اعتکاف ایک اہم سنت نبوی ! اور ہماری صورت حال

112

از قلم: محمد عمر نظام آبادی

مدیر : التذکیر فاؤنڈیشن نظام آباد

رمضان المبارک کا مہینہ طاعات و عبادات کا سیزن، اور مغفرتِ ربانی اور جہنم سے خلاصی کا خوشگوار موسم ہے، یہ مہینہ جہاں گناہ گاروں اور عاصیوں کے حق میں مغفرت و بخشش کا تحفہ ہے تو وہیں نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے رحمت و برکت اور تقربِ خداوندی کا ذریعہ ہے، جس کے بےشمار فضائل و برکات اور اہمیت و عظمت کتاب وسنت میں وارد ہوئی ہیں، اس ماہ کا ایک ایک لمحہ بےحد قیمتی اور اس کی ساعات بڑی عظیم الشان اور گراں بہا ہیں، آدمی کی نیک بختی اور خوش نصیبی یہ ہےکہ وہ ان مبارک گھڑیوں کی قدردانی کرکے اس کو عبادت وبندگی اور خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کرے، اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے؛

لیکن حرماں نصیب اور بدقسمت آدمی وہ ہے جو اس ماہ مبارک کی اہمیت و عظمت سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان اوقات کو یوں ہی بیکار کاموں میں گنوا دے، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اس بددعا کا مستحق ہو کر اپنے آپ کو ہلاکت و بربادی کا حصہ دار بنائے؛ لیکن قربان جائے ربِ رحمٰن کی لامتناہی رحمت پر کہ اس نے صرف رمضان کا مہینہ ہی عطا نہیں کیا؛ بلکہ عبادات میں یکسوئی اور دلجمعی کے لئے شیاطین کو قید کردیا، اور فرائض کے ثواب کو ستر گنا مضاعف کردیا، اور اس پر مستزاد یہ کہ بندے کم از کم آخری عشرہ میں یکسوئی سے عبادت و تلاوت وغیرہ میں مشغول ہوکر اپنی مغفرت کرالیں، اس یکسوئی کے لئے شریعت نے آخری عشرہ میں *” اعتکاف”* کو سنت قرار دیا، جس کا نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ پوری پابندی سے اہتمام فرمایا کرتے تھے

۔

حقیقت میں اصل بات یہ ہے کہ ان سب سے مقصود بس مغفرت و بخشش ہے؛ کیوں رحمت خداوندی تو صرف بہانہ ڈھونڈتی ہے؛ جیسا کہ مشہور ہے: ” رحمتِ حق بہانہ می جوید” ۔

 

*نبی ﷺ کا اعتکاف کا اہتمام اور اس سلسلہ میں پابندی*

چنانچہ بےشمار احادیث و روایات سے نبیﷺ‌‌ کا پابندی سے اعتکاف کرنا معلوم ہوتا ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آخری دس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔( صحيح البخاري:3/ 47)

 

اور اسی طرح امی جان حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیاکرتے تھے؛ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دے دی۔ (صحيح البخاري :3/ 51)

 

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہررمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے؛ لیکن جو آپ کی وفات کا سال تھا تو آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔

علمانے لکھا ہے کہ آپ نے بیس دن کا اعتکاف اس لیے فرمایا تھا کہ آپ کو منکشف ہوگیا تھاکہ یہ آپ کا آخری رمضان ہے، آپ نے چاہاکہ اعمالِ خیرمیں کثرت کی جائے؛ تاکہ امت کو عملِ خیر میں جدوجہد کرنا ظاہرہوجائے اوربعض نے کہاکہ یہ بیس دن کا اعتکاف اس لیے تھا کہ آپ نے اس سے پہلے سال رمضان میں سفرہوجانے کی بناپر اعتکاف نہیں کیا تھا، اس لیے پچھلے سال اعتکاف نہ کرسکنے کی تلافی کرنے کے لیے اس سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔

مختصر یہ کہ اعتکاف کا عمل آپ ﷺ کی نظر میں بڑی فضیلت والا اور اہم عمل تھا جس پر آپ ‌نے اتنی سختی سے مواظبت و پابندی فرمائی؛ اسی وجہ سے اولیاء کرام، صلحاءِ عظام اور بزرگانِ دین کے پاس بھی رمضان میں خاص طور پر اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا تھا، اور آج کے اس عدیم الفرصتی کے دور میں بھی بہت سے مشائخ کے پاس اجتماعی طور پر اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں سالکینِ طریقت اور طالبینِ شریعت شرکت کرکے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے اوقات کو وہاں کے نظام العمل کے مطابق گذار کر عبادتوں کے ماحول میں ڈھل جاتے ہیں، اور اپنے لئے سرخروئی و شادمانی کا سامان کرلیتے ہیں۔

 

*اعتکاف کے فضائل، اور فوائد و ثمرات*

احادیث نبویہ میں اعتکاف کے بےشمار فضائل و فوائد بیان کیے گئے ہیں جس کے ذریعہ سے اعتکاف کی اہمیت و عظمت کا پتہ چلتا ہے؛ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں :کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور پھر دوسرے عشرہ میں بھی ، پھر ترکی خیمہ سے جس میں اعتکاف فرمارہے تھے، سر باہر نکال کرارشاد فرمایا :کہ میں نے پہلے عشرہ کااعتکاف شبِ قدر کی تلاش اور اہتمام کی وجہ سے کیا تھا ،پھر اسی وجہ سے دوسرے عشرہ میں کیا ، پھر مجھے کسی بتلانے والے ( فرشتہ )نے بتلایا کہ وہ رات اخیر عشرہ میں ہے ۔ لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں وہ اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں ۔ مجھے یہ رات دکھلا دی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ،(اس کی علامت یہ ہے کہ) میں نے اپنے آپ کو اس رات کے بعد کی صبح میں گیلی مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا، لہٰذا اب اس کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔

راوی کہتے ہیں:کہ اس رات میں بارش ہوئی اور مسجد چھپر کی تھی وہ ٹپکی اور میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ کا اثر اکیس(۲۱ویں) کی صبح کو دیکھا ۔ ( صحيح البخاري (3/ 48)

 

پس معلوم ہواکہ اعتکاف کی عبادت کے ذریعہ شبِ قدر کا حصول متوقع ہے۔

 

اور اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے: کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لیے۔(سنن ابن ماجه:1/ 567)

 

اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے لیے اتنی نیکیوں کی بشارت سنائی گئی ہے جتنی کہ کرنے والے کے لیے،

مطلب یہ ہےکہ اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے بعض نیک اعمال نہیں کرسکتا،مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت وغیرہ، ایسے اعمال کے بارے میں کہاگیاہے کہ اعتکاف کرنے والا اگرچہ یہ اعمال نہیں کرتا؛ مگر ا س کو اتنا ہی ثواب دیا جاتا ہے جتناکہ کرنے والے کودیا جاتا ہے۔

 

ایک اور حدیث میں حضرت ابن عباس ؓ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کے لیے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے ، اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرمادیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108)

خلاصہ یہ کہ اعتکاف کی عبادت شبِ قدر کو پانے کا ذریعہ اور بہانہ ہے، گناہوں اور نافرمانیوں سے بچاؤ کا سبب ہے، اور جہنم سے خلاصی کا پروانہ ہے، اور عمل نہ کرنے کے باوجود ثواب کا مستحق ہوناہے۔

 

*ہماری صورت حال*: شریعت نے آخر عشرہ کی جس قدر فضیلت اور اہمیت بتائی ہے اتنی ہی غفلت و لاپرواہی، بے اعتنائی اور بے توجہی ہماری جانب سے پائی جاتی ہے، جہاں تک دین دار طبقہ کی بات ہے تو اللہ معاف کرے! ان کا بھی آخر عشرہ بازاروں کے چکر کاٹنے، ایک دکان سے دوسری دکان کی سیرکرنے، عید کی شاپنگ کرنے، اور اشیاء کی خریداری، کھانے پینے کی تیاری، گھر والوں کے ساتھ گھومنے، اچھے اچھے مزہ دار کھانے اور انتہائی شیریں مشروبات کے انتظامات میں حد درجہ مصروف اور منہمک نظر آتے ہیں۔

اور رہی بات دین سے دور تاجرین کی، وہ تو دکانوں کو سجانے، سامان کے منگوانے، گاہکوں کو بتلانے اور بیچنے میں اس قدر مشغول ہیں کہ نہ روزوں کا کوئی اہتمام ہوتا ہے نہ نمازوں کی کوئی فکر، نہ تسبیح و تلاوت کا کوئی ذوق ہے اور نہ ہی تراویح پڑھنے کی کوئی لگن؛ حد تو یہ ہے کہ طاق راتوں میں بھی انتہائی غفلت برتی جاتی ہے، نہ عبادت کےلئے وقت فارغ کرتے ہیں اور نہ ہی دعا اور توبہ کا دھیان؛ جب کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس شخص کے لئے ہلاکت و بربادی کی بددعا فرمائی جس نے رمضان کا مہینہ تو پایا ؛ لیکن اس کے باوجود بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو، اللہ محفوظ رکھے!

اور خواتین تو اس میدان میں مردوں سے کہیں زیادہ آگے بڑھی ہوئی ہیں جن کا اکثر وقت بازاروں کی نذر ہوجاتا ہے، اور ادھر سے اُدھر گھومنے پھرنے میں دن یوں ہی گذر جاتا ہے اور رات بھی اسی میں بیت جاتی ہے، بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، اللہ حفاظت فرمائے!

 

چند دن سے تھے نہایت ہی پس و پیش میں ہم

 

چپ ہی رہ جائیں کہ اظہار خیالات کریں

 

پھر یہ سوچا کہ پس و پیش کا اب وقت نہیں

 

ہم نشیں آ ! ذرا دل کھول کے کچھ بات کریں

 

یہی وجہ ہے کہ امام زہری ؒ فرماتے ہیں : کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی کرتے تھے؛ لیکن جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک بلا ناغہ آپ اعتکاف کرتے رہے ،کبھی ترک نہیں کیا ؛ البتہ ایک سال اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ (کما فی الحدیث)

 

*شب قدر کی فضیلت اور شب بیداری کا اہتمام*

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ایک بڑی عظیم الشان رات ہے، جسے ہم ” لیلۃالقدر” اور” شب قدر” سے تعبیر کرتے ہیں اس کے کتاب وسنت میں بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں؛ البتہ اس کی تعیین اٹھالی گئی ہے کہ وہ متعین طور پر معلوم نہیں ہے کب ہو! البتہ رمضان المبارک اور پھر خاص کر آخری عشرہ اور پھر اس میں بھی طاق راتوں میں اس کے ملنے کا زیادہ امکان ہے؛ کیوں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ” تَحَرُّوْا لَــیْلَة الْقَدْرْ فِي الْوَتْرْ مِنَ الْعَشْرْ الْاَوَاخِرْ مِنْ رَمَضَانَ”۔ (مشکاۃ المصابیح عن البخاري) “نبیﷺ نے ارشاد فرمایاکہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو”۔ طاق راتوں سے مراد : 21، 23، 25، 27، 29 ویں راتیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں راتوں کو عبادت کی کوشش کرے ، اگر پوری رات مشکل ہوتو کچھ وقت، ورنہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر تراویح پڑھے اور اس کے بعد دو ، چار رکعت پڑھ کر سوجائے، یا سحری میں بیدار ہوکر دو چار رکعات تہجد پڑھ لے اورصبح فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو اسے ان شاء اللہ شبِ قدر مل جائے گی۔

رہے شب قدر کے اعمال ! تو اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبیﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہو : « اَللّٰهم إِنَّک عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ » (ترمذی ، مشکاۃ) “اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس معاف فرما دے مجھے بھی”۔

یہ نہایت جامع دعا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے آخرت کے مناقشہ سے معاف فرما دیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے۔

 

*خلاصۂ تحریر*:

رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے لئے ایک بہت ہی سنہرا موقع ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی زندگی میں تبدیلی لاسکتے ہیں، اس ماہِ مبارک میں چونکہ عبادتوں کا ماحول ہوتا ہے تو ہم اس بات کی کوشش کریں کہ ہم بھی عبادتوں میں پیچھے نہ رہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وفی ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ( البقرہ: ۲۶ )

” جو لوگ ایک دوسرے پر بازی لے جانا چاہتے ہیں، ان کو ایسی ہی چیز میں بازی لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔”

لہذا ہم اولاً تو اس بات کی کوشش کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں عبادت سے پیچھے نہ رہیں اور مغفرتِ خداوندی سے محروم نہ ہوں، اور دوم اس بات کا عزمِ مصمم کریں کہ جو اعمال اور عبادات اور کار خیر ہم رمضان میں کررہے ہیں ان کو رمضان کے بعد بھی باقی رکھیں گے، اور اسی طرح مساجد سے جڑے رہیں گے، علمائے کرام سے تعلقات قائم کریں گے، اور قرآن کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑے رکھیں گے ان شاء اللہ!

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس رمضان کو ہمارے حق میں نافع اور کارآمد بنائے، اور زندگیوں میں انقلاب اور تبدیلی لانے کا ذریعہ بنائے، اور اپنی رضا نصیب فرمائے، اور باقی ماندہ ایام کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے، اور اس وباء سے چھٹکارا نصیب فرمائے اور دنیا سے ختم فرمائے

آمین ثم آمین