جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہومبزم خواتیناسلام کا نظام وراثت اور خواتین

اسلام کا نظام وراثت اور خواتین

حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی ایم پیؒ

بہت ہی اہم اور قیمتی مضمون ہے یہ حضرت مولانااسرارالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ،اللہ حضرت کی مغفرت فرمائے،آمین،وقت نکال کر ضرور ایک بار اس مضمون کو پڑھیں۔

خواتین کو اسلام نے بڑی اہمیت دی ہے بلکہ اسلام نے ہی انہیں ان کا جائزاور پورا پورا حق دیا ہے ۔ اسلام کے علاوہ کو ئی بھی نظام خواتین کو اس کا واجبی نہیں دے سکاہے۔حالانکہ دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے جسے ترقی کی صدی کہاجاتاہے اور اس صدی میں کافی کچھ تبدیلیوںکا بھی وقوع ہورہا ہے ، خواتین کے تعلق سے بھی تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سے خواتین کوآگے لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے خواتین کو ان کا حق نہیں مل پارہا ہے بلکہ وہ اورزیادہ بدحالی کی شکار ہورہی ہے اور اس کی زندگی الجھنوں وپریشانیوںمیں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔مثال کے طورپر خواتین کی زیادہ سے زیادہ ملازمتوںمیں حصہ دینے کی بات کی جارہی ہے۔ بہت سے مقامات پر عورتوںکو نوکریاں بھی مل رہی ہیں لیکن کیا وہ نوکریاں پاکر اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیںاور کیاانہیں وہ مقام مل رہا ہے جس کی وہ حقدار ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ نوکریاں حاصل کرنے کے بعد نہ تو کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے اور نہ ہی انہیں بہتر مقام حاصل ہورہا ہے۔ملازمتوںکے حصول کے بعد خواتین کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھتی جارہی ہے۔ صبح سے شام تک دفتروںمیں ملازمت بھی انہیں کرنی پڑرہی ہے اور گھر کے کام بھی انہی کے ذمے ہیں۔یعنی اب ان کے اوپر دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود بھی انہیں عزت نہیں مل پاتی۔ملازم پیشہ عورتوںکے شوہر عموماً اپنی بیویوںکو بہت اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور شکوک وشبہات میں ملوث رہتے ہیں ۔ بعض عورتوںکو اپنے شوہر وںکو مطمئن و خوش رکھنے کے لئے بڑی احتیاط کرنی پڑتی ہے، لیکن زیادہ تر عورتیں ایسا نہیں کرپاتیں ۔ ملازم پیشہ عورتیں چونکہ دفتروں وغیرہ میں مردوںکے ساتھ کام کرتی ہیں ،اس لئے بات چیت بھی کرتی ہیں جسے غیور شوہرپسند نہیں کرتے۔معلوم ہوا کہ ملازمت سے شوہر کی نگاہ میں عزت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف دفتروںمیں بھی ملازم عورتوںکو عزت سے نہیں دیکھاجاتا ۔

ہوتاہے یہ ہے کہ نچلی سطح کے کام عام طورسے عورتوںسے لئے جاتے ہیں ۔ خاص طورسے ایسی پوزیشنوںپر عورتوں کو رکھاجاتاہے جن کا تعلق مواصلات سے ہوتا ہے۔خواہ وہ دفاترمیںاستقبالیہ کی بات ہویا پھر کمپنی کی چیزوںسے لوگوںکو مطمئن کرنے کامعاملہ۔دفاتر میں یہ بھی دیکھاجاتاہے کہ دوسرے ساتھی عورتوںسے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ اس تعلق میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ اس میں کوئی غرض شامل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملازم پیشہ عورتوںکو عزت سے نہیں دیکھاجاتاہے۔ اگر ملازمت سے عورتوںکی قدر مقصود ہوتی تو ان کی اہم پوزیشینوں پر تقرری کی جاتی اور محفوظ مقامات پر ان کو رکھاجاتا۔ ابھی ہندوستان میں جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ان میں صرف 5فیصد عورتیں ایسی ہیں جنہیں قدرے بہتر ملازمتیں حاصل ہیں۔یہ صورت حال صرف ہندوستان ہی کی نہیں ہے بلکہ مغربی ممالک میں بھی عورتوںکی ملازمت کی صورت حال یہی ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں ملازمت کرنے والی خواتین کا شرح فیصد بہت زیادہ ہے لیکن اہم ملازمتیں عورتوںکو وہاں بھی حاصل نہیںہیں۔

آزادی ٔ نسواں کا جونعرہ آج بلند کیاجارہا ہے ، مغرب میںاس پر عمل ہوچکا ہے ۔ عورتیں گھروںسے باہر آچکی ہیں ، خود مختار ی کے لئے زیادہ سے زیادہ ملازمتیں حاصل کرچکی ہیں مگر اس صورت حال نے انہیں انتہائی کربناک حالات سے دوچا رکردیا۔جتنی طلاقیں مغربی معاشروںمیں واقع ہورہی ہیں دوسرے معاشروںمیں اس کا عشر عشیر بھی نہیں نہیں ہورہی ہیں۔ عورتیں ادھر ادھر بھٹکتی ہوئی نظرآتی ہیں اور مرد انہیں اپنی شہوت رانی کے شکار بنارہے ہیں۔مغرب میںیہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ عورتوںکی اہمیت مزید کم ہوتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ ان کی جسمانی کشش کے ختم ہوتے کے ساتھ ہی لوگ ان سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں ۔اور جہاں تک رشتوںکا معاملہ ہے تو چونکہ رشتے اتنے زیادہ مضبوط ہوتے نہیں ہیں ، اس لئے اپنے بچوںیا شوہروںکی توجہ سے بھی وہ تقریباً محروم رہتی ہیں۔معلوم ہوا کہ دورجدید کے عورتوںکو حقوق دینے کے دعوے بے بنیاد ہیں ۔
سچائی یہ ہے کہ حقیقی عزت وحق تو عورتوںکو اسلام دیتا ہے۔اسلام عورتوںکو بازاروں، کلبوں اوردفتروںکی زینت نہیں بناناچاہتابلکہ وہ عورتوںکوزیادہ سے زیادہ محفوظ بناتاہے۔اسلام نے عورتوںکے اخراجات کی ذمہ داری ان کے شوہروںپر رکھی ہے۔یعنی عورتوںکو کمانے کی فکرات سے اسلام خلاصی دیتا ہے۔ انہیں ضرورت نہیں کہ وہ گھر سے باہر جاکردوسرے لوگوںکی غلامی کریں۔گھر میں ان کی اپنی حیثیت ہوتی ہے ۔ شوہر کی نگاہ میں بھی قدر ہوتی ہے اور بچوںکی نگاہ میںبھی ۔ شوہروںکو اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی عورتوںکے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریںاور ان کے نان ونفقہ کا بھی حق ادا کریں۔

اسلام نے خواتین کو میراث کا بھی حق دار ٹھہرایاہے۔بعض غیرمسلمین اسلام پر وراثت کے معاملہ میںمردوں اورعورتوں میں تفریق کا الزام لگاتے ہیںکہ اسلام عورتوںکو کم میراث دیتاہے لیکن یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے ۔ اسلامی نظام وراثت میں وارث کے مرنے والے سے قرابت اور اس کی پیٹری کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے،لہذامیراث کے کتنے ایسے مسائل ہیں جن میںعورت کو مرد سے زیادہ حصہ ملتاہے اور ایسے بھی مسائل ہیں جن میں عورت کو تو حصہ ملتا ہے لیکن مرد کو حصہ نہیں ملتا،صرف وراثت کے گنے چنے چار مسائل ایسے ہیں جن میں مرد کو عورت کے مقابلے میںدگنا حصہ ملتا ہے اور ان میں بھی وجہ اس کا مرد اور اس کا عورت ہونا نہیںبلکہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں مالی ذمہ داریاں مردوں پر ڈالی گئی ہیں۔مہر،بیوی کے اخراجات اور دیگر اہل خانہ و اقرباء کے اخراجات مرد کے ذمہ ہو تے ہیں، عورت کے ذمہ نہیں۔اس طرح مرد کو ملنے والا مال رفتہ رفتہ ختم ہو تا رہتا ہے جب کہ عورت کو ملنے والا مال محفوظ رہتا ہے جو اس کے لئے قوت کا با عث ہوتاہے اور ٓاڑے وقتوں میں اس کے لئے معاون ثابت ہوتاہے تاکہ وہ عزت وآسانی کے ساتھ زندگی گزارسکے۔عورت ہونے کی بنیادپر تفریق کا اسلام پر الزام اسلامی نظام سے ناواقفیت یا پھر اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیںہے۔

میراث کا حقدار اسلام نے ہی عورتوںکوبنایا ہے ورنہ اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کو وراثت نہیں دی جاتی تھی۔عربوںکا یہ خیال تھا کہ ترکہ میں وہی حصہ دارہوسکتا ہے جو گھوڑے پر سواری کرسکے اور میدان کارزار میں قبیلے کا دفاع کرسکے۔حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ مشرکین صرف بالغ مردوںکو ترکہ میں سے حصہ دیتے اور عورتوںونابالغ بچوںکو اس سے محروم رکھتے تھے۔اسلام نے اس سوچ ونظریہ پر ضرب لگائی اور عورتوںکو بھی میراث کا حقدار قرار دیا۔المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے مسلم معاشرے میں عورتوںکو میراث دینے میں کوتاہی برتی جارہی ہے جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورتوںکو حصہ دیاجائے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!
1 تبصرہ
  1. محترم نے بہت ہی دلچسپ بات کہی لیکن جب اسی پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بل پاس کیا جارہا تھا تو آنجناب پارلیمنٹ سے غائب تھے ۔۔۔۔۔کیوں؟

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے