اعتکاف کے فضائل و مسائل شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

78

اعتکاف کے فضائل و مسائل
شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔
رمضان مبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک اعتکاف بھی ہے ۔ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہو کر بس اللہ سے لو لگا کے اس کے درپہ ( یعنی کسی مسجد کے کونہ میں)پڑ جانے اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اسی کی ذکر و فکر میں مشغول رہے یہ خواص بلکہ اخص الخواص کی عبادت ہے۔ اس عبادت کے لئے بہترین وقت رمضان مبارک اور خاص کر اس کا آخری عشرہ ہی ہو سکتا تھا اس لئے اسی کو اس کے لئے انتخاب کیا گیا
نزول قرآن سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک میں سب سے یکسو اور الگ ہو کر تنہائی میں اللہ تعالی کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر کا جو بیتابانہ جذبہ پیدا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں آپ مسلسل کئی مہینے غار حرا میں خلوت گزینی کرتے رہے، یہ گویا آپ کا پہلا اعتکاف تھا اور اس اعتکاف ہی میں آپ کی روحانیت اس مقام تک پہنچ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول شروع ہو جائے چنانچہ حرا کے اس اعتکاف کے آخری ایام ہی میں اللہ کے حامل و حی فرشتے جبرئیل علیہ السلام سورۂ اقرأ کی ابتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے۔ تحقیق یہ ہے کہ یہ رمضان المبارک کا مہینہ اور اس کا آخری عشرہ تھا اور وہ رات شب قدر تھی اس لیے بھی اعتکاف کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا انتخاب کیا گیا ۔
روح کی تربیت و ترقی اور نفسانی قوتوں پر اس کو غالب کرنے کے لیے پورے مہینے رمضان کے روزے تو تمام افراد امت پر فرض کئے گئے گویا کہ اپنے باطن میں ملکوتیت کو غالب اور بہیمیت کو مغلوب کرنے کے لئے اتنا مجاہدہ اور نفسانی خواہشات کی اتنی قربانی تو ہر مسلمان کے لئے لازم کر دی گئی کہ اس پورے محترم اور مقدس مہینے میں اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی عبادت کی نیت سے دن کو نہ کھائے نہ پئے نہ بیوی سے متمع ہو اور اسی کے ساتھ ہر قسم کے گناہوں بلکہ فضول باتوں سے بھی پرہیز کرے اور یہ پورا مہینہ ان پابندیوں کے ساتھ گزارے،پس یہ تو رمضان مبارک میں روحانی تربیت وتزکیہ کا عوامی اور کمپلسری کورس مقرر کیا گیا اور اس سے تعلق باللہ میں ترقی اور ملاءاعلی سے خصوصی مناسبت پیدا کرنے کے لئے اعتکاف رکھا گیا اس اعتکاف میں اللہ کا بندہ سب سے کٹ کے اور سب سے ہٹ کر اپنے مالک و مولا کے آستانے پر اور گویا اسی کے قدموں میں پڑ جاتا ہے، اس کو یاد کرتا ہے، اسی کے دھیان میں رہتا ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے،اس کے حضور میں توبہ واستغفار کرتا ہے، اپنے گناہوں اور قصوروں پر روتا ہے، اور رحیم و کریم مالک سے رحمت و مغفرت مانگتا ہے، اس کی رضا اور اس کا قرب چاہتا ہے، اسی حال میں اس کے دن گزرتے ہیں اور اسی حال میں اس کی راتیں گزر تی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی بندے کی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہتمام سے ہر سال رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے بلکہ ایک سال کسی وجہ سے رہ گیا تو اگلے سال آپ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، وفات تک آپ کا یہ معمول رہا،آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
ازواج مطہرات اپنے حجروں میں اعتکاف فرماتی تھیں، اور خواتین کے لیے اعتکاف کی جگہ ان کے گھر کی وہی جگہ ہے جو انہوں نے نماز پڑھنے کی مقرر کر رکھی ہو اگر گھر میں نماز کی کوئی خاص جگہ مقرر نہ ہو تو اعتکاف کرنے والی خواتین کو ایسی جگہ مقرر کر لینی چاہئے ۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ایک سال آپ اعتکاف نہیں کرسکے تو اگلے سال بیس دن تک اعتکاف فرمایا (جامع ترمذی)
انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ایک سال اعتکاف نہ ہو سکنے کی کیا وجہ پیش آئی تھی۔ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک حدیث مروی ہے اس میں تصریح ہے کہ ایک سال رمضان کے آخر میں آپ صلی اللہ وسلم کو کوئی سفر کرنا پڑ گیا تھا اس کی وجہ سے اعتکاف نہیں ہو سکا تھا اس لئے اگلے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا اور صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جس سال آپ صلی اللہ وسلم کا وصال ہوا اس سال کے رمضان میں بھی آپ صلی اللہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا یہ بیس دن کا اعتکاف غالباً اس وجہ سے فرمایا تھا کہ آپ کو یہ اشارہ مل چکا تھا کہ عنقریب آپ کو اس دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اس لئے اعتکاف جیسے اعمال کا شغف بڑھ جانا بالکل قدرتی بات تھی ۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرمایا کہ معتکف کے لیے شرعی دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کو جائے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے باہر نکلے، نہ عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار کرے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بھی مسجد سے باہر نہ جائے سوائے ان حوائج کے جو بالکل ناگزیر ہیں ( جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ) اور اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہیے بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں اور مسجد جامع میں ہونا چاہیے اس کے سوا نہیں (سنن ابی داؤد)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ ( اعتکاف کی وجہ سے مسجد میں مقید ہو جانے کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرف جاری رہتا ہے اور نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے (سنن ابن ماجہ)
جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے کو مسجد میں مقید کر دیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت وغیرہ کے راستہ سے اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرتا ہے لیکن بعض بہت بڑی نیکیوں سے وہ مجبور بھی ہوجاتا ہے۔ مثلاً وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کر سکتا جو بہت بڑے ثواب کا کام ہے کسی لاچار مسکین یتیم اور بیوہ کی مدد کے لئے دوڑ دھوپ نہیں کر سکتا کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا جو اگر ثواب کے لئے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کے لیے نہیں نکل سکتا جس کے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں لیکن اس حدیث میں اعتکاف والے کو بشارت سنائی گئی ہے کہ اس کے حساب اور اس کی صحیفہ اعمال میں اللہ تعالی کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہو جاتا ہے اور وہ ان کا عادی تھا ۔
اس لئے اللہ تعالی توفیق دے تو ہر مسلمان کو اس سنت کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے اور کریم آقا کے دروازے پر سوالی بن کر بیٹھ جانا بہت ہی بڑی سعادت ہے ۔ یہاں اعتکاف کے چند مسائل لکھے جاتے ہیں۔
(1) رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت کفایہ ہے اگر محلے کے کچھ لوگ اس سنت کو ادا کریں تو مسجد کا حق جو اہل محلہ پر لازم ہے ادا ہو جائے گا اور اگر مسجد خالی رہی اور کوئی شخص بھی اعتکاف میں نہیں بیٹھا تو سب محلے والے لائق عتاب ہوں گے اور مسجد اعتکاف سے رہنے کا وبال پورے محلے پر پڑے گا
(2) جس مسجد میں پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو اس میں اعتکاف کے لئے بیٹھنا چاہیے اور اگر مسجد ایسی ہو جس میں پنج وقتہ نماز باجماعت نہ ہوتی ہو اس میں نماز باجماعت کا انتظام کرنا اہل محلہ پر لازم ہے
(3) عورت اپنے گھر میں ایک جگہ نماز کے لئے مقرر کرکے وہاں اعتکاف کرے اس کو مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے کا ثواب ملے گا
(4) اعتکاف میں قرآن مجید کی تلاوت درود شریف ذکر و تسبیح دینی علم سیکھنا اور سکھانا اور انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ کرام اور بزرگان دین کے حالات پڑھنا اپنا معمول رکھے بے ضرورت بات کرنے سے احتراز کرے
(5) اعتکاف میں بے ضرورت اعتکاف کی جگہ سے نکلنا جائز نہیں ورنہ اعتکاف باقی نہیں رہے گا ( واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ سے مراد وہ پوری مسجد ہے جس میں اعتکاف کیا جائے خاص وہ جگہ مراد نہیں جو مسجد میں اعتکاف کے لیے مخصوص کر لی جاتی ہے )
(6) پیشاب پاخانہ اور غسل جنابت کے لئے باہر جانا جائز ہے اسی طرح اگر گھر سے کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو کھانا کھانے کے لئے گھر جانا بھی جائز ہے
(7) جس مسجد میں معتکف ہے اگر وہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو نماز جمعہ کے لیے جامع مسجد میں جانا بھی درست ہے مگر ایسے وقت جائے کہ وہاں جاکر تحیۃالمسجد اور سنت پڑھ سکے اور نماز جمع سے فارغ ہو کر فوراً اپنے اعتکاف والی مسجد میں واپس آجائے
(8) اگر بھولے سے اپنی اعتکاف کی مسجد سے نکل گیا تب بھی اعتکاف ٹوٹ گیا
(9) اعتکاف میں بے ضرورت دنیاوی کام میں مشغول ہونا مکروہ تحریمی ہے مثلاً بے ضرورت خرید وفروخت کرنا ہاں اگر غریب آدمی ہے کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں وہ اعتکاف میں بھی خرید و فروخت کرسکتا ہے مگر خریدوفروخت کا سامان مسجد میں لانا جائز نہیں
10) حالت اعتکاف میں بالکل چپ بیٹھنا درست نہیں ہاں اگر ذکر و تلاوت وغیرہ کرتے کرتے تھک جاۓ تو آرام کی نیت سے چپ بیٹھا صحیح ہے ۔ بعض لوگ اعتکاف کی حالت میں بالکل ہی کلام نہیں کرتے بلکہ سر منہ لپیٹ لیتے ہیں اور اس چپ رہنے کو عبادت سمجھتے ہیں یہ غلط ہے، اچھی باتیں کرنے کی اجازت ہے ہاں بری باتیں زبان سے نہ نکالے اسی طرح فضول اور بے ضرورت باتیں نہ کرے بلکہ
ذکر و عبادت اور تلاوت و تسبیح میں اپنا وقت گزارے خلاصہ یہ کہ محض چپ رہنا کوئی عبادت نہیں
(11) رمضان المبارک کے دس دن اعتکاف پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد میں اعتکاف کی نیت سے داخل ہو جاۓ کیونکہ بیسویں تاریخ کا سورج غروب ہوتے ہی آخری عشرہ شروع ہو جاتا ہے پس اگر سورج غروب ہونے کے بعد چند لمحے بھی اعتکاف کی نیت کے بغیر گزر گئے تو اعتکاف مسنون نہ ہوگا ۔
(12) اعتکاف کے لئے روزہ شرط ہے پس اگر خدانخواستہ کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو اعتکاف مسنون بھی جاتا رہا
(13) معتکف کو کسی کی بیمار پرسی کی نیت سے مسجد سے نکلنا درست نہیں ہاں اگر اپنی طبعی ضرورت کے لئے باہر گیا تھا اور چلتے چلتے بیمارپرسی بھی کرلی تو صحیح ہے مگر وہاں ٹھہرے نہیں
(14) رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف تو مسنون ہے ویسے مستحب یہ ہے کہ جب بھی آدمی مسجد میں جائے تو جتنی دیر مسجد میں رہنا ہو اعتکاف کی نیت کرلے
15) اعتکاف کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اگر زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر ہے ۔
اللہ تعالی اعتکاف جیسی روح پرور سنت سے سرفراز ہونے کی توفیق نصیب فرمائے آمین