اصلاح معاشرہ کی چند تجویزیں

80
مفتی محمد ضیاءالحق فیض آبادی
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ،
بے شک اللہ تعالیٰ عدل و احسان اور قریبیوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اور فحشاء اور بغی اور منکر سے روکتا ہے اور تم کو نصیحت فرماتا ہے کہ تم نصیحت مانو۔
 آیت مذکورہ  میں اللہ عزوجل نے عدل و احسان اور یہی رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کاحکم دینے کے ساتھ ساتھ تین چیزوں سے روکا ہے ۔
۱۔فحشاء۔ اس میں وہ برائیاں آتی ہیں ، جو صرف ایک فرد تک محدود ہوں جیسے زنا ، عریانیت ، دروغ گوئی ،وغیرہ
۲۔منکر میں پوری جماعت شامل ہوتی ہے جیسے چوری، قتل ، ڈاکازنی، بدکاری، اور ہر وہ افعال جن سے اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے ۔
*اصلاح*۔ مذکورہ خرابیاں ایسی ہیں جن سے افراد انسانی اور جماعتوں کو ہمیشہ جسمانی اور روحانی نقصان پہنچتا ہے جب یہ برے افعال کسی قوم میں آجاتے ہیں اور کوئی اس کا مواخذہ کرنے والا نہ ہو تو پوری قوم تباہ  ہوجاتی ہے اور پورہ معاشرہ برباد ہو جاتا  ہے۔ اس کی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں ۔دینی و دنیوی سعادت  و اقبال کا دروازہ اس پر بند کر دیا جاتا ہے ،جب تک کہ اپنی اصلاح خود نہ کر لیں
جیساکہ شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
، *پھر کسی قوم کی شوکت پر زوال آتا ہے* ۔
معاشرے میں چاہے جیسی  خرابی اور فساد ہو اس کو معاشرے سے  دور کر دینے کا نام اصلاح ہے ۔ افراد کے اندر خرابی کا پایا جانا معاشرے کو بگاڑتا ہے کیوں کہ افراد ہی معاشرے کی بنیاد ہیں لہذا افراد کی اصلاح حقیقت میں معاشرے ہی کی اصلاح ہوگی اور ان کی اصلاح کے لئے مندرجہ ذیل طریقے اپناۓ جاسکتے ہیں ۔
۱۔سب سے پہلے افراد انسانی کو خداے وحدہ لاشریک کی طرف راغب کریں خدا کا صحیح تصور پیش کریں اور آخرت کے حوالے سے عقائد صحیحہ کو بیان کرتے ہوئے عقائد باطلہ کا بھی رد کریں تاکہ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جاے کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور اللہ عزوجل کے سامنے اچھے اور برے اعمال کا جواب دینا ہے ۔
نیز توحید کی اہمیت اور شرک کی مذمت ان کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ شرک سے اجتناب کرکے توحید کی طرف مائل ہو کیوں کہ معاشرے کو بگاڑنے میں شرک بہت  بڑا فتنہ ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے
 *بیشک شرک بہت بڑا گناہ  ہے*
۲۔ہمارے معاشرے میں ایک ایسے ادارے کا قیام ہو،  جس کو مرکزی حیثیت حاصل ہو ۔
اطراف و اکناف میں بھی چھوٹے چھوٹے مراکز بنے ہوں ،جو پہلے مرکز کے ماتحت ہوں اور مرکز ایسی تدبیروں کو عملی جامہ پہناۓ جن سے معاشرے میں پاے جانے والی خرافات اور خرابیوں کا  سد باب کر سکے ۔اصلاح معاشرے کے حوالے سے تمام احکام اسی مرکز سے صادر ہوں ۔اوراس سے صادر ہونے والے احکام کو عوام تک پہچائیں، کیوں کہ امر بالمعروف و  نہی عن المنکر امت مسلمہ کا اہم ترین فریضہ ہے اس بنیاد پر امت مسلمہ کو خیر امت کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے ۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے
*تم وہ بہترین امت ہو جن کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ تم  لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دو اور بری باتوں سے روکو*( ترجمہ سورہ آل عمران ایت ۱۱۰)
اللہ عز اسمہ نے تو ایک جماعت کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ضروری قرار دیا ہے ۔
ترجمہ سورہ ال عمران ایت ۱١٤
*تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلاۓ  اور اچھے کاموں کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں* ۔اگر اللہ عزوجل کے اس فریضہ کو امت اپنالے  اور اس کے ارسال و تبلیغ پر مکمل راست بازی حق پسندی خلوص و دیانت داری کے ساتھ قائم ہو جائے اور تمام فروعی غیر ضروری اختلافات کو مٹا کر ہم آہنگ اور ہم مقصد ہو کر اس پر مضبوطی سے قائم ہو جاے ، تو یقیناً معاشرے سے خرابیاں دور ہوتی نظر آئیں گی پورا ماحول خوش گوار بنتا نظر آے گا۔
 ۳۔ مرکز تبلیغ و اشاعت کے لئے ان افراد کا انتخاب کرنا جو خود احکام شرع کے پابند ہونے کے ساتھ ساتھ خلوص وللہیت کے ساتھ اپنے فریضے کو بحسن خوبی انجام دے سکیں ۔ ان کی گفتگو میں متانت و سنجیدگی ہوں کہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں ،ان میں سے ہر ایک کے لئے وظیفہ متعین ہو تاکہ وہ ایک سوئی ہوکر  اپنے کام کو بحسن خوبی انجام دے سکیں ۔
٤ ۔اصلاح اور فساد کا تعین خود مرکز کرے ۔سزا و جزا کے احکام بھی مرکز سے ہی نافذ ہوں ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ جس کی جہاں جیسی مرضی ویسا حکم نافذ کردے بلکہ گرد ونواح کے تمام اداروں کی یہ ذمےداری ہے کہ وہ مرکز کی طرف رجوع کرکے اپنے مسائل کو حل کرائیں ۔
۵۔معاشرے کی اصلاح اجتماعی طور پر کچھ اس طرح سے کی جاے کوئی شخص کسی بھی برائی کی طرف مائل نہ ہو ۔
الف. دور حاضر میں تبلیغ و اشاعت کے لئے ان تمام صورتوں کو اختیار کیا جا  سکتا ہے جو نشر و اشاعت کے باب میں سند جواز کی حیثیت رکھتی ہوں۔ جیسے اخبارات ، ریڈیو ، انٹر نیٹ وغیرہ
ب ۔ جلسہ ، عوامی ذہن کو درستگی کی طرف مائل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے مگر اس کے کچھ شرائط ہیں مثلا جلسہ کی بنیاد صرف اور صرف خلوص پر ہو ۔ خطاب کرنے کے لئے ایسے علماء کو مدعو کیا جاے جو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کام کرتے ہوں خود احکام شرع کے پابند ہوں ۔ تاکہ ان کی گفتگو عوام کے درمیان موثر ہو۔
ج۔ تصنیف و تالیف اور کتابت ، جس طرح جلسہ عوام تک اپنی بات پہچانے کا ایک ذریعہ ہے ٹھیک اسی طرح تصنیف و تالیف سے بھی اپنی بات اور اپنا پیغام ایک دوسرے کو باآسانی پہنچا سکتے ہیں ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپ ہر ہفتہ یا ہر مہینہ الگ الگ موضوعات پر خامہ فرسائی کرکے اپنی فکری کاوش کو میگزین یا اخبار کی شکل میں شائع کراتے رہیں ۔تاکہ عوام الناس اپ کی تحریر سے استفادہ حاصل کرکے اپنی اصلاح کرسکے ۔
٦۔  معاشرے کے اندر مساجد کی  دینی اور سماجی حیثیت کو اجا گر کیا جائے اور افراد ومعاشرہ کے لئے بیحد  ضروری ہے کہ مساجد سے اپنا تعلق مضبوطی سے قائم  رکھیں ۔معاشرے کے لوگوں کو چاہئے مرکز کو اپنا مرکز تسلیم کرتے ہوئے  وہاں سے صادر ہونے والے احکام پر مکمل طور سے عمل کریں ۔ جب تک معاشرے کے اندر یہ اجتماعی صورت نہیں پائی جاے گی تب تک مسلم معاشرہ کے اندر اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ۔
۷۔تعلیمی ادرے، معاشرہ کے اندر اجتماعی اور انفرادی شعور کو فروغ دینے کا ایک عظیم زینہ ہیں جہاں اساتذہ کرام کی سرپرستی میں اشخاص کی مکمل اصلاح ہوتی ہے ۔اس لیے مدارس میں ایسے استاتذہ کا انتخاب کیا جائے جو ہر طرح سے طالب علموں کے ذہن و فکر کو سنوارنے کی مکمل کوششیں کریں ۔ نصاب تعلیم اس طرح سے ہونا چاہیے جو دینی و عصری دونوں قسم کی تعلیم پر مشتمل ہو ۔ ایسے علوم جو دین اسلام کے منافی ہو جیسے فلسفہ وغیرہ استاتذہ کرام کو چاہیے اس کتاب کے درس کے وقت تنقیدی  طریقہ اختیار کریں اور باطلوں کا رد بلیغ بھی کرتے چلیں تاکہ طالب علم ان کے عقائد باطلہ سے بخوبی واقف ہو جائیں ۔
۸۔ معاشرہ کی اصلاح  کے لئے حدود کا بھی انتظام کیا جاے تاکہ ان لوگوں کی بھی اصلاح ہو سکے جو محض ترغیبات اور اخلاق حمیدہ سے اصلاح کو قبول ہر گز نہیں کرتے ہیں ۔ معاشرے کے ضابطے کو توڑ کر قانون کے خلاف  عمل  کرتے ہیں ۔ ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ فتنہ کا سد باب ہو سکے۔ اور معاشرے میں قانونی نظام پر لوگ عمل پیرا ہو سکے ۔
۹۔ جس معاشرے میں ہم اپنی زندگی کے شب و روز کو بسر کر رہے ہیں ۔اس کے پورا نظام کو اسلامی نظام بنانے کی کوشش کی جائے۔ تاکہ معاشرے میں رہنے والے لوگ علم دین و علم دنیا کی دولت سے اپنے اپ کو آراستہ و پیراستہ کر سکیں ۔غیر اسلامی عقائد باطلہ ابھر نہ سکیں ۔ نظام کی تعمیر اس انداز میں ہو کہ ہر فرد اپنی اصلاح بذات خود کرے ۔تو اس کا فائدہ یہ ہوگا اس سے ایک ایسا خوشگوار معاشرہ جنم لے گا جس سے آنی والی نسلیں اسی کے خوشبوؤں کے تلے اپنی زندگی کے شب و روز کو نہایت شایستگی و شگفتگی سے بسر کرینگی ۔
مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کی اصلاح  کرنے سے پہلے خود کا محاسبہ کرے ۔خود کو بدلنے کی کوشش کرے ۔کیونکہ مصلح اور داعی جب تک خود کی اصلاح نہیں کرینگے اس وقت تک دوسرے کی اصلاح کے قابل نہیں ہونگے اس کی اصلاح ہر گز ہرگز کار آمد نہیں ہو سکتی ۔
*عمل ہو علم ہو رشد و ہدایت کے لئے ورنہ*
*غلط جسموں پہ نورانی قبا اچھی نہیں لگتی*
۱۰۔جو بچے اسکول اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے مدرسہ آ نہیں پاتے۔اور دینی ماحول سے بہت دور چلے جاتے ہیں ان کے لئے بھی دینی تعلیم کا انتظام کیا جاے ۔اس کی صورت یہ ہے کہ محلے یا گاؤں میں کہیں مکتب کا انتظام کیا جاے جس میں وہ حاضر ہو کر دینی تعلیم حاصل کر سکیں ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں کوئی جاہل نہیں رہے گا بلکہ بقدر ضرورت روز مرہ کے مسائل اور اس کے احکام اسے یاد ہو جاینگے ۔
۱۱۔اتحاد ، ملک اور قوم کی فلاح کا دارومدار اتحاد پر ہوتا ہے یہ ایک ایسی مسلم حقیقت ہے جس کا منکر کوئی نہیں کہ اگر معاشرہ فرقہ واریت اور گروہوں میں بٹا ہوا تو اسے تباہ و برباد ہونے سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔جس قوم میں اتحاد نہیں پایا جاتا وہ ہمیشہ ذلیل ہوتی ہے ۔اس لئے جہاں معاشرہ میں ترقی کے لئے مزکورہ بالا امور کا ہونا ضروری ہے تو وہیں پر ایک دوسرے کا اپس میں متفق ہونا اس سے کہی زیادہ ضروری ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
*متفق ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن*
*منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو*
۱۲۔ اہلسنت و جماعت کے خطباء اور مبلغین حضرات فروعی مسائل میں اختلاف سے اجتناب کریں اور ایک دوسرے کے خلاف بحث و مباحثہ میں اپنا وقت ضائع نہ کریں ۔بلکہ امور  ضروریہ اور ترجیحات پر توجہ دیں کر قوم کے اصلاح کی کوشش کریں ۔ مسائل فرعیہ میں اختلاف کے علاوہ اور بھی دوسرے اہم امور علمائے کرام کے ذمہ ہیں ۔اور اگر یہی موجودہ حالات باقی رہے تو ہماری شناخت و علامت بھی مٹا دے جائیں گے ۔
۱۳۔ خطبہ جمعہ ، معاشرے کی اصلاح کے لئے جمعہ کی تقریر کا کلیدی کردار ہوتا ہے ۔اس لئے گاؤں اور شہر کی ہر جامع مسجد (جس جگہ جمعہ کا قائم ہے ) خطبہ جمعہ سے پہلے وہاں کی مادری زبان میں خطیب جس خطاب کو بیان کرتا ہے اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے تا کہ عوام کماحقہ اس کے خطاب کو سمجھ کر اس سے استفادہ حاصل کرے ۔ حصر حاضر میں ائمہ اور خطباء کے جو حالات ہیں وہ ما و شما سے پوشیدہ نہیں ہے ۔اس لئے امام و خطیب کا انتخاب بھی سوچ و سمجھ کر کیا جاے اور ایسوں کا انتخاب ہرگز نہ کیا جاے جو دین دار اور نیک صالح نہ ہوں بلکہ باصلاحیت و دین دار علمائے کرام کا انتخاب کیا جاے تاکہ عوامی اہلسنت کی صحیح معنوں میں رہنمائی ہو سکے ۔
١٤۔ہر محلے کی مسجد میں ناظرہ قرآن پڑھنے اور اس کو سمجھنے کے لئے مکاتب و محافل کا اہتمام کیا جاے نیز عوام کے لئے دینی و دنیوی تعلیم کا معقول انتظام کیا جاے اور جو لوگ ابھی تک  زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہیں ان کو زیور تعلیم سے آراستہ کرایا جائے ۔
۱۵۔اصلاح خواتین، معاشرہ کو صاف ستھرا بنانے اور اس کو صحیح  راستے پر لانے کے لئے عورتوں کا پاکباز ہونا اشد ضروری ہے ۔ اس لئے ان کے کردار و عمل کی پاکیزگی کے لئے الگ سے دینی جلسوں کا اہتمام کیا جائے ۔اور گھر کے اندر اور بچوں میں دینی ماحول پیدا کیا جاے۔ دینیات و سیرت کی کتابیں گھر میں زیادہ سے زیادہ موجود ہوں ۔فحش اور برے لیٹریچروں سے گھروں کو پاک وصاف رکھا جاے۔ بدمذہبوں سے کالجوں میں بچوں کو تعلیم ہرگز نہ دلائیں بلکہ مسلم معاشرہ خود اپنی تعلیم گاہ کا اہتمام کرے جو دینی و دنیوی تعلیم پر مشتمل ہو اور اسلامی ماحول کے رنگ میں رنگا ہو۔
۱٦۔تعلیم نسواں ،اس لئے کی گھر کے پورے ماحول کا دارومدار عورت پر ہوتا ہے اور ایام طفولیت میں بچے اسی کے نقش قدم پر اپنی زندگی کے شب و روز کو گزارتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت زیور تعلیم سے آراستہ ہو تاکہ وہ اپنے بچوں کی پرورش اور اچھی  تربیت  کے ساتھ ساتھ  گھروں کے اندر دینی ماحول پیدا کرسکے ۔
۱۷۔نوجوانوں کی اصلاح ، کسی بھی معاشرے کے فساد اور اصلاح کا دارومدار نئی نسل کے نوجوانوں پر موقوف ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ آنے والی نئی نسل کی اصلاح کر کے ان کی زندگی کے زلفوں کو سنوارا  جائے ۔ کیوں کہ اگر ان کی اصلاح کی جاے گی تو وہی انے والی نسلوں کے  مصلح   ہوں گے اور اس معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیاں ختم ہو جائیں گی ۔ کیوں کہ انھی میں سے ایسے نوجوان بھی ابھر کے سامنے آئیں گے جو مستقبل میں معاشرے کے ذمہ دار ہونگے ۔ ضرورت اس بات کو آواز دے رہی ہے کہ نوجوان خود اپنی اندر تبدیلی لے کر اے اس لیے کہ معاشرہ کا عروج و زوال انہیں کے ہاتھوں میں ہے اگر نوجوان طبقہ  معاشرے کو راہ راست پر لانے کا عزم مصمم کرلیں تو ہمارے معاشرے کا ماحول بہت ہی جلد تبدیل ہوتا ہوا نظر آے گا  ۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان خود اپنے زندگی  کو بدل کر  سنت مصطفی کے قالب میں ڈاھالے خود کو اتنا پاکباز بناے کہ کوئی بھی اس پر انگشت نمائی نہ کر سکے دینی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے غریب یتیم نادر کی مدد کرے اور انہیں ہر برائی سے روکنے کی کوشش کرے اور اپنے اپ کو برائیوں سے درو رکھے ۔
کسی نے کہا ہے
*ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
اللہ عزوجل ہم سب کو عمل کثیر کی توفیق عطاء فرمائے امین یارب العالمین