اسپتال کس لئے،، علاج کے لئے یا کمائی کے لئے؟؟

61
اسپتال کس لئے،، علاج کے لئے یا کمائی کے لئے؟؟
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الاسلام انصاری
یہ تو حقیقت ہے کہ بیماری اور شفا اللہ کی طرف سے ہے اور ڈاکٹر، اسپتال، ادویات اور چیکپ کی تمام مشینری یہ ذرائع ہیں ، اسباب ہیں ، سہولیات ہیں اور یہ ساری ٹکنالوجی و مشینری کے ایجاد کرنے والوں کو دماغ اللہ نے عطا فرمایا ہے تاکہ قوم کی خدمت کرسکے مریض بھی اللہ کا بندہ ہے اور ڈاکٹر بھی اللہ کا بندہ ہے ایک وہ زمانہ تھا کہ جنگ لڑتے ہوئے بدن کے کسی حصے میں تیر پیوست ہوجاتا تھا تو آگ میں چاقو گرم کرکے اسی سے تیر باہر نکال دیا جاتا تھا مریض کو راحت و آرام مل جاتا تھا، ایک وہ زمانہ تھا کہ حکما میں ماہر نباض ہوا کرتے تھے اور نبض پکڑ کر سارا مرض بتلایا کرتے تھے اور جڑی بوٹی کی شکل میں دوائیں دیا کرتے تھے جس سے بیماری جڑ سے ختم ہو جایا کرتی تھی نباض آج بھی ہیں لیکن کل کے نباضی سے مرض معلوم کیا جاتا تھا اور آج کی نباضی سی مالی حالت معلوم کی جاتی ہے کل تک بڑے بڑے اسپتال نہیں تھے، کیپسول ، انجکشن، ایکسرے مشین نہیں تھی، سونو گرافی، الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی وغیرہ کا سسٹم نہیں تھا لیکن قوم کی خدمت کا جذبہ تھا ،، کامیاب علاج ہوتا تھا اور آج جدید سے جدید تر آلات و دیگر ذرائع ہونے کے باوجود بھی کسی انسان کی بیماری ختم نہیں ہوتی آخر اس کی وجہ کیا ہے وجہ یہ ہے کہ نیت بدل گئی آج ایک انسان اپنے بیٹے کو تعلیم دلاتا ہے اور ڈاکٹری پڑھاتا ہے تو خود اپنے بیٹے کی موجودگی میں فخر کے ساتھ لوگوں سے کہتا ہے کہ میرا بیٹا بہت بڑا ڈاکٹر بنے گا خوب دولت کمائے گا ایک بار بھی باپ کی زبان سے یہ کلمات نہیں نکلتے کہ میرا بیٹا بہت بڑا ڈاکٹر بنے گا اور قوم کی خدمت کرے گا ابتدائی مراحل میں بیٹے کو باپ کے ذریعے حصول تعلیم کا مقصد دولت کمانا معلوم ہوا تو ظاہر بات ہے کہ اس نظرئیے و خیالات کا اثر بیٹے پر پڑے گا اور آج اسی بدنیتی کی دین ہے کہ معاملہ بد اخلاقی تک پہنچ گیا مریضوں کو آئی سی یو میں مرنے کے بعد بھی کئی کئی دنوں تک رکھ کر مریض کے گھروالوں سے خون پسینے کی کمائی لوٹی جاتی ہے گنے چنے ایسے ڈاکٹر ملیں گے جن کے سینوں میں مریضوں کا درد ہوتا ہے ہمدردی ہوتی ہے ورنہ اکثریت میں ڈاکٹر ڈاکو کا کردار ادا کرتے ہیں راقم الحروف نے ایک ویڈیو دیکھی ایک بہت بڑے نامی گرامی ڈاکٹر جن کی فیس بہت زیادہ ہے آپریشن میں بڑے ماہر ہیں ضعیف ہوچکے ہیں تقریباً 70 سال عمر ہوچکی ہے اپنے اسپتال میں جونئیر ڈاکٹر بھی رکھے ہوئے ہیں نرس بھی ہیں اور اتفاق ایسا کہ اسپتال کے عملہ میں کچھ افراد غریب پرور بھی ہیں اور بڑے ڈاکٹر بار بار کہتے ہیں کہ یہ اسپتال ہے کمائی کی جگہ ہے کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہے ڈاکٹری پڑھنے میں بڑی دولت لگتی ہے اور اب ہم ڈاکٹر ہوگئے تو اب پیسہ کمانا ہمارا مقصد ہے کسی چہار دیواری کے اندر کوئی بیمار ہو گیا تو اس چہار دیواری کے دیگر افراد کی ذمہ داری ہے کہ علاج کے لئے اسے اسپتال لے جائیں اب اتفاقاً ہمارے اسپتال میں آگیا تو علاج کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس سے کہیں زیادہ علاج کا پیسہ لینے کی ذمہ داری ہے مریض اچھا ہو کہ نہ ہو ہم اس کے ذمہ دار نہیں آج کے بعد جو کوئی بھی بھی علاج کے لئے آئے تو پہلے پیسہ جمع کراؤ مریض چل پھر نہیں سکتا حالت نازک ہے تو جو ساتھ میں آیا ہے اس سے پہلے پیسہ جمع کراؤ اس کے بعد مریض کو اسپتال میں داخل ہونے دو ایک دن صبح سویرے ڈاکٹر اپنے اسپتال پہنچتے ہیں اپنے اسپیشل روم میں بیٹھے ہوئے ہیں باہر سے چند لوگ ایک چارپائی پر مریض لے کر آتے ہیں ڈاکٹر کی نظر پڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ کوئی سڑک حادثہ ہوا ہے اور ساتھ میں آنے والے اس کے گھر کے نہیں ہیں بس راہ چلنے والے اٹھا لائے ہیں اب ڈاکٹر نظر ملانے کے لئے تیار نہیں، بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں جبکہ ڈاکٹر کا معاون عملہ سفارش کررہاہے کہ سر اس کے جسم سے خون بہت نکل چکا ہے اس کی جان بچانا ضروری ہے اتنا سننا تھا کہ ڈاکٹر بول پڑا جب تک اس کے ذمہ داران آئیں گے نہیں، پیسہ جمع کریں گے نہیں تب تک علاج نہیں ہوسکتا سینئر ڈاکٹر کا عملہ سفارش کرتا رہا لیکن اس سنگ دل ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے اپنے دوست سے ملنے جانا ہے اور میں جارہا ہوں اسے کسی لوکل اسپتال میں بھیج دو یاکہ اس کے گھر والے دو لاکھ روپے لے کر آجائیں تو فوراً مجھے فون کرنا میں آجاؤں گا معاون عملہ نے دیکھا کہ اسے لوگ سڑک پر سے اٹھا کر لائے ہیں اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے تو آپس میں رائے مشورہ کرکے علاج اور خرچ کا ذمہ خود ہی اٹھا لیا پھر ڈاکٹر کے پاس فون کیا ڈاکٹر نے کہاکہ میں ابھی آرہا ہوں پورا عملہ اس مریض کے آپریشن کی تیاری میں لگ گیا اسے تھیٹر روم میں لے جایا گیا ابھی ڈاکٹر کا انتظار ہو ہی رہا تھا کہ باہر سے کسی نے کہا کہ ڈاکٹر آگئے ڈاکٹر آگئے ،، آپریشن روم سے عملہ نکل کر آتا ہے اور کہتاہے کہ چلئے ڈاکٹر صاحب,, آخر ڈاکٹر نے پھر کہا کہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ آپ لوگوں نے خرچ کیوں اپنے۔ ذمے لیا بہر حال چلئے جونئیر ڈاکٹروں اور نرسوں کے جھرمٹ میں ڈاکٹر آپریشن روم پہنچتا ہے کیا دیکھتاہے ہے کہ مریض موت کی نیند سو گیا اسپتال کے عملہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ اسے جتنی جلد ہوسکے اسپتال سے باہر نکالو لوگ اسے باہر نکالنے لگے تو مریض کا چہرہ کھل گیا اور اسپتال کے مالک ڈاکٹر کی نظر پڑگئی وہ چیخیں مارنے لگا کہ ہائے میری دنیا اجڑگئی ، میں برباد ہوگیا ، میری کمر ٹوٹ گئی ائے میرے پروردگار تونے یہ کیا کیا ,, میں تو تیرے بندوں کی خدمت کرتا ہوں اور مریضوں کا علاج کرتا ہوں اور تونے میرے ہی بیٹے کو مجھ سے چھین لیا لیکن اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی کہ اے نادان تو میرے بندوں کی خدمت نہیں کرتا ہے بلکہ تو میرے بندوں کی غربت کا مزاق اڑاتا ہے ، ان کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ زنی کرتا ہے تو ہی کہتا تھا کہ یہ فلاحی ادارہ نہیں ہے، یہ یتیم خانہ نہیں ہے بلکہ یہ اسپتال ہے پیسہ لے کر آؤ اور علاج کراؤ دیکھ ایک ہی جھٹکے میں تیرا غرور خاک میں مل گیا تیری شہرت، تیری عزت، تیری دولت تیرے بیٹے کی زندگی کو نہیں بچا سکی-
آج یہی حال ہے کوئی بیمار پڑتا ہے تو مقامی ڈاکٹروں کے ذریعے اپنا علاج کراتا اور کوئی بیمار پڑتا ہے تو بیرون ملک اپنا علاج کرانے کے لئے جاتاہے حالانکہ بیرون ملک علاج کے لئے جانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہم جس طریقے کا علاج کرانے جارہے ہیں وہ طریقہ، وہ سہولت خود ہمیں اپنے ملک میں فراہم کرنا چاہیے جو وہاں انتظام ہے وہی انتظام ہمیں اپنے ملک میں کرنا چاہیے تاکہ پوری عوام کو فائدہ پہنچے،، بہر حال یہ دنیا ہے سوچ اور نظریہ الگ الگ ہے کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے دروازے سے اسپتال تک عیادت کرنے والوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسپتال تک پہنچنے کا انتظام کرنے کی فکر میں دنیا سے ہی رخصت ہوجاتا ہے بہر کیف ایک ڈاکٹر کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر خدمت قوم کا جذبہ ہو اور جب یہ جذبہ ہوگا تو وہ غریب پرور ہوگا اور جب ایسا ہوگا تو ہر شخص کو علا کی آسانی ہوگی اور یہ ہر حال میں ہوناچاہیے-