليے نيك فالي كے طور پر ديكھا۔
پھر ستمبر كي كسي تاريخ كو پٹنه كي كسي مسجد ميں بعض اراكين شوري جمع هوئےاور انهوں نے دس اكتوبر2021ء كي تاريخ كا اعلان كيا، ان كاكهنا تھا كه نائب امير شريعت كو تين مهينے كے اندر هي انتخاب كرانا هوتا هے، انهوں نے انتخاب نهيں كرايا، لهذا دستور كے مطابق مجلس شوري كو انتخاب كرانے كا حق هے اور دستور ميں دي گئي تعداد (ايك تهائي )همارے ساتھ هے، ان اراكين نے جناب مولانا محمد شبلي القاسمي قائم مقام ناظم امارت شرعيه كو ذمه داري سونپي ، مولانا محمد شبلي القاسمي صاحب نے نائب امير كو بھي اس كے ليے رضامند كرليا۔
نائب امير شريعت كي رضامندي نے معامله كو بهت حد تك ٹھنڈا كرديا تھا؛ مگر اصولي طور پر اراكين شوري نے جو غلطياں كي هيں، ان سے ديگر اراكين شوري كا بے چين هونا بالكل معقول هے۔
هم يه كهتے هيں كه اگر دستور كے مطابق اب انتخاب امير كا حق مجلس شوري كو هے اور مجلس شورے كي ايك تهائي سے فيصله كيا جاسكتا هے ، تو كيا اس كامطلب هے كه شوري كے ديگر اراكين كو اس انتخاب كي بھنك بھي نه لگنے دي جائے، كسي مجلس يا اسمبلي ميں كسي خاص تعداد كو معيار بنانے كا كيا مطلب هے كه وه مجلس يا اسمبلي منعقد هي نه كي جائے؟
دنيا بھر ميں اسمبليوں اور مجلسوں كا ايك نظام قائم هے، هوتا يهي هے كه پهلے وه مجلس بلائي جائے ، سب سے بهتر هےكه اتفاق رائے سے كسي فيصلے كو منظور كيا جائے، اختلاف آراء كي شكل ميں ، دستور ميں دي گئي تعداد كا سهارا ليا جائے، پھر يهاں تو انتخاب امير كا مرحله در پيش هے ، جس ميں انتخاب سے زياده ، هر جگه اتحاد اور اتفاق كو پيش نظر ركھنے كي ضرورت هے؛ ليكن حيرت اور افسوس كي بات هے كه يهاں چند اراكين شوري نے مقرره تعداد كو توديكھا؛ مگر مجلس شوري كے انعقاد كي ضرورت كو كسي نے سمجھا، ظاهر هے اس سے صرف انتشار پيدا هوگا، اگر انتخاب امير كا مسئله هي ، اختلاف كا شكار هوگيا تو كيا منتخب امير شريعت كو لوگ وه مقام دے سكيں گےجو مقام بحيثيت امير ان كاحق هےيا ان كے فيصلے كي وه حيثيت ره سكے گي جو هو ني چاهيے؟بالكل بھي ايسا نهيں هوگا۔
پهلے خبر آئي كه ديگر اراكين شوري نے ايك مجلس منعقد كي اور اس ميں پهلے اراكين شوري كے فيصلوں پر سوالات كھڑے كيے،ديگر اراكين كے اعتراض كا اندازه تو سب كو تھا اور بهت حد تك يه بات معقول بھي هے؛ ليكن اب خبر آرهي هے كه انهوں نے نو اكتوبر كي تاريخ كا اعلان كرديا هے، يه وهي غلطي هے جو اراكين شوري كي ايك جماعت پهلے كرچكي هے، دونوں گروپ دستور كا حوالے دے رهے كه دستور مجلس شوري كو يه حق ديتا هے ؛ مگر مجلس شوري بلائے بغير هي ، دونوں نے انتخاب كي تاريخ كا اعلان كرديا۔
خدارا ! بتائيے كيا امارت كي خيرخواهي اسي ميں هے؟كيا هم اپنے مفادات كي خاطر ، امارت كو قربان كرديں؟ كيااكابرين امارت نے ، اسي ليے آپ حضرات كو شوري كاركن بنايا كه آپ امارت كي روايات كو پس پشت ڈال ديں؟
خدا كے ليے هوش ميں آئيں ، مجلس شوري بلائيں اور اتفاق رائے سے كسي تاريخ كا اعلان كريں، اس وقت جناب نائب امير شريعت اور جناب قائم مقام ناظم صاحبان كي ذمه داري هے كه وه فريق بننے كے بجائے ، سب كے رفيق بنيں، مجلس شوري بلائيں ، گلے شكوے دور كرائيں اور اتفاق رائے سے انتخاب امير كا ايسا لائحه عمل مرتب كريں ، جوامارت كي تاريخ ميں ، سنهرا نقش بن كرباقي رهے۔
والله هو الموفِّق وهو المستعان.

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے