بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزاقلیتی فلاح آفیسر کا ایک ہی ضلع میں دوبارہ تقرری ہونے سے...

اقلیتی فلاح آفیسر کا ایک ہی ضلع میں دوبارہ تقرری ہونے سے بدعنوانی عروج پر۔ ویشالی کا اقلیتی طبقہ فلاحی اسکیموں سے محروم۔ حکومت سے توجہ کی گزارش

حاجی پور 11۔ ستمبر (پریس ریلیز)
اقلیتوں کی فلاح کے لیے حکومت کے جانب سے چلائے جارہے مختلف اسکیموں کا فائدہ گزشتہ کئی سالوں سے ویشالی ضلع کے عوام کو حاصل نہیں ہو پا رہا ہے۔ ضرورت مند افراد اپنی فریاد لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کیوں کہ موجودہ اقلیتی فلاح افسر محمد ساجد کی اس ضلع میں اسی عہدے پر دوبارہ تقرری ہوئی ہے۔ جس سے ان کی من مانی اور بدعنوانی کافی بڑھ گئی ہے۔ ضرورت سے زیادہ ان کی بے حسی، لاپرواہی اور ذہنی تعصب پرستی کی وجہ سے ویشالی ضلع میں کسی بھی اقلیتی سرکاری اسکیم کا نفاذ عمل میں نہیں آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ویشالی ضلع کے مشہور و معروف دانشور، سیاسی و سماجی خدمت گزار اور جنتا دل یو اقلیتی سیل کے فعال و متحرک کارکن ابوبکر صدیقی نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ نئی روشنی کے تحت اقلیتی طبقہ کی خواتین کو خود کفیل اور بااعتماد بنانے کے لیے بہت پہلے وزارت اقلیتی برائے امور نے ایک پروگرام وضع کیا تھا جس کا فائدہ آج تک ویشالی ضلع کے کسی بھی اقلیتی خواتین کو حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ اور نہیں قاعدے سے ویشالی ضلع کی بیوہ اور مطلقہ عورتوں کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے دیے جانے والا امداد پہنچ سکا ہے۔ مزید انہوں نے بتایا ہے کہ ویشالی میں بے روزگار نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے لئے اور روزگار قائم کرنے کے لیے محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے دیے جانے والا قرض (لون) اصل مستحقین کو نہیں مل پارہا ہے۔ سرکاری مدرسوں کی عمارتوں کو محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے مدرسہ شودھی کرن یوجنا کے تحت تعمیر کرانے کے لیے چند مدرسوں کا کاغذی کام پورا کرالیا گیا تھا۔ لیکن آج تک ویشالی ضلع اقلیتی فلاح افسر کی سست رفتاری کی وجہ سے ان مدرسوں کی عمارتوں کی تعمیر نہیں کرائی جا سکی ہے۔ اور نہیں مستقبل میں ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی مدرسوں کی عمارتوں کی تعمیر ویشالی ضلع میں سرکاری سطح پر کبھی کرائی جاسکتی ہے۔ بہرحال مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے منسلک اقلیتی فلاح افسر کی نیت بالکل صاف نہیں ہے۔ اور وہ چند دلالوں کی گود میں بیٹھ کر اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ مزید انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال جب سے محمد ساجد کی اس ضلع میں دوبارہ تقرری ہوئی ہے۔ تب سے ویشالی کے طلباء کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپ قاعدے سے نہیں دی جا رہی ہے۔ جس سے یہاں کے عوام میں کافی ناراضگی ہے۔ جبکہ کرونا کے اس دور میں ضرورت اس بات کی تھی کہ بغیر پیچ پانچ اور روک ٹوک کے سرکاری اسکیموں کا فائدہ عوام تک زیادہ سے زیادہ پہنچایا جائے۔ تاکہ لوگوں کو کرونا وبا سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کچھ حد تک ہو سکے۔
آخر میں ابوبکر صدیقی نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار کو انہوں نے ایک خط لکھ کر ویشالی ضلع اقلیتی فلاح افسر کو فوری طور پر تبادلہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ اور کہا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار اقلیتوں کی ترقی اور کامیابی کے لئے بہت حساس اور فکر مند ہیں۔ ایسے نہ کام کرنے والے افسران کی وجہ سے ان کی شبیہ پورے ویشالی ضلع میں دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ جس کو وہ اور ان کی پارٹی کے رہنما قطعي منظور نہیں کریں گے۔
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے