اصول دعوت اور عصر حاضر کے خطباء

67

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر

یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ مردوںکی شمشیریں

تعارف

دعوت عربی لغت کا لفظ ہے جو دعا سے ماخوذ ہے اور جس کے لغوی معنی نداء، طلب ، قرض ، مذہب اور نسب وغیرہ ہے .نیز دعاۃ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ہدایت یا ضلالت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ اس کا واحد ” داعی “ ہے.اور اس کو داعیۃ بھی بولتے ہیں اور اس میں ” ۃ “ مبالغہ کے لیے ہے ۔جبکہ اصتلاحی طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہونے اور اس پر کاربند رہنے کی طلب کو دعوت کہتے ہیں ۔ انسانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت و سنت اور عدل و انصاف یہی رہا ہے کہ وہ اتمام حجت کئے بغیر کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا.

فضائل و عظمت

اللہ عزوجل نے انبیاء کرام کو بحیثیت مبلغین مبعوث فرمایا.دعوت و تبلیغ انبیاء کرام کی سنت اور مشن رہا ہے.انبیاء کرام رحلت کرنے سے پہلے دعوت و تبلیغ کے لئے اپنے جانشین مقرر کرلیتے.وحی الہی کا پیغام گھر گھر اور بستی بستی پہنچانے کے لئے تبلیغ مرکزی اہمیت کا حامل ہے.امت محمدیہ کے خصائص میں یہ بات شامل ہے کہ اس امت کے ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کا مکلف ٹھہرایا گیا.فرمان ربانی ہے کہ “اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان عمل میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”.(آل عمران) دعوت و تبلیغ ایک ایسا منصب ہے جو سعادت مندوں کو حاصل ہوتا ہے.حق کا پرچار اور باطل کا انکار کرنا اصحاب قوت والوں کا کام ہے.اللہ عزوجل نے تبلیغ کی سنت کو دو اقسام میں تقسیم کردیا.ایک تو ہے ترغیب و ترھیب جس کی بنیاد اگر صحیح ہو تو عام فرد بھی ادا کرسکتا ہے لیکن فقہی اور اجتہادی مسائل کو راسخین فی العلم تک محدود رکھا گیا.جتنا یہ عہدہ اعلی ہے اس سے زیادہ اس کی ذمہ داریاں سخت ہیں.احیاء حق اور ابطال باطل کوئی بچوں کا کھیل نہیں جیسا کہ بعض افراد کا وہم ہے.سورۃ الحج کی آیت نمبر 67 میں فن تبلیغ کو فرض قرار دیا گیا.اس کی تاکید رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کی کہ “میری جانب سے خواہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو ,اسے آگے پہنچاؤ”.امر کا تقاضا ہے کہ ہر صاحب استطاعت پر تبلیغ کا فریضہ انجام دینا واجب ہے.مبلغ,مقرر,واعظ اور داعی سے بڑھ کر اعلی,برتر,کٹھن, مستحکم اور ہمہ جہت منصب کوئی نہیں پاسکتا.طبیب امت علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو امت تک پہنچادینا دشمن کے حلق تک تیر پہنچانے سے زیادہ افضل ہے.کیونکہ تیروں والا کام تو بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن سنتوں کی تبلیغ صرف وارثان انبیاء ہی کرتے ہیں “.(مدارج السالکین) اسی طرح سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ “بندے کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی صدقہ نہیں کہ وہ مجالس میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرے”.(کتاب الزھد)
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ آدمی ہے جو لوگوں کے لئے باعث خیر ثابت ہو”. اسی طرح فرمان مقدس ہے کہ “اللہ کی قسم! تمہارے ذریعے کسی ایک آدمی کا ہدایت پاجانا تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے.”(وسندہ صحیح) صحیح مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ “جس نے نیکی کا راستہ دکھایا ,اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس پر چلنے والے کو”.

مبلغین اور مصلحین کی ذمہ داری ہے کہ جن چیزوں کے وہ محافظ ہیں یعنی دین کی نشر و اشاعت اور فضا میں اخلاق کی ترویج اور برائی اور رزائل سے معاشرے کو پاک کرنے کی ذمہ داری پوری کریں اور اعلانیہ فساد جو اس وقت ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس کے آگے بند باندھیں.دعوت و تبلیغ کمزور پڑ جانے سے شریعت میں خلل آتا ہے ,عقیدہ بگڑھ جاتا ہے اور سنتوں سے دوری واقع ہوتی ہے.بدعات اور خرافات کی احیاء ہوتی ہے.گمراہ کن افکار پروان چڑھتے ہیں.فحاشی,عریانی,بے حیائی ,بدکرداری کا بازار گرم ہوتا ہے.شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ “اس سے مقصود اللہ عزوجل پر ایمان لانے کی دعوت دینا اور تمام انبیاء ورسل کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان کی بتلائی ہوئی ہدایات اور ان کی اطاعت و فرما نبرداری کی دعوت دینا ہے۔ اس دعوت میں یہ تمام امور بھی شامل ہیں: اقرار شہادتین، اقامتِ صلاۃ، ایتائے زکوۃ،صومِ رمضان، حجِ بیت اللہ اور اللہ پر، فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اوراس کے رسولوں پر ایمان لانے کی دعوت دینا”.(مجموع الفتاویٰ) امر بالمعروف و نہی عن انکر ایمان کی علامات اور شعائر اسلام میں سے ہے.فرمان ربانی ہے کہ “مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں”.(التوبہ)دعوت دین میں کمر بستہ رہنے والا یقینا داعی اعظم جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا حقدار ہے جس میں آپ نے فرمایا “اللہ عزوجل اسے ہمیشہ خو ش وخرم رکھے جو میری حدیث سن کر یاد رکھے اور اسے دوسروں تک پہنچادے”.(سنن ابو داؤد) داعی کا کردار کیسا ہو وہ آپ کو اس روایت سے اخذ ہوگا.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “میری اور میری امت کی مثال آگ جلانے والے آدمی کی طرح ہے، اس آگ میں کیڑے مکوڑے اور پتنگے آگرتے ہیں، میں بھی تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہوکہ زبردستی آگ میں کودے جارہے ہو۔”(صحیح مسلم) اصلاح امت سے دوری عذاب الہی کو دعوت دینا ہے اور دعاؤں کی عدم قبولیت کی عظیم وجہ.فرمان سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم دو گے اور گناہوں سے روکو گے یا پھر اللہ اپنے ہاں سے تم پر عذاب بھیج دے گا، پھر تم دعائیں بھی کروگے تو تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔”.(سنن ترمذی) دعوت اصلاح کی ابتداء اپنے نفس سے ہوتی ہے,پھر اپنے خاندان سے گزر کر انسانیت تک جاپہنچتی ہے.مبلغ ,مقرر,داعی,واعظ ,خطیب کے دل میں امت کے لئے درد ہونا لازمی امر ہے.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “احکامِ خداوندی کی پاسداری کرنے والے اور ان کی پامالی کرنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو کشتی میں بیٹھنے کے لیے قرعہ اندازی کرتے ہیں، بعض اوپر کے حصے میں بیٹھتے ہیں اور کچھ نیچے کے حصے میں،نیچے والے پانی کی غرض سے اوپر جاتے ہیں اور آخر نیچے والے منصوبہ بناتے ہیں کہ اوپر والوں کو تنگ کرنے کی بجائے ہم کشتی کے نیچے ہی سے سوراخ کرلیتے ہیں، اگر تو اوپر والے نیچے والوں کو سوراخ کرنے دیں گے تب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے لیکن اگر وہ انہیں سوراخ کرنے سے روک لیں گے تو یہ خود بھی بچ جائیں گے اور دیگر سب بھی ہلاکت سے محفوظ رہیں گے”.(صحیح بخاری)

اصول دعوت

(١)توحید باری تعالی———–دعوت کی ابتداء توحید سے کرنا حکم ربانی اور سنت انبیاء ہے.توحید ہی اصل الاصول , مفتاح النجاۃ اور مفتاح الخیر ہے.توحید عبادات کی قبولیت کے لئے بنیادی شرط ہے.توحید ہی نظام ربانی کی اساس ہے.قیام توحید کے لئے ہی انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا گیا اور مختلف دردخیز آزمائشوں میں مبتلا کردیا گیا.دعوت بغیر توحید کے بے معنی اور لاحاصل ہے.توحید ہی روحانی امراض کی دوا ہے.توحید میں ہی برکت و رحمت کا جام پوشیدہ ہے.توحید کہتے ہی ہیں اللہ کو عبادات میں واحد جاننا.اپنے دل سے مخلوق سے امیدیں کاٹ کر اللہ سے وابستہ ہوجانا توحید ہے.ہر ھم و غم سے آزادی کا راستہ توحید میں چھپا ہوا ہے.شرک ذلت ہے,شرک رسوائی ہے,شرک اللہ کی بغاوت و سرکشی ہے,شرک نجاست ہے,شرک نحوست ہے,شرک ظلم عظیم ہے,شرک باللہ ہر شر کی اساس و بنیاد ہے.شرک دنیا و آخرت کی بربادی کا مغض ہے.جس سے براءت اور تحذیر لازمی ہے.خطباء ,مبلغین,داعی حضرات اپنے سامعین کو توحید و اقسام توحید,شرک و اقسام شرک,شروط کلمہ,نواقض الاسلام ,کشف الشبھات کی پوری معرفت کروائیں.مسلک پرستی و فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر توحید کے نور سے ملت کو منور کرنے کی کوشش کریں.اس ضمن میں قرآنی آیات,احادیث صحیحہ ,سلف و صالحین کی کتب کے دروس عام کریں.مثلاً عقیدہ تحاویہ,عقیدہ واسطیہ,اصول السنہ ,لمعتہ الاعتقاد,الشریعہ ,القواعد الاربع,الاصول الثلاثہ وغیرہ.

(۲)فقہ العبادات————حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ سے یہ بات واضح ہے کہ عقائد کا باب اختتام کرکے عبادات کی طرف رخ کیا جائے گا.عصر حاضر میں خطباء پر لازم ہے کہ ملت اسلامیہ کو عبادات کے مسائل بیان کریں.مسائل کو فضائل پر مقدم رکھیں.ارکان عبادات,شروط عبادات,فقہی اصتلاحات,واجبات عبادات,سنن عبادات کی مکمل معرفت کروائی جائے.مسائل کو بیان کرتے وقت فہم اور صلاحیت تدارک کا بے انتہا خیال رکھیں.فقہ العبادات میں سلف کی رائے کو خلف پر مقدم رکھیں,نیز فرقہ پرستی سے پاک ہوکر عدل و انصاف سے مسائل کا بیان کریں.ملت کی بہنوں اور بچیوں کو خصوصی مسائل کا علم حاصل کروائیں.ملت کے بچوں کو غسل میت,تجہیز و تکفین کے دروس عملاً دکھائیں جائیں.جنازہ و خطبہ نکاح کے لئے ملت کے اولادوں کو تیار کریں.

(٣)جامعیت———الفاظ قلیل اور معنی طویل ہو.غیر شائستہ الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کریں.منبر و محراب پر غیبت کرنے سے پرہیز کریں.مرثیہ خوانی سے پرہیز کریں.وحدت امت و اصلاح امت کو بنیادی مقاصد میں شامل رکھیں.اپنی رائے دینے کی بجائے قرآن و سنت و اقوال سلف کو مقدم رکھیں.اپنی خواہشات کو شرعی نصوص میں داخل ہونے سے بچے رہیں.زبان سے ادا کیا گیا ایک لفظ پوری امت کو گمراہ کرواسکتا ہے.زبان سے دئے گئے زخم تلوار کے وار سے زیادہ سخت ہوتے ہیں.کسی کی ذاتی زندگی کو موضوع سخن نہ بنائیں.منتخب موضوع سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں.عصر حاضر میں سامعین بھی دین کا فہم رکھنے والے ہوتے ہیں.لہذا محتاط رہیں.

(۴)تکلف سے اجتناب———–دوران خطبہ ,عاجزی اور انکساری اپنائیں.فخر و تکبر سے بعید رہیں.بلا وجہ کسی شخصیت پر رد کرنے سے پرہیز کریں.جرح و تعدیل کی علم کو علماء تک محدود رکھیں.اجتہادی مسائل میں علماء کے اقوال اپنی آراء پر مقدم رکھیں.تحقیر و تذلیل کرنے سے بچے رہیں.خود کو طلاب العلم کی صف میں شامل ہونے کے اہل بنائیں,علماء سے مقابلہ اور جاہلوں سے مناظرہ بازی سے حتی الامکان پرہیز کریں.اپنی آواز,اپنے حرکات پر توجہ دیں کیونکہ کبھی کبھی آپ کی نیت آپ کے حرکات سے ظاہر ہوتی ہے.

(٥)اخلاق حسنہ———عالم بالعمل بنیں ,اپنے علم کو اولاً اپنے نفس پر نافض کریں.اپنی عبادات,اپنے معاملات,اپنے اخلاق پر زیادہ توجہ دیں.عوام الناس کو اپنے کردار سے دین سے متنفر نہ کریں.سلف و صالحین کے یہاں یہ اثر عام تھا کہ “بے عمل عالم مجوس سے پہلے دوزخ کا ایندھن بنے گا”.امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے سے پہلے اپنی خلوت و جلوت کو اعلی بنائیں.اخلاق حسنہ سے متعلقہ دروس عام کریں.امت جن جدید مسائل سے گزر رہی ہے ,ان کا تدارک کرنے میں اپنا کردار نمایاں رکھیں.فحاشی..
,عریانی,شراب نوشی ,منشیات فروغی کی روک تھام پر زیادہ زور دیں.گھریلو مسائل پر دروس منعقد کریں.جیسے حقوق الزوجین,حقوق والدین,حقوق اولاد حقوق علماء,صلح رحمی الغرض حقوق اللہ اور حقوق العبادات کا مکمل احاطہ کریں.

(٦)شوق مطالعہ————دعوت و اصلاح کے لئے علم کا ہونا لازمی ہے.بغیر علم یہ فریضہ ادا نہیں ہوسکتا.خطباء پر لازم ہے کہ وہ علماء کے ساتھ وابستہ رہیں .وقت برباد نہ کریں اور زیادہ وقت کتب خانہ میں صرف کریں.برے ہمنشینون سے محفوظ رہیں.عربی لغت,علوم القرآن,علوم الحدیث,فقہ و اصول فقہ,تجوید القرآن ,فن خطابت پر عبور اور دسترس حاصل کرلیں.سلف صالحین کی کتب کا مطالعہ کثرت سے کریں.کتب سیر و کتب تاریخ پر بھی نظر رکھیں.اپنے اندر حلم و بردباری پیدا کریں.

(۷)درد امت——————امت کی فکر اور ملت کی درد لازمی امر ہے.سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت طیبہ اس عظیم امر سے بھری ہوئی ہے.طائف کا سانحہ,حجرت مدینہ,فتح مکہ جیسے واقعات پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر امت کے لئے روؤف و رحیم تھے.امت کی اصلاح کی خاطر دعا کرنا مبلغ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت مبارکہ ہے.عصر حاضر کے خطباء اس فعل کے بھی پابند ہیں کہ جدید فتنوں کا تعاقب کریں مثلاً نسوانیت کا فتنہ (feminism) ,ارتداد ,liberaliam, islamaphobia
وغیرہ.تاکہ نوجوان ملت اپنی عاقبت کو بگاڑنے سے محفوظ رہیں.کتب سیر کا مطالعہ کثرت سے کریں.سیرت ابن اسحاق,سیرت ابن ہشام,الشفاء,زاد المعاد,رحیق المختوم,رحمتہ للعالمین ,سیرت از محمد الصلابی کا مطالعہ اپنا معمول بنائیں.خالی وقت میں قرآن کی تلاوت سے ہرسکون ہوجائیں.

(۸)خوف ربانی————–مخلوق کا خوف اپنے دل سے نکال کر خالق کی کبریائی اس دل میں بسا.حق کا پرچار کرتے وقت کسی کا لحاظ تمہاری کمزوری نہ بنیں.باطل کی مخالفت کرنے سے تمہیں کسی کی محبت نہ روک پائے.کتمان علم کبائر گناہوں میں سے ہے.تنخواہ کے خوف سے کسی کے دباؤ میں آنے سے بچ جاؤ.کسی کے اشاروں پر ناچنے سے بچو.کسی کے بھٹکانے سے اپنی صلاحیت کو غلط راہ پر استعمال کرنے سے اجتناب کرو.محرمات,لغویات,بدعات,شرکیات,خرافات کا رد کرتے وقت کسی کا لحاظ نہیں کیا جاسکتا البتہ بنوی حکمت لازمی امر ہے.اپنے اہل خانہ کو معاشرے کے لئے اسوہ حسنہ بن کر دکھا دو.

(۹)کتابت خطبہ———–
خطبہ کی تیاری کرتے وقت آیات بینات,احادیث صحیحہ,اقوال سلف قلم سے قید کرلیا کرو.یہ عیب نہیں بلکہ خوبی ہے.اسی طرح سامعین کے عقول کے مطابق شرک و بدعات سے پاک اشعار کا انتخاب بھی معیوب نہیں لیکن مرثیہ خوانی اور موسیقی ترنم کی بدعت سے اجتناب لازمی ہے.دور حاضر کا تعلیم یافتہ طبقہ آپکا ترنم کبھی قبول نہیں کرے گا.شرعی علم کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت مروجہ علم پر بھی دھیان دیں تاکہ سؤال کا جواب دیتے وقت کسی دشواری کا سامنہ نہ کرنا پڑے.اپنے فہم پر زور دیں.ظاہری فکر سے بھی دور ہی رہیں.ضعیف آثار کے بیان کرنے سے بچے رہے.علمی خیانت کیسی بھی ہو ملعون فعل ہے.

(١۰)سورہ عصر کی یاد دہانی—————-سلف و صالحین کا معمول تھا کہ جب وہ آپس میں ہمکلام ہوتے تو ایک دوسرے کو سورہ عصر کی وصیت کرتے کیونکہ اس عظیم سورہ مبارک میں ایمان بھی ہے,اعمال صالحات بھی ہے,دعوت الی اللہ بھی ہے اور صبر جمیل بھی.اسی اسوہ پر عمل کرکے اگر بعض قرآنی آیات یا بعض دیگر شرعی نصوص کا بار بار ورد کرنا پڑے تو بلا جھجک کریں.یاد رہے کہ وعظ و نصیحت کرنے سے ایمان میں زیادتی واقع ہوجاتی ہے.الفاظ کا انتخاب باریک بینی سے کریں.پر اثر واقعات کا انتخاب کریں تاکہ ہمارے سخت دلوں میں توحید کا نور نازل ہوسکے.دعوت و تبلیغ کو فقط مساجد تک محدود نہ رکھیں.جہاں بھی موقع ملے وہاں اپنا کام جاری رکھیں بقول اقبال رحمہ اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں‘ لا الٰہ الااللہ

اللہ علم نافع کے ساتھ عمل صالح کی توفیق عنایت فرمائے…….آمین