بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتالواع بپن راوت_

الواع بپن راوت_

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

 تینوں مسلح افواج کے سر براہ (C.D.S)بپن راوت ۸؍ دسمبر ۲۰۲۱ء کو بارہ بج کر بیس منٹ پر نیل گیری کے جنگل میں ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق ہو گیے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ مدھو لیکا راوت اور بارہ جاں باز فوجی افسران نے بھی وجود سے عدم کی راہ اختیار کرلی، پورا ملک سوگوار ہے، اگلے دن بپن راوت اور ان کی اہلیہ کو ستر توپوں کی سلامی کے بعدایک ہی چتا پر ان کی بیٹیوں نے منہہ میں آگ دے کر آخری رسم ادا کی ، یوں بھی جلنے کے لیے بچا ہی کیا تھا۔

ہندوستان کی تاریخ میں یہ کوئی پہلا فضائی حادثہ نہیں ہے، ۱۹۸۰ء میں اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے صاحب زادہ سنجے گاندھی، ۲۰۰۱ء میں سابق مرکزی وزیر مادھوراؤ سندھیا، ۲۰۰۲ء میں پارلیامنٹ کے صدر نشیں (اسپیکر)جی ایم سی بالیوگی، ۲۰۰۴ء میں میگھالیہ کے کابینی وزیر سی سنگما، ۲۰۰۵ء میں ہریانہ کے وزیر توانائی اوپی جندل، اور ۲۰۰۹ء میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی فضائی حادثہ میں موت کی نیند سو چکے ہیں، ان سارے حادثات میں موسم کی خرابی کا بڑا دخل تھا، اس کے قبل ۲۲؍ نومبر ۱۹۶۳ء کو پونچھ میں ہونے والا ہیلی کاپٹر حادثہ سب سے بڑا فوجی حادثہ مانا جاتا رہاہے، جس میں فوج کے چھ بڑے افسران نے اپنی جان گنوائی تھی، اس کے قبل ۱۹۴۲ء میں بھی ایک فضائی حادثے میں لفٹنٹ جنرل اس ام ناگیش اور میجر جنرل کے ایس تِمیا کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔

لیکن تمل ناڈو کے کنور میں حادثہ کے شکار ایم آئی ۱۷؍ وی-۵، ہیلی کاپٹر کا معاملہ ان سب حادثات سے الگ اس لیے ہے کہ یہ فضائیہ کا سب سے محفوظ ہیلی کاپٹر تھا، یہ خراب موسم میں پرواز اور ہیلی پیڈ کے بغیر بھی زمین پر اتارا جا سکتا تھا، یہ روسی ساخت کا ناقابل تسخیر ہیلی کاپٹر تھا، اتنے محفوظ سفر میں حادثہ کا پیش آجانا اور فوجیوں کا اس طرح جل جانا کہ اس کی شناخت ڈی این اے کے ذریعہ ہو، یہ بتاتا ہے کہ اگر شیشہ پلائی ہوئی دیوار میں بھی کوئی ہوگا تو موت اسے آلے گی اور سکنڈوں کی تاخیر اس میںنہیں ہوگی، جنرل بپن راوت ان کی اہلیہ اور ان کے رفقاء کی موت کا وقت اور جگہ متعین تھا، چنانچہ متعینہ وقت اور جگہ پر ملک الموت نے اپنا کام مکمل کر دیا اور ہندوستان ،فضائیہ کے کئی جاں بازوں سے محرو ہوگیا۔

 جنرل بپن راوت کو وزیر اعظم نریندر مودی نے دو سینئر افسران کو نظر انداز کرکے بری فوج کا سربراہ بنایا تھا، نظر انداز کیے جانے والے افسر میں ایک مسلمان بھی تھا، ملازمت سے سبکدوش ہونے کے قبل مرکزی حکومت نے ایک عہدہ ’’سی ڈی اس‘‘ کا وضع کیااور سبکدوشی کے بعد یکم جنوری ۲۰۲۰ء کو انہیں اس عہدے پر مامور کرکے تینوں بری، بحری اور فضائی افواج کا مشترکہ سربراہ بنا دیاگیا۔حالانکہ رسمی طو پر ہی سہی صدر جمہوریہ تینوں فوج کا سربراہ ہوتا ہے جو’’ سول‘‘ سے ہوتا ہے، اس کی وجہ سے فوج کی بغاوت اور مارشل لا کے لگانے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، جیسا پڑوسی ملک میں بار بار ہوتا رہا ہے۔بپن راوت کے گذر جانے کے بعد نئے سربراہ کی تلاش جاری ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے