اصل جرم۔۔ شریف اور دیندار لوگوں کی خاموشی

65

آج ہرطرف ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ دیندار لوگ کہتے ہیں یہ سب بے دینی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ کہتا ہے یہ ایجوکیشن نہیں ہونے کی وجہ سے ہے۔ شریف لوگ کہتے ہیں یہ سب فرقہ پرستوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ان دینداروں، تعلیم یافتہ اور شریف لوگوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”جوحق بات کہنے سے خاموش رہا وہ گونگا شیطان ہے“(الساکت عن الحق شیطان اخرس)۔ حق تو یقینا ہر سمجھدار آدمی کہہ رہا ہے لیکن اپنے اپنے سوشیل میڈیا یا اردو اخباروں میں لکھ لینے یا اپنے محلوں میں تقریریں کرلینے کو حق بات کہنا نہیں کہتے۔ حق کہنا اس بات کو کہتے ہیں جو باطل کے سامنے کہی جائے۔ اگردشمن سامنے نہیں ہے تو اس تک پہنچنے کے طریقے ڈھونڈھنا اصل کام ہے۔ ہم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ سوشیل میڈیا، یا اخباروں میں لکھ ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اِس دور میں کسی سنجیدہ موضوع پر مسلمان پڑھتا نہیں ہے۔ پڑھتے بھی ہیں تو صرف ریٹائرڈ لوگ جن کے پاس پڑھنے کا وقت تو ہے لیکن کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں۔ نوجوان ٹِک ٹاک یا اسنٹگرام پر ہے جہاں آپ جانہیں سکتے۔ اس لئے اپنی ہی طرح کے عمر رسیدہ لوگوں کے بیچ حق بات کہہ کر اپنے ضمیر کی تسلی کرلینے سے نہ حق پھیلے گا اور نہ کوئی تبدیلی آئے گی۔ حق پھیلانے کا طریقہ دوسرا ہے۔

دنیا میں اچھے یا بُرے، جتنے انقلابات آئے ہیں وہ اس وقت تک نہیں آئے جب تک لوگ گھروں سے نکل کر سڑک پر نہیں آئے۔ چاہے وہ انقلابِ ایران ہو، انقلابِ اخوان ِ مصر ہو، عرب اِسپرنگ ہو، یا ہندوستان میں موجودہ فاشسٹ راج ہو۔ سڑکوں پر آئے بغیر، کچھ جانوں کو قربان کیئے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اچھے انقلاب کے لئے شریف اور دیندار لوگوں کو گھروں سے نکلنا پڑتا ہے، اور بُرے انقلاب کے لئے چور، ڈاکو، قاتل اور فرقہ پرست گھروں سے نکل پڑتے ہیں۔ جب چور ڈاکو گھروں سے نکل پڑتے ہیں تو شریف اور دیندارلوگ اپنی اور اپنے بیٹوں بیٹیوں کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیتے ہیں۔ پڑوس میں کوئی گرفتار ہوجائے یا کسی کو گولی ماردی جائے تو دروازے نہیں کھولتے۔ صرف واٹس اپ یا فیس بک پر میسیجس فاورڈ کرنے لگتے ہیں، جمہوریت، سیکولرزم اور انصاف کی فریاد اور دہائی دینے لگتے ہیں کوئی سننے والا نہیں ہوتا تو بے بسی میں سوائے دعاؤں اور بددعاؤں کے کچھ اور نہیں کرسکتے۔ نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ بُرے لوگ دندناتے پھرتے ہیں، قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں، اور جیسے چاہے ویسے قانون میں تبدیلیاں کرنے لگتے ہیں، پولیس، فوج، کورٹ، جج، میڈیا اور مکمل اڈمنسٹریشن ان کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ ہر طرف صرف کرپشن کا یا پھر طاقت کا قانون چلتا ہے۔ شریف لوگ تدبیر کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اس لئے ذلیل ہو کر اسی کو تقدیر سمجھتے ہیں اور قبول کرنے لگتے ہیں۔

طاقت صرف پولیس یا فوج کی نہیں ہوتی۔ عوامی طاقت یعنی Masses کی طاقت پولیس اور فوج کی طاقت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اس لئے کوئی بھی حاکم کبھی یہ گوارا نہیں کرتا کہ لوگ عوامی طاقت پیدا کریں۔ حاکم ہر اُس جماعت یا شخص کوجو عوامی طاقت پیدا کرنے کی کوشش کرے اس کو ختم کرنے کی بھرپور کرشش کرتا ہے۔یا تو وہ اس طاقت کو خرید لیتا ہے یا پھر اس کو دہشت گرد، اینٹی نیشنل قرار دے کر اس سے ساری قوم کو دور رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ جب دشمن کی طرف سے پاپلر فرنٹ یا سیمی وغیرہ کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا شروع کیا جائے تو سب سے پہلے یہی دیندار اور شریف لوگ ہوتے ہیں جو ایسی ابھرنے والی طاقتوں سے دور رہ کر دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔یوں تو وہ دشمن جماعت کے ہرجھوٹ سے واقف ہیں، یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ اور کہہ ہی نہیں سکتے، لیکن جب دشمن انہی کی طاقت توڑنے کے لئے کسی پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے تو یہی شریف اور دیندار لوگ دشمن کا اعتبار کرکے چوکنّے ہوجاتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ دشمن کا اعتبار کرتے ہیں، بلکہ صرف اس لئے کہ انہیں خوف ہے کہ اگر وہ حق کے لئے لڑنے والوں کی تائید کرینگے تووہ دشمن کی نظر میں آجائیں گے۔

اِس وقت دشمن کے جاسوس صرف پولیس کے لباس میں یا سیاسی پارٹیوں میں ہی نہیں، مسجدوں اور درگاہوں میں پھیل چکے ہیں، محلّوں اور خاندانوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ کتنے سجّادے، کتنے مولوی اور کتنے سماجی ورکرز اس وقت دانستگی یا غیر دانستگی میں دشمن کے لئے جاسوسی کررہے ہیں، عام آدمی کو اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ دشمن کے ہاتھوں بِکنے والی پارٹیوں کو مسلمانوں کی نمائندہ پارٹی کا درجہ مل جاتا ہے۔ قوم کو کچھ ملے یا نہ ملے انہیں حکومت سے بہت کچھ مل جاتاہے۔ پھر دشمن کو خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، یہی پارٹیاں خود مسلمانوں کے اندر سے اٹھنے والی طاقتوں کو ختم کرنے کے لئے جتنی چالیں چلتی ہیں، خود دشمن ایسی چالیں نہیں چلتا۔

سوال پھر وہی آتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی طاقت عوام پر منحصر ہوتی ہے۔ عوام یعنی یہی شریف اور دیندار لوگ اگر حق کے لئے لڑنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں تو حق پرستوں کی طاقت بڑھتی ہے،لیکن یہ لوگ گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے، جیبوں سے پیسہ نکالنا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ مسجدوں اور مدرسوں پر خرچ کرنے یا نفل عمرہ یا نفل حج پر پیسہ خرچ کرنے میں ثواب سمجھتے ہیں، یا پھر ان کا پیسہ شادیوں، گھروں کی تعمیر وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے، قوم کی تعمیر کے لئے ان کے پاس کوئی بجٹ نہیں۔ اِس وقت امّت کی طاقت بننے کی صلاحیت رکھنے والی جماعتوں کی تعداد پورے ملک میں دو چار سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن ان میں افراد کی کمی ہے۔ افراد یہ چاہتے ہیں کہ یہ جماعتیں پہلے دشمن طاقتوں سے Conduct certificate لاکر پیش کریں۔ اگر مسلمانوں کی آبادی کا صرف 5% طبقہ ہی کسی نہ کسی ایک پارٹی سے جڑ جائے تو ہر جماعت کی طاقت اتنی تو پیدا ہوجائیگی کہ اگر کسی معصوم کو گرفتار کیا جائیگا تو پچاس آدمی پولیس اسٹیشن پر جمع ہوکر اپنا جمہوری حق منوائیں گے، پھر کوئی معمولی پولیس والا جیسا چاہے ویسا ایف آئی آر نہیں پھاڑ سکے گا۔ عمرخالد، ڈاکٹرکفیل خان، صفورہ، ذاکر نائیک کے ساتھ جو کچھ ہوا، بابری مسجد، حیدرآباد میں سیکریٹیریٹ کی دو مساجد، اندور، اور اجین کی مساجد کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ گھروں سے نکل کر سڑک پر آنے سے ڈرے ہوئے تھے، اس کے برعکس دہلی، گجرات، مظفرپور، مالیگاوں وغیرہ کے تمام فسادی آزادی سے گھوم رہے ہیں کیونکہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کے پالے ہوئے پِلّے اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ کوئی بھی حکومت یا پولیس یا فوج صرف اس بات سے گھبراتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ جس وقت بمبئی کے فسادات ہوئے جب مسلمان جہاں بھی ملے اسے قتل کیا جارہا تھا، جسٹس سری کرشنا کمیشن جس کی گواہ ہے، بال ٹھاکرے نے چلینج کیا تھا کہ مجھے گرفتار کرکے بتاو ساری بمبئی کو آگ لگادوں گا۔ داؤد ابراہیم اس کے مقابلے پر اترا لیکن اُسے ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا، کیونکہ اُس کی حمایت میں سڑکوں پر آنے والا کوئی نہیں تھا جبکہ بال ٹھاکرے کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دہشت گرد ٹھہرا دوسرا قومی ہیرو بن گیا۔ حالانکہ دونوں مساوی درجے کے مجرم تھے، دونوں پھانسی کے سزاوار تھے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ اسی بمبئی فسادات کے وقت ہوا تھا۔ جب بمبئی فسادات پورے زوروں پر تھے، نرسمہاراو ملک کا پرائم منسٹر تھا، وہ شیو سینا کے زخمی کارکنان کی عیادت کے لئے بمبئی آیا۔ ہاسپٹل میں رپورٹرز نے سوال کیا کہ کیا آپ مسلمانوں سے بھی ملے؟ اُس نے جواب دیا تھا ”کس سے ملتا؟“۔ کیونکہ شیوسینا کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں میں تھے، مسلمانوں کی کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو عوامی طاقت یعنی Masses دکھاتی۔ یوں تو بے شمار گروپ، بے شمار صدور، بے شمار نائب صدور تھے، ہر انجمن کے آگے آل انڈیا لکھا ہوتا تھا، لیکن جب وقت پڑے تو کوئی گروپ دس ایسے جان نثار کرنے والے کارکن نہ پیش کرسکا جو احتجاج کریں۔ صرف اسی کا نتیجہ ہے کہ آج موریل اتنی گر چکی ہے کہ دشمن کو مسلمانوں کے غصّے کی پروا کیئے بغیر جیسا چاہے ویسا قانون بنادینے کی ہمت پیدا ہوچکی ہے۔ پہلے کانگریس کے دور تک یہ تو تھا کہ وہ مسلمانوں کی رائے کا پھر بھی خیال رکھتی تھی۔ ہر سیکریٹیریٹ میں اردو اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور مراسلوں کا نوٹ لیا جاتا کیونکہ کانگریس کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت تھی۔سوال پھر وہی آتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی طاقت عوام پر منحصر ہوتی ہے۔ عوام یعنی یہی شریف اور دیندار لوگ اگر حق کے لئے لڑنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں تو حق پرستوں کی طاقت بڑھتی ہے،لیکن یہ لوگ گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے، جیبوں سے پیسہ نکالنا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ مسجدوں اور مدرسوں پر خرچ کرنے یا نفل عمرہ یا نفل حج پر پیسہ خرچ کرنے میں ثواب سمجھتے ہیں، یا پھر ان کا پیسہ شادیوں، گھروں کی تعمیر وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے، قوم کی تعمیر کے لئے ان کے پاس کوئی بجٹ نہیں۔ اِس وقت امّت کی طاقت بننے کی صلاحیت رکھنے والی جماعتوں کی تعداد پورے ملک میں دو چار سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن ان میں افراد کی کمی ہے۔ افراد یہ چاہتے ہیں کہ یہ جماعتیں پہلے دشمن طاقتوں سے Conduct certificate لاکر پیش کریں۔ اگر مسلمانوں کی آبادی کا صرف 5% طبقہ ہی کسی نہ کسی ایک پارٹی سے جڑ جائے تو ہر جماعت کی طاقت اتنی تو پیدا ہوجائیگی کہ اگر کسی معصوم کو گرفتار کیا جائیگا تو پچاس آدمی پولیس اسٹیشن پر جمع ہوکر اپنا جمہوری حق منوائیں گے، پھر کوئی معمولی پولیس والا جیسا چاہے ویسا ایف آئی آر نہیں پھاڑ سکے گا۔ عمرخالد، ڈاکٹرکفیل خان، صفورہ، ذاکر نائیک کے ساتھ جو کچھ ہوا، بابری مسجد، حیدرآباد میں سیکریٹیریٹ کی دو مساجد، اندور، اور اجین کی مساجد کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ گھروں سے نکل کر سڑک پر آنے سے ڈرے ہوئے تھے، اس کے برعکس دہلی، گجرات، مظفرپور، مالیگاوں وغیرہ کے تمام فسادی آزادی سے گھوم رہے ہیں کیونکہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کے پالے ہوئے پِلّے اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ کوئی بھی حکومت یا پولیس یا فوج صرف اس بات سے گھبراتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ جس وقت بمبئی کے فسادات ہوئے جب مسلمان جہاں بھی ملے اسے قتل کیا جارہا تھا، جسٹس سری کرشنا کمیشن جس کی گواہ ہے، بال ٹھاکرے نے چلینج کیا تھا کہ مجھے گرفتار کرکے بتاو ساری بمبئی کو آگ لگادوں گا۔ داؤد ابراہیم اس کے مقابلے پر اترا لیکن اُسے ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا، کیونکہ اُس کی حمایت میں سڑکوں پر آنے والا کوئی نہیں تھا جبکہ بال ٹھاکرے کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دہشت گرد ٹھہرا دوسرا قومی ہیرو بن گیا۔ حالانکہ دونوں مساوی درجے کے مجرم تھے، دونوں پھانسی کے سزاوار تھے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ اسی بمبئی فسادات کے وقت ہوا تھا۔ جب بمبئی فسادات پورے زوروں پر تھے، نرسمہاراو ملک کا پرائم منسٹر تھا، وہ شیو سینا کے زخمی کارکنان کی عیادت کے لئے بمبئی آیا۔ ہاسپٹل میں رپورٹرز نے سوال کیا کہ کیا آپ مسلمانوں سے بھی ملے؟ اُس نے جواب دیا تھا ”کس سے ملتا؟“۔ کیونکہ شیوسینا کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں میں تھے، مسلمانوں کی کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو عوامی طاقت یعنی Masses دکھاتی۔ یوں تو بے شمار گروپ، بے شمار صدور، بے شمار نائب صدور تھے، ہر انجمن کے آگے آل انڈیا لکھا ہوتا تھا، لیکن جب وقت پڑے تو کوئی گروپ دس ایسے جان نثار کرنے والے کارکن نہ پیش کرسکا جو احتجاج کریں۔ صرف اسی کا نتیجہ ہے کہ آج موریل اتنی گر چکی ہے کہ دشمن کو مسلمانوں کے غصّے کی پروا کیئے بغیر جیسا چاہے ویسا قانون بنادینے کی ہمت پیدا ہوچکی ہے۔ پہلے کانگریس کے دور تک یہ تو تھا کہ وہ مسلمانوں کی رائے کا پھر بھی خیال رکھتی تھی۔ ہر سیکریٹیریٹ میں اردو اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور مراسلوں کا نوٹ لیا جاتا کیونکہ کانگریس کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت تھی۔ لیکن اب جب فاشسٹ یہ صاف کہہ چکے ہیں کہ نہ انہیں مسلمان ووٹوں کی ضرورت ہے، اور نہ وہ کسی مسلمان کو ٹکٹ دینا چاہتے ہیں۔ تقریباً سترہ ریاستیں ایسی ہیں جن میں کوئی مسلمان وزیر نہیں۔ وہ تو یہ بھی اعلان کرچکے ہیں کہ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کو وہ ”مسلم فِری“ یعنے جہاں کوئی مسلمان نہیں ہوگا وہ بنائیں گے۔ اگرچہ کہ بے شمار مسلمان ایسے ہیں جو پھر بھی بے غیرتی کے ساتھ ان فاشسٹ پارٹیوں میں شامل ہورہے ہیں، لیکن یہ بیچارے تھوڑی سی شہرت اور تھوڑی سی دلّالی کے مواقع حاصل کرنے کے لئے مخبری بھی کررہے ہیں، فاشسٹوں کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی تگ و دو بھی کررہے ہیں، اور ایسے غدّار ہر دور میں رہتے ہیں، جن لوگوں نے ترکی کی سیرئیل ”ارتغرل“ نہیں دیکھی، وہ ضرور دیکھیں کہ کس طرح وہی لوگ سب سے زیادہ خطرناک غدّار ثابت ہوتے ہیں، جن پر کبھی شک بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنے مفادات کی خاطر اپنی قوم کا سودا کرسکتے ہیں۔

 

اگر ہر شخص ایک نہ ایک جماعت میں شامل ہونا شروع کردے، جو کہ خود اسلام کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی کہ ”اوصیکم بالخمس، الجماعۃ، السمع والطاعۃ والھجرۃ والجہاد“۔”میں تمہیں پانچ باتوں کی وصیت کرتا ہوں، جماعت میں شامل ہو، سنو، اطاعت کرو، ہجرت اور جہاد میں شامل ہو“۔ اور پھر یہاں تک تنبیہ فرمائی کہ جو جماعت سے ایک انچ بھی الگ ہوا وہ گمراہی کی موت مرا۔ لوگ اپنے مذہبی اور مسلکی عقیدوں کے ساتھ جن مذہبی جماعتوں جیسے تبلیغ، اہلِ حدیث، شیعہ، اہلِ سنت والجماعت، یادیوبند یا سلسلوں سے جڑے ہیں، وہ بے شک جڑے ر ہیں۔ لیکن جہاں تک ہندوستان میں اپنی شناخت کے ساتھ باوقار طریقے سے ایک مساوی درجے کے شہری بن کر رہنے کا تعلق ہے، یہ کام مذہبی جماعتوں کا نہیں، سیکولر جماعتوں کا ہے۔ اس میں ایجوکیشن کے ماہرین، قانون کے ماہرین، بنکوں، انشورنس، انڈسٹری، لاء اینڈ آرڈر کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ دشمن کی ایجوکیشن پالیسی ہو کہ این آر سی، یونیوفارم سول کوڈ، مسلم مخالف فسادات، کشمیر، یو اے پی اے، پوٹاجیسے مسائل ہیں، یہ اسی لئے اٹھائے گئے ہیں کہ فاشسٹ یہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان اپنے مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر جس قدر ایک دوسرے سے متنفّر اور متعصب ہیں، اُس قدر تو کسی فسادی مشرک سے بھی نہیں، اس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اسی کا فائدہ اٹھانے کے لئے وہ ہر مسلک کے کسی نہ کسی مذہبی رہنما کو خرید کر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی چالیں چل رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اجمیر کے ایک سجّادے نے پاپولر فرنٹ کے خلاف زہر اگلا، اور بنگلور اور حیدرآباد میں ان کے خلاف ایف آئی آربک کرواکر کچھ لڑکوں کو گرفتار کروایا۔ ذاکر نائیک کے خلاف کچھ مشائخین کو استعمال کرکے ذاکر نائیک کو جلاوطنی پر مجبور کروایا۔ اویسی خاندان کو اپنا ہمنوا بنا کر عوام سے انہیں دور کردیا۔ بہار، یوپی، وغیرہ میں ہر مولوی کو کسی نہ کسی پارٹی سے فنڈ ملتا ہے اور وہ ووٹوں کو کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ بابری مسجد کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے عین قبل کتنے مولانا بِکے، کتنوں نے پوشیدہ ملاقاتیں کیں، پھر کیا بات ہوئی یہ قوم کو آج تک نہیں بتایا، یہ سبھی جانتے ہیں۔ حیدرآباد میں انکاؤنٹر ہوے، گرفتاریاں ہوئیں، مساجد شہید کی گئیں، صف اول کے علما اور مشائخین حتیٰ کہ خود جماعتِ اسلامی نے اویسی صاحب کے ساتھ مل کر خاموشی اختیار کی۔ چند ہی ایسے لوگوں نے آگے بڑھ کر آواز اٹھائی جن کے ساتھ Masses نہیں ہیں۔ کون ہے اس کا ذمہ دار؟ اس کے ذمہ دار یہی بزدل ناعاقبت اندیش شریف اور دیندار لوگ ہیں۔ اگر ہر شخص ایک ایک جماعت یا ایک ایک تحریک کے ساتھ جڑ جائے، ہر ریاست میں اس جماعت کے حکم پر فوری دوڑ کرگھروں سے نکلنے والوں کی تعداد اگر ایک ایک لاکھ بھی ہوجائے تو مجال ہے کسی حکومت کی کہ اِن کے مشورے کے بغیرکوئی کام کرے۔ اِس وقت جماعتوں کے جتنے اہم نام ہیں ان میں کسی بھی ریاست میں دو چار ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار سے زیادہ متحرک افراد نہیں ہیں۔ اگر افراد ہیں بھی تو ان میں سے آدھے سے زیادہ اپنی عمروں کے اس حصے میں ہیں جہاں آدمی صرف مشورے دے سکتا ہے یا دعا کرسکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے نزدیک مغفرت اسی میں ہے کہ سب کچھ کفار کے حوالے کرکے ہم بس نمازیں، روزے اور عمرے کرتے رہیں، زیارات قبور کرتے رہیں، یا عقیدے کے نام پر فاتحہ عرس جائز یا ناجائز کی بحثیں کرتے رہیں۔

 

یہ بات طئے ہے کہ کوئی نسل سر اٹھا کر نہیں چل سکتی جب تک اس سے پہلی والی نسل سر کاٹنے یا سر کٹانے کا کام نہیں کرتی۔ آج مسلمانوں کی جو بھی حالت ہے وہ اس لئے ہے کہ ہمارے والد اور دادا کی نسل آزادی کے بعد سخت معاشی مسائل میں گِھر گئی، نہ انہیں جماعت کی مہلت ملی اور نہ سیاست یا معاشی پلاننگ کی۔ وہ خوفزدہ تھے کہ ان کے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا۔ رفتہ رفتہ اسی خوف میں اگلی نسل پروان چڑھی، اور اُن سے زیادہ خوفزدہ رہی۔ رفتہ رفتہ نوکریاں، تحفظات، ہیومن رائٹس، جمہوری حقوق، حتیٰ کہ مذہبی اور تہذیبی آزادی چِھنتی گئی۔ مسجدیں اور بستیاں جلائی جاتی رہیں، ایجوکیشن کے نصاب سے مسلمانوں کو ختم کرکے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے والوں کا کردار مسخ کیا گیا۔ شہروں اور سڑکوں کے نام تبدیل کردیئے گئے۔ فلموں اور میڈیا میں مسلمانوں کے کیریکٹر کو انتہائی شرمناک بنا کر پیش کیا گیا۔ اسکولوں اور کالجوں میں ایسی پالیسیز بنائی گئیں کہ مسلمان خودبخود پسپائیت محسوس کرنے لگیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ موجودہ لوگ جو تیس تا پچاس سال کی عمر میں ہیں اگر وہ اپنے آپ کو کسی جماعت میں شامل کرکے ایک طاقت نہیں بنائیں گے تو اگلی نسل موجودہ نسل سے کہیں زیادہ خوفزدہ، پسپا اور سیکنڈ کلاس سیٹیزن بن کر رہ جائیگی، اور اس کے بعد کی نسلیں بہت تیزی سے اسلام چھوڑ کر نکل جائینگی۔ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں جو پہلے نہیں کہی گئیں۔ ہرآنے والے دور کے خطرات سے مسلمانوں کو علما اور دانشوروں اور صحافیوں نے خبردارکیا ہے،، لیکن مسلمانوں کی بدبختی یہ ہے کہ ایک تو ان کی زبان مکمل چِھن گئی، دوسرے قیادت جو ذہنوں پر چھائی ہوئی ہے وہ مکمل مسلکوں اور عقیدوں کے پرچار کرنے والوں کے ہاتھوں میں چلی گئی، جنہیں نہ سیاسی شعور ہے اور معاشی یا تعلیمی شعور ہے۔ تیسرے یہ کہ ان کے جانوں اور مالوں کا خوف ذہنوں پر اس قدر شدّت سے بٹھادیا گیا ہے کہ وہ مجاہد بننے کے بجائے مخبر بن جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ گویا آج کے مسلمان چٹان سے ٹوٹ کر گرنے والے اُس پتھر کی طرح ہیں جو بہت تیزی سے نیچے آرہا ہے، اس کو روکنا مشکل ہے۔ ایسے وقت میں اگر کچھ لوگ حق کی آواز اٹھا کر دشمن کی چالوں سے لوگوں کو خبردار بھی کرتے ہیں، تو اس کافائدہ دشمن کو ہی پہنچتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں چھپے ہوئے سانپ صفت لیڈروں کو تو جانتے ہی ہیں، لیکن اگر مسلمان فاشسٹوں کے خلاف آواز اٹھاتے بھی ہیں تو اس سے ہاتھ تو انہی کے مضبوط ہوں گے جو ویسے بھی مسلمانوں کے کبھی خیرخواہ نہیں تھے۔ مثلاً آپ بی جے پی یا آریس یس کے خلاف جو بھی کہیں گے، اس کا راست فائدہ کانگریس، کمیونسٹ، ٹی آر یس، نتیش، مایاوتی، لالو، شیوسینا یا ترنمول کو ہی جائے گا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِن لوگوں نے کبھی مسلمانوں کا کوئی فائدہ کیا ہے؟ یا پھر ان مسلمان پارٹیوں کا فائدہ ہوگا جو موقع پرست ہیں یا جن کے لیڈر پہلے سے ہی فاشسٹوں سے ملے ہوئے ہیں۔

 

تمام شریف اور دیندار لوگوں سے گزارش ہے کہ تبصرے بند کردیں اور فوری ایک ایک تحریک میں شامل ہوجائیں۔ جس دن ہماری ہر تحریک کے پاس ایک ایک دو دو لاکھ جوا ں ہمت کارکن جمع ہوجائیں گے، وقت پڑنے پر اپنی جانوں کا نذرانہ لے کر سڑکوں پر آجائیں گے، اس دن انقلاب کی پہلی کرن نمودار ہوگی۔ اگلی نسل مرد بن کر سر اٹھا کر گھروں سے نکلے گی۔ ورنہ اپنی نسلوں کو غلام ابن غلام بنانے کے لئے تیار ہوجایئے۔

 

 

 

ڈاکٹر علیم خان فلکی

 

صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

 

واٹس اپ: 7386340883