افغانستان! کشاد او کشاد آسیا..تحریر :خورشید انور ندوی

148

تحریر :خورشید انور ندوی
16 جولائی 2021
افغانستان! کشاد او کشاد آسیا..
(اقبال کا خیال)
حکمت کو دوام ہو نہ ہو پائیداری ضرور ہے.. بصیرت، صاحب بصیرت کی اپنی پہچان کے عمومی دائرے سے باہر کی حقیقتیں بھی دیکھ لیتی ہے.. سوچنے والا دماغ اور ایمانی فراست کے ساتھ ڈھڑکنے والا دل ،جغرافیہ کے حدود سے نکل جایا کرتا ہے.. اور فکری جولانیوں کا شاعر بھی فلسفہ، نظریاتی اور تطبیقی علوم، تاریخ اور سیاسیات کے نظریئے وضع کرجاتا ہے.. اقبال کی پہچان ایک شاعر کی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ مرد قلندر ابھی بھی اپنوں کے لئے ایک “نادریافت” شخصیت ہے.. اس پر کام بہت محدود وژن کے ساتھ کیا گیا ہے.. مسلمانان ہند کی ایک بڑی ظاہر بین تعداد تو اس کو اس لئے پسند نہیں کرتی کہ اس کے ڈاڑھی نہیں تھی.. دوسری ایک بھیڑ اس کو اس زاوئیے سے دیکھتی ہے کہ اس نے ان کا ایک بت پاش کردیا تھا.. اس لئے اس کے لئے خیر کا دروازہ بند ہے.. بھلا ہو ایک شریف سید زادے مولانا ابوالحسن علی ندوی رح کا جنھوں نے کسی اندیشہ ملامت میں گرفتار ہوئے بغیر، فکر اقبال کی توانائی اجاگر کی، اور دین پسند حلقوں میں ان کی فکر کو اعتبار بخشا.. اقبال کے تصور دین کی آفاقیت کو زمینی اور گروہی حد بندی سے ماوراء کیا.. یہ علی میاں ندوی رح کی شخصیت کا جادو تھا کہ روایتی دینی حلقوں میں اقبال کے مداح پیدا ہوئے یا کم از کم اس حلقے میں ان کی خاموش مقبولیت بڑھ گئی، ورنہ مولانا مودودی رح کے جیسا ہی سلوک اقبال کے ساتھ بھی ہوا ہوتا.. کیونکہ یہ حلقۂ ولایت، ہر چیز، شخصیات کے حب وکرہ کے معیار سے جانچتا ہے.. خود پڑھ کر سمجھتا کم ہے..
آج افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اور پچھلے تین چار دہائیوں سے جو کچھ ہوتا رہا ہے.. اس پر بہت کچھ لکھا گیا، ساری دنیا کی پولیٹیکل تھنک ٹینک نے بہت سارے تجزیے کئے.. اس کے پہاڑوں کے سینے میں سمائی معدنیات کسی کا مرکزی نقطہ بنا، تو اس کی جیوپولیٹیکل استریتیجک پوزیشن کسی کی توجہ کا مرکز بنی.. لیکن ان تمام نئی اور بدلی صورت حال سے کوسوں دور اور صدی پہلے اقبال نے اس مملکت کوہسار کے بارے میں چند مصرعوں میں کیا کہا تھا.. دیکھئے :
آسیا یک پیکر آب وگل است
ملت افغاں در آں پیکر دل است
از فساد او فساد آسیا
از کشاد او کشاد آسیا.
اقبال نے افغان قومیت، اور افغان مملکت کے حوالے سے افغانستان کو نہیں دیکھا تھا، بلکہ اس درویش نے اسلام کے فکری عنصر سے گندھ کر اٹھی ملت اسلامیہ افغان کو دیکھا تھا.. جو اپنی توانائی، یورشوں کی گزرگاہ میں پنپی بے پناہ قوت مزاحمت، انتہائی دین پسندی اور مسلمان کی نظری حب شہادت کی بدولت، آں چیزے دیگر است کی مثال تھی.. پوری دنیا میں نظریہ پرستی کے بجائے یہ ملت افغان نظریہ اور شعائر پر سمجھوتہ کے بجائے موت کو ترجیح دینے والی تھی.. آج ساری مسلم دنیا طالبان میں جس توسع اور بیرونی دنیا سے با اصول ہم آہنگی کی خواہش رکھتی ہے، اقبال اپنی نظم “ابدالی” میں شاید یہی کیفیت ملت افغان میں پیدا کرنا چاہتے تھے.. ورنہ مغرب کے فروغ کے اسباب، اور اس کی تہذیبی اساس کی تلاش کی کوشش نہ کرتے اور دعوت نہ دیتے…
قوت مغرب نه از چنگ و رباب
ني ز رقض دختران بي حجاب
ني ز سحر ساحران لاله روست
ني ز عريان ساق و ني از قطع موست
محکمي او را نه از لاديني است
ني فروغش از خط لاتيني است
قوت افرنگ از علم وفن است
از همين آتش چراغش روشن است.
اقبال نے مغرب کے اسباب ترقی کا تجزیہ کرکے، اپنی امیدوں کی نئی آماجگاہ ملت افغان کو کوئی پیغام دینا چاہا ہے کہ وہ روایتی سوچ بدلے اور عروج وزوال کے فلسفہ کا تعقل پسندانہ تجزیہ کرے.. میں طالبان کی باز واپسی کا متمنی تھا اس امید کے ساتھ کہ انھوں نے بہت کچھ نیا سیکھ لیا ہوگا، جیسا کہ قطر میں امریکہ کے ساتھ گفت وشنید کے وقت ان کے ترجمان نے کہا تھا کہ ہم نے ماضی سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے.. طالبان کی ایک سیکھ یہ ہے کہ وہ بیک وقت روس پرانا جنگی حریف، امریکہ ماضی قریب کا حریف، چین ابھرتا پڑوسی اور نیا ورلڈ آرڈر لانے کے امکانات سے بہرہ ور، عرب ممالک وعدہ فراموش دوست، اور قدیم فرقہ وارانہ حساسیت سے آزادی اور ایران سے قربت، پاکستان جیسے دفاعی امکانات سے مالامال پڑوس اور طالبان کا بانی ملک، سب سے بیک وقت انگیجڈ ہیں.. یہ خارجہ پالیسی میں ان کی ایک نئی جست ہے اور کامیابی کی شاہ کلید بھی.. تمنا ہے کہ داخلی سطح پر وہ نری اصول پسندی کے بجائے کشادہ مفاہمت کا راستہ اپنائیں..اور اقبال کی ملت افغان بن جائیں جو ایشیا کا دل ہو اور اس کی بھلائی میں سارے خطے کی بھلائی ہو.. دنیا بھی یہ باور کرلے کہ اس کی ابتری میں کسی کی بہتری نہیں..