اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل سترہ، اٹھارہ ، اُنیس اور بیس، اور قرآن ۔

60

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل سترہواں۔

۱ – ہر ایک کو دوسروں کے ساتھ مشترکہ یا تنہا جائیداد رکھنے کا حق ہے۔

۲- کسی کو بھی اپنی من مانی سے اُ س کے جائیداد سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل سترہوا ں اور قرآن:

اللہ قرآن میں سورۃ النساء آیت نمبر ۳۲ میں ہر ایک کو اپنی جائیداد اور اپنی کمائی کا حق دیتا ہے ۔ اور یہ ذکر کرتا ہے، اور مت ہوس کرو اس فضیلت میں جو الله نے بعض کو بعض پر دی ہے مردوں کو اپنی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

اس آیت میں بہت واضع طور یہ بات کہی گئی ہے کہ ، مرد اور عورت دونوں جو بھی کمائیں یا جو بھی جائیداد اں کو وراثت میں ملے اس پر ان کا حق ہے، اسلام میں یہ حق مردوں کو عورتوں دونوں کو دیا ہے۔ اگر میاں بیوئی دونو ں کماتے ہیں تو مرد کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنی عورت کے پیسے پر اپنا حق جتائے، جبکہ اس بات کا ذکر ہے کہ مرد گھر کے سارے اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ سورۃ النساء آیت نمبر ۳۴ میں اللہ فرماتا ہے۔ اللہ نے مرد کو کمائی کا احسان کیا ہے اس میں مرد کو چاہیے کےخواتین کا پورا خیال رکھے، اللہ کا احسان ہے کہ مرد کو کمائی میں فضلیت دی ہے، ان میں سے کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے عطاء کیا ہے ، اس دولت میں سے جو کچھ وہ خود خرچ کر سکتے ہیں ، وہ خرچ کریں ۔

اسطرح یہ احکمات انسانی حقوق جو اقوام متحددہ نے آرٹیکل سترہ میں بیان کیے ہیں کہ ہر ایک کو اپنی ذاتی جائیداد رکھنے کا پورہ حق حاصل ہے۔

اسی آرٹیکل کے مد رقم دو میں کسی کو بھی اس کی جائیداد سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ حکم

اللہ قرآن میں سورۃ النساء آیت نمبر ۶ میں فرماتا ہے، اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو اور انصاف کی حد سے تجاوز کر کے یتیموں کا مال نہ کھا جاؤ اور ان کے بڑے ہونے کے ڈر سے ان کا مال جلدی نہ کھاؤ اور جسے ضرورت نہ ہو تو وہ یتیم کے مال سے بچے او رجو حاجت مند ہو تو مناسب مقدار کھالے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کر و تو اس پر گواہ بنا لو اور حساب لینے کے لیے الله کافی ہے۔

اس آیت میں اللہ یتیموں کے جائیداد کے بارے ہدایت کرتا ہے، جس کسی بچوں کا باپ مرجائے تو ان بچوں کے جائیداد کی دیکھ بھال کسی قریب ترین عزیز کی ذمہ داری ہوتی ہے، حتیٰ کہ بچے سن بلوغت کو پہنچے، اور وہ عقل و شعور استعمال کے قابل ہوں ، جب وہ بچے اس قابل ہو جائیں کے اپنے جائیداد کو سنبھال سکیں تو جو بھی سر پرست ہو اُسے چاہیے کہ وہ یتیموں کو اُن کی جائیداد اُن کے سپرد کرے ، اس بات کوئی گواہ مقرر ہو کہ جن کا حق تھا اُن کو وہ حق پہنچ گیا۔ اس آیت کا آخری جملہ ایک وارنگ کی شکل میں ہے، اور حساب لینے کے لیے الله کافی ہے۔

اسی سورۃ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اپنے جگہ سے کہیں سفر کررہا ہے ، اور کسی وجہ سے اپنا مال جیسے زمین ، یا کسی بھی دیگر قیمتی سامان بطور امانت جمع کیا ہو ، وہ امانت مالک کو واپس کرنا چاہئے۔یہ حکم سورۃ النساء آیت نمبر ۵۸ میں بیان کیا ہے۔

مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔

کچھ خاص حالات میں ، لوگ طویل عرصے تک مالک کی عدم موجودگی میں اس کی زمین پر قبضہ کرتے ہیں ، پھر بحث کرتے ہیں کہ ہمارے پاس قبضے کا حق ہے ، کیونکہ ہم نے عرصہ تک محفوظ رکھا ۔

اس طرح ان احکمات کے ذریعے قرآن انسانی برادری پر اخلاقی ضابطے کی بنیادی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے ۔ یعنی اعتماد کی تکمیل اور انصاف برقرار رکھنا۔

قرآن کے یہ احکمات اقوام متحددہ کے آرٹکل سولہ کے عین مطابق ہے ، جو اوپر مطلوب دونوں بند کی تائید کرتے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل اٹھارہ۔

ہر ایک کو ، ضمیر آزاد خیالی اور مذہب کی آزادی کا حق ہے۔اس حق میں اپنے مذہب یا اعتقاد کو تبدیل کرنے کی آزادی بھی شامل ہے ، خیالات کی آزادی ، یا تو تنہا یا اجتماعی طور پر عوامی یا نجی طور پر ، اس کے مذہب یا اس کی تعلیم ، ، عبادت اور پیروی پر عمل کی کھلی چھوٹ ہو ۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل اٹھارہ اور قرآن۔

قرآن سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۵۶ میں فرماتا ہے، دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے۔

قرآن اس بات کی تصدیق کرتا ہے ، مذہب کی آزادی ہر انسان کو ہے ، اور اوروں پر زبردستی اپنے خیالات دھوپنے کی مذمت کرتا ہے۔ جب اپنے عقائد دوسروں پر زبردستی لاگو نہیں کیے جاسکتے ہیں تو ہر انسان کو اجازت ہے کہ وہ جیسے چاہیے عبادت یا اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ مگر اس آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے مذہب اور ان کے دیوی دیتا ، یا کسی پیغمبر اور رشی منی کا مذاق اُڑائے۔ بولنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ،ایک خاس حد مقرر کردی گئی۔ یورپ میں اس بولنے کی لا محدود آزادی کی وجہ سے حضور ﷺ پر کارٹون بنا کر اُن کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری اور پورے مسلم قوم میں غم اور غصہ کی لہر پھیلا دی جاتی ہے۔ اسلام ان چیزوں کی سختی سے ممانت کرتا ہے۔

اللہ سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۰۸ میں فرماتا ہے، اور جن کی یہ الله کے سوا پرستش کر تےہیں انہیں برا نہ کہوورنہ وہ بے سمجھی سے زیادتی کرکے الله کو برا کہیں گے اس طرح ہر ایک جماعت کی نظر میں ان کے اعمال کوہم نے آراستہ کر دیا ہے پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر آنا ہے تب وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ کیا کرتے تھے۔

ہر قوم کے نظر میں ان کے پرستش طریقے ان کے دیوی دیوتا محترم ہیں ، لہذا کسی پر اس کے مذہبی باتوں پر اور اُن کے اعمال کے طریقے پر تنقید یا بُراا بھلا کہنے پر اللہ نے منع فرمایا۔ اس طرح ہر انسان کو اپنے رسم و رواج کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ اگر مسلمان یہ سوچ کر کہ دوسرے غلط کررہے ہیں ان کو زبردستی روکنے کی کوشش کریں تو فعل غلط ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کی خود ذمہ داری لیتا ہے ، اور کہتا ہے، پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر آنا ہے تب وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ کیا کرتے تھے۔

ہمیں ضرور یہ حکم ہے کہ لوگوں کو غلط کاموں سے روکیں مگر زبردستی نہیں، بلکہ بہت ہی اچھے طریقے سے ۔ قرآن حکم دیتا ہے، سورۃ النحل آیت نمبر ۱۲۵ میں فرماتا ہے، اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں سے بحث کرنے سے منع فرماتا ہے، جنہیں اللہ نے کتاب عطا کی، اُن کے پاس اللہ کی ہدایت تو پہنچی مگر وہ اس پر عمل پیرانہیں ہیں۔ قرآن میں سورۃ العنکبوت آیت نمبر ۴۶ میں فرماتا ہے، اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو مگر جو ان میں بے انصاف ہیں اور کہہ دو ہم اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہونے والے ہیں۔ اللہ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجے ہیں اور ہر ایک قوم کو کتاب دی ہے۔

سورۃ ابراھیم آیت نمبر ۴ میں اللہ فرماتا ہے، اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے پھر الله جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اوروہ غالب حکمت والا ہے۔

یہ تمام آیتیں اقوام متحدہ کے آرٹیکل نمبر اٹھارہ کے اس بات کی تصدیق کرتی ہیں ، خیالات کی آزادی ، یا تو تنہا یا اجتماعی طور پر عوامی یا نجی طور پر ، اس کے مذہب یا اس کی تعلیم ، ، عبادت اور پیروی پر عمل کی کھلی چھوٹ دیتی ہے۔

 

 

 

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل انیس۔

ہر ایک کو اپنی آزادانہ رائے اور اُس کے اظہار کا آزادی کا حق حاصل ہے، اس حق میں بغیر کسی بھی مداخلت کے رائے رکھنے کی آزادی بھی شامل ہے، اور کسی بھی میڈیا کے ذریعہ اور کسی بھی محاذ سے قطع نظر ، معلومات اور نظریات کی تلاش ، حاصل اور ان کو فراہم کرنا کا حق شامل ہے۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل انیس اور قرآن؛ اللہ سورۃ الکہف آیت نمبر ۲۹ میں فرماتا ہے،

اور کہہ دو سچی بات تمہارے رب کی طرف سے ہے پھر جو چاہے مان لے اور جو چاہے انکار کر دے ۔

آیت بہت اچھی طرح سے کہتی ہے کہ ہدایت کھلی ہے اور حق آگیا ہے لیکن پھر بھی دوسروںکو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ، کہ اس کو مانے یا نا مانے۔ اس طرح ہر شخص کو قرآن مجید کے ذریعہ نازل کردہ حکم کو رد کرنے یا قبول کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ لہذا ، ہر ایک کو اپنی رائے اور اظہار رائے کی آزادی اور اس کی پیروی کرنے ، اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا حق ہے۔

قرآن ایک ایسی راہ بتاتا ہے، جو انسانیت کو فروغ دیتا ہے، اور ہر غلط بات یا کام کو ریجیکٹ کرتا ۔ غلط کاموں کا انجام یا بدلہ آخیرت میں بڑا ہی درد ناک ہے، قرآن کی بات نا ماننا آ پنے نفس پر ظلم کرنا ہے، کیونکہ آخرت میں نفس دردناک عذاب سے دو چار ہوگا۔ اس کے باوجود قرآن کسی کو بھی مجبور نہیں کرتا کہ اس کی باتیں زبردستی قبول کی جائیں۔ جو قرآن کو مانتے ہیں اُنھے بھی قرآن کہتا ہے کہ بات مانو غور و خوص کرنے کے بعد اور اللہ کے نشانیاں دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ۔ قرآن ہر بات دلیل سے سمجھاتا ہے۔

یہ قرآن کی تعلیمات اقوام متحددہ کے آڑٹیکل انیس کے عین مطابق ہے۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل بیس؛

ہر ایک کو پُر امن طریقے سے اجتماع اور اپنے ہم خیالوں کے ساتھ جماعت بنانے کے آزادی کا حق حاصل ہے۔

کسی کو کسی ایک خاص نظر یاتی جماعت سے تعلق رکھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل بیس اور قرآن؛ ہم نے اس سے پہلے بھی اس موضوع پر اسی کتاب میں لکھا کہ اسلام دین کے معاملے میں کسی پر زور زبردستی نہیں کرتا ۔ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۵۶ میں فرماتا ہے۔دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے ۔

اسی طرح اللہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۶۲ فرماتا ہے۔ جو کوئی مسلمان اور یہودی اور نصرانی اورصابئی الله اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اس آیت میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ قرآن کسی بھی طرح کسی بھی عقیدے کو قبول کرنے یا کسی انجمن کا حصہ بننے پر مجبور نہیں کرتا ہے۔اللہ سورۃ البقرۃ میں آیت نمبر ۱۴۸ میں فرماتا ہے،

ہر ایک کا اپنا ایک مقصد ہوتا ہے جس کی طرف اس کا رخ ہوتا ہے۔ لہذا ، اچھے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دو ، تم نیکیوں کی طرف دوڑو تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو الله سمیٹ کر لے آئے گا بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے۔

اس آیت میں آزادانہ خودمختاری کا اعلان ، جو بھی گروہ ہے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے جس طرف رخ کرے تاکہ اپنا مقصد حاصل ہو، اور اس طرح ، کوئی بھی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی پسند کے سوا کسی دوسرے کے نظریاتی گروہ میں شامل ہو۔

یہ تعلیمات اقوام متحددہ کے واضع کردہ آرٹکل بیس کے عین مطابق ہے، جو ہر انسان کو اس بات کا حق دیتا ہے کہ، وہ اپنے نظریات کے حصول کے لئے آزاد ہے، اور اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ مجبوراً کسی خاس جماعت سے وابستہ ہو۔

پروفیسرمختار فرید بھیونڈی