الحاج شمس الدین صاحب بہرائچی حیات و خدمات

44

تحریر: محمد سلمان قاسمی دھلوی

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

گزشتہ کل صبح گیارہ بجے راقم السطور نے مرحوم کے صاحبزادہ استاذ محترم برادر عزیز حافظ حمید الدین کو فون کیا۔
خیریت دریافت کرنے کے بعد انہوں نے فون مامو جان کو پکڑا دیا، مامو جان سے سلام کلام کے بعد خیریت معلوم کی تو کہنے لگے دعا کریں، جواباً اس گنہگار بندہ نے بروقت چند دعائیہ کلمات کہے اور ہمت باندھتے ہوے کہا کہ ان شاء اللہ آپ جلد ہی اچھے ہوکر گھر تشریف لے آئیں گےـ اگلی صبح بعد نماز فجر والد محترم نے فون کیا خیریت معلوم کرنے کے بعد بتایا کہ آج چھٹی ہوجائےگی، کسے معلوم تھا کہ یہ چھٹی ایسی ہوگی کہ ہمیشہ کے لئے ہم سب کو الوداع کہہ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملیں گےـ
(انا للہ وانا الیہ راجعون، انَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ، وَلْتَحْتَسِبْ)
ترجمہ: بے شک جو اللہ نے لے لیا وہ اسی کا ہے اور جو اس نے دے دیا وہ اسی کا ہے ،اور اس کے نزدیک ہر شخص کا ایک وقت مقرر ہے ، لہذا تمہیں صبر کرنا چاہیے اور ثواب کی امید رکھنی چاہیےـ
( رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی)

*خاندانی پس منظر و لادت*

الحاج شمس الدین بن محمد حنیف بن مدد علی آپ کے دادا پردادا ضلع بہرائچ کے موضع بلہری سے تعلق رکھتے تھے بعد میں ہجرت کرکے ضلع بہرائچ کے موضع ریولیا تشریف لے آئے اور پھر آپ کا خاندان یہیں مکمل طور پر آباد ہوگیا اور پھر آپ کی ولادت1 /جنوری سنــــــ1952ء مطابق 03 ربیع الثانی سنــــ 1371ھ روز منگل کو ہوئی ؛ اور آپ کا نام اہل خانہ نے شمس الدین رکھاـ
*تعلیم و تربیت*
آپ کی ابتدائی تعلیم جامعہ حسینیہ ریولیا میں ہوئی بعد ازاں آپ نے حکم سنگھ انٹر کالج سے high school پاس کیا نیز آپ کی تربیت آپ کے تایا شاگرد و مسترشد شیخ الاسلام حضرت مولانا منفعت علی صاحب نور اللہ مرقدہ نے کی، آپ کی صحبت کا یہ اثر ہوا کہ آپ عالم نہ ہونے کہ باجود بھی بنیادی تمام مسائل پر گہری نظر اور متنوع انسانی خوبیوں اور اخلاق جمیلہ کا ایک مجسم پیکر تھے۔
ان کی نگاہیں ہمیشہ نیچی اور زبان پر ذکر الہی جاری رہتا، مزاج میں بڑی نرمی، اور طبیعت میں نمایاں سنجیدگی تھی۔
آپ حافظ، عالم، قاری تو نہ تھے مگر مخلتف صفات حمیدہ کے حامل اور علاقہ ریولیا و اطراف کی ایک عجیب محترم شخصیت تھے، آپ کا خصوصی طغرہ امتیاز بردباری، عاجزی، صلہ رحمی، غریبوں کی مدد کرنا اور مہمان نوازی تو آپ کا خاص وصف تھا، بلکہ پورے علاقے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا. خواہ اپنا یا پرایا کوئی بھی آجاوے کبھی چائی ناشتہ یا کھائے بغیر بمشکل ہی واپس ہوپاتا تھاـ آپ حضرت مولانا منفعت علی صاحب رحمہ اللہ اور کابر علما کی ایک نشانی اور یاد گار تھے۔
(جناب الحاج شمس الدین حافظ تھے نہ عالم تھے
قدرداں علم کے مہمان نوازی میں وہ کامل تھے
وہ پابند شرع تھے اور بزرگوں کی نشانی تھے
وہ پرہیز گاری اور تقوی کی کہانی تھے)

اللہ تعالی نے ظاہری حلیہ، شکل و صورت بھی مولانا مرحوم جیسی عطا کی تھی، اور باطنی اعتبار سے بھی پوری زندگی اپنے مشفق و مربی سے جو روحانی فیوض وبرکات حاصل کی تھیں، اسی کی روشنی میں پوری زندگی گزارتے رہےـ

*بحیثیت ایک پردھان*

آپ نے دو مرتبہ پردھانی کا الیکشن لڑا جس میں کامیاب ہوے اور امانت و دیانتداری سے اس عہدہ کا استعمال کیا، ہر ممکن کوشش رہی کہ میرے یا میرے لوگوں کے ذریعہ کبھی کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہونے پاے، آپ نے پانچ سالہ مدت میں بہت ہی محتاط انداز سماجی کاموں پر توجہ دی اور علاقہ اور اہل علاقہ کے لیے بڑی محنت و جانفشانی سے کام کیا جس کے نتیجہ میں تاحیات عوام کا ( خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم) اعتماد حاصل رہا، مگر بعد میں دیگر وجوہات کی وجہ سے دوبارہ اس عہدہ کے لیے نہ کھڑے ہوےـ

*اولاد*
اللہ تعالی نے مرحوم کو چھ اولادیں عطاء کی، پانچ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی، جس میں سب سے بڑے صاحبزادے(قطب الدین صاحب) آپ کی زندگی ہی میں جوانی کی عمر میں انتقال کر گیے تھے( جن سے دو صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے) آپ کے دوسرے صاحبزادگان میں استاذ محترم حافظ حمید الدین( جن سے ایک صاحبزادہ اور ایک صاحبزادی ہے) تیسرے صاحبزادے جناب نجم الدین( جن سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے) چوتھے صاحبزادے حافظ معین الدین (جن سے تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہے) سب سے چھوٹے صاحبزادے عزیزم اعجاز الدین (جن سے دو صاحبزادے ہیں) اور صاحبزادی علاقہ ہی کے جید عالم دین جناب مولانا داود قاسمی کے عقد میں ہیں ـ (جن سے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں ہیں) آپ نے اپنی آل و اولاد کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی آخری عمر تک تربیت فرماتے رہے،آپ کے اکثر و بیشتر پوتے رب ذو الجلال کے فضل اور مرحوم کی نظر عنایت سے حافظ قرآن ہیں ـ

*بحیثیت رکن شوری جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ و مہتمم جامعہ حسینیہ ریولیا بہرائچ*

آپ کے تایا جان شاگرد و مسترشد شیخ الاسلام مولانا منفعت علی علیہ الرحمہ (رکن شوریٰ نور العلوم) کی وفات کے بعد اربابِ نور العلوم نے اولاً آپ کو معاون مجلس شوری (مدعونِ خصوصی) میں شامل کیا؛ پھر بعد میں آپ کو جامعہ کے مؤقر اور دور اندیش لوگوں نے باضابطہ مجلس شوری میں شامل کردیا اور آپ ہمیشہ اپنی قیمتی آرا سے نوازتے تھے جس پر ارباب حل و عقد عمل کرنے کی کوشش کرتے؛ آپ تقریباً 25 سال (تاحیات) مجلس شوری کے مؤقر رکن رہے ـ نیز اپنے علاقہ کے مدرسہ جس کو آپ کے تایا جان نے ہی قائم فرمایا تھا اس کی تمام تر ذمہ داریاں آپ ہی کے پاس تھی ـ گھر میں کسی چیز کی کمی نہ ہوتے ہوے بھی ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دہلی میں اس مرد مجاہد کو ادارہ میں پڑھ رہے بچوں کی خاطر جنوری کی سردی ہو یا مئی جون کی گرمی چندہ کرتے دیکھا ہے جس کے ذریعہ اساتذہ کی تنخواہوں کا انتظام کیا جاتا تھا، آپ اس ادارہ کے کم و بیش ۳۰ سال مہتمم رہے اور اس ادارہ کی ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے، دوران تعلیم کبھی بھی آپ مدرسہ میں پہنچ جاتے اور تعلیمی نظام کا جائزہ لیتےـ

*بزرگوں سے تعلق*
*قرآن مجید* اور احادیث نبویہ میں نیک لوگوں اور اہل اللہ کی صحبت میں بیٹھنے اور ان کے ساتھ رہنے کی تاکید آئی ہے، اور اس کا فائدہ اور ثمرہ بھی بتایا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے *یا ایھا اللذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین*
اے ! ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو ۔
*نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے فرمایا: اچھے اور برے ساتھی کی مثال عطار اور بھٹی والے لوہار کی طرح ہے ۔ تم عطار کی صحبت سے بے فیض نہیں رہو گے یا تم اس سے عطر خریدو گے یا پھر تم کو خوشبو سونگھنے کو ملے گی، لوہار کی بھٹی تمہارے گھر اور کپڑے کو جلا دے گی یا پھر تم کو بھی بھٹی کی بری آواز برداشت کرنی پڑے گی ـ
*حافظ ابن حجر عسقلانی رح* نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایسی مجلسوں میں انسان کو نہیں بیٹھنا چاہئے، جہاں بیٹھنے سے دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو اور صرف ایسی محفلوں اور مجلسوں میں شریک اور حاضر ہونا چاہئے جن سے دین یا دنیا کی منفعت کی امید ہو ۔(فتح الباری ۴/ ۴۰۷)
*امام راغب اصفہانی رح* نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے *اللہ تعالی* کے نیک بندوں کی صحبت میں رہنا چاہیے، ان کی محفلوں میں شریک ہونا چاہئے، اس کے بے شمار فائدے ہیں، انسان تو ظاہر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ،جانور بھی بزرگوں کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے اصحاب کہف کا کتا ان کی صحبت میں رہ کر ان کے قصہ کا جزء اور حصہ بن گیا اور قرآن کریم نے *اصحاب کہف* کے ساتھ ان کے کتے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ حاجی صاحب مرحوم کو اللہ جل شانہ نے یہ خصوصی امتیاز بخشا تھا کہ آپ کے گھرانہ کا تعلق پہلے سے ہی علما و صلحا سے قائم تھا جس کو آپ نے بخوبی نبھایا جس طرح علما و مشائخ کرام کی آمد ان کے تایا جان کے زمانے میں ہوتی تھی اسی طرح آج تک یہ سلسلہ قائم و دائم تھا ـ (خدا اس سلسلے کو ہم اہل خانہ کے ذریعہ ہمیشہ زندہ رکھے) علما کی ایک بڑی تعداد ہے جن کو آپ سے اور آپ کا ان سے بہت گہرا تعلق تھاـ جس میں عارف باللہ حضرت اقدس قاری صدیق احمد صاحب باندوی، حضرت مولانا کلیم اللہ صاحب نوری، حضرت مولانا حیات اللہ صاحب قاسمی، (علیھم الرحمہ) نور العلوم و جامعہ دارالرشاد کے تمام اساتذہ و علما بلکہ ہر فرد آپ سے محبت کرتا تھا کیونکہ آپ حقیقی جانشین تھے شاگرد و مسترشد حضرت مولانا منفعت علی صاحب علیہ الرحمہ کے جس کا آپ نے مکمل حق ادا کیا ـ

*وفات*
موت جس چیز کا نام ہے، اور جس سے ہم بہت اچھی طرح واقف ہیں، یہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ موت کے بعد کے جو واقعات قرآن اور حدیث میں ملتے ہیں، وہ تو اور بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ ان کے تذکرے سے بھی آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور اعمال کے اندر تضاد، تناقض اور منافقت و ریاکاری دور کرنے کا جذبہ انسان کے اندر پروان چڑھتا ہے۔ موت سے زیادہ یقینی چیز کوئی بھی نہیں۔ یہ بڑی ہی تلخ حقیقت ہے اور اس کڑوے گھونٹ کو پیے بغیر گزارہ بھی نہیں ہے۔ اس سے انسانوں کو مَفر نہیں ہے۔ اس لیے اپنے عزائم کو یقین کی شکل دینے سے پہلے اور اپنی خواہشات کے خوبصورت خیالی چمن میں رنگ بھر نے سے پہلے یاد رکھیے کہ موت کا فرشتہ کسی کی جوانی سے نہیں گھبراتا، کسی کے گھر کی ضرورت کا جائزہ نہیں لیتا، کسی کے بچوں کی یتیمی پہ رحم کر کے مہلت نہیں دیتا۔
اس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جوانی کی طرف بڑھتی ہوئی اولاد کو اپنے والدین کی شفقت کی بہت ضرورت ہے ۔ وہ بے غرض ہے اس بات سے کہ بیوی کو شاید اس جیسا خیر خواہ خاوند نہ مل سکے، وہ بے خبر ہے ہماری مجبوریوں سے، وہ لا علم ہے ہماری خواہشات کے حسین باغ سے ، وہ مستغنی ہے کسی کی ناراضگی سے، اور یہ سب کچھ اس لئے کہ وہ اپنے اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ چنانچہ دستورِ خداوندی کے تحت 27/ سمتبر سنــــــ2020ء مطابق 9/ صفر المظفر ۱۴۴۱ھ روز اتوار قریباًو صبح دس بجے آپ اس دنیا سے دار بقا کی جانب کوچ کر گئے۔
الله تعالی ہمارے مامو جان کی قبر کو ایمان کے نور سے منور فرما دے۔
تعزیت و جنازے پہ آنے والے لوگوں میں سے کوئی نیکی کی گواہی دے رہا تھا تو کوئی صلہ رحمی کی تعریف کر رہا تھا کوئی ان کے اچھے اخلاق کی قصہ گوئی کر رہا تھا تو کوئی ان کی متاثر کن ملاقاتوں اور ہر ملنے والوں کے ساتھ حسن تعامل کا ذکر کر رہا تھا ۔ بیٹے صبر کے آنسو بہا رہے تھے ایک ایسے باپ سے محروم ہو جانے پہ جس کی زندگی میں انہوں نے کبھی شر نہیں دیکھا تھا ۔
تینوں بھائی افسردہ دکھائی دے رہے تھے اس بھای کے فراق پہ جس کا نعم البدل شاید ان کو نہیں مل سکے گا۔
مگر ان کا کل کا صبر وحوصلہ یہ بتا رہا تھا کہ صبر واستقامت کی کہانیاں پرانی نہیں ۔ابھی بھی اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔
اور مجھے وہ حدیث بار بار یاد آ رہی تھی ۔
فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ. صحيح مسلم.
یقیناً فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں۔
اس لیے ہم سب اپنی زندگی میں تعامل کو اتنا حسین بنائیں کہ لوگ آپ کے جنازے کو دیکھ کر رشک کریں۔
اتنا خوبصورت بنائے اپنے تعلقات کو کہ لوگ آپ کے مرنے کے بعد آپ جیسا ڈھونڈتے ہی رہ جائیں ۔ اتنا اعلی رکھئے اپنا اخلاق کہ اللہ بھی راضی ہو اور فرشتے بھی استقبال کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیں۔
یا الہی..!ہمارے مامون جان کا شمار ان لوگوں میں فرما: جن کو تو فوت ہونے کے بعد مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي
تو داخل ہو جا میرے بندوں میں ۔
اور تو داخل ہو جا میری جنت میں ۔