اسلام کا اولین معرکہ ‘بدر’ میں ہمارے لئے پیغام (محمد قاسم ٹانڈؔوی

82
اسلام کا اولین معرکہ ‘بدر’ میں ہمارے لئے پیغام
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
ہجری و اسلامی سال کے اعتبار سے ہمارے سروں پر سایہ فگن یہ ‘رمضان المبارک’ کا محترم و مقدس نواں مہینہ چل رہا ہے، یہ ماہ مبارک جہاں نورانیت و روحانیت میں اپنا ایک مقام خاص رکھتا ہے، اور اپنے پانے والوں کےلئے رحمت و برکات کی سوغات، بخشش و مغفرت کا مژدہ اور سب سے بڑا تحفہ و خوشخبری سناتا ہے، یعنی اہل ایمان کو جہنم سے آزادی دلاتا ہے، وہیں اس کی تاریخی اہمیت اور اس میں واقع ہونے والی اسلام کی اولین جنگ کا پیغام بھی اپنی جگہ ایک الگ و نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے بارے میں قرآن کریم کی کئی سورتوں میں مطول و مختصر دونوں طرق اور بہت ہی عجیب و خوبصورت پیرائے میں از اول تا آخر معرکہ کی منظر کشائی کرائی گئی ہے۔ چنانچہ سورہ انفال میں اس معرکہ کی مکمل تفصیل و توضیحات پیش کرنے کے بعد دیگر سات اور سورتوں میں بھی اسلام کے اس اولین معرکہ اور حق و باطل کے مابین لڑی جانے والی پہلی جنگ کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس اہم واقعہ “جنگ بدر” کی خصوصیت و معنویت اور افادیت کو بیان کرنے یا سمجھنے کےلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ پاک نے اس سے متعلق قرآن مجید میں پوری ایک سورت “سورۃ الانفال” نازل فرمائی جس کے اندر حق پرستوں اور باطل پرستوں کے مابین ہونے والے مذاکرات کا تذکرہ بھی ہے اور حق و صداقت کے علمبردار و پیامبر اور اہل ایمان پر کی جانے والے ظلم و ستم کی مکمل داستان بھی، اسی کے اندر اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ پاک اپنی ذات پر ایمان و اعتقاد رکھنے والوں کی کس طرح مدد و نصرت فرماتا ہے؟ اور دین حق و مذہب اسلام کے مقابلے میں آنے والوں کو کس طرح بدترین شکست سے دوچار فرما کر دنیا والوں کی نظر میں ان کو ہمیشہ ہمیش کےلئے ذلیل و رسوا کرتا ہے؟ نیز اس میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ: یہاں مسلمان مالی اعتبار سے کس درجہ میں تھے، اور ان کی نفری پوزیشن کیا تھی؟ اور کفار مالی کنڈیشن میں کس درجہ کو پہنچے ہوئے تھے، آلات جنگ و حرب کیا کیا انہیں مہیا تھے اور ان کی طرف سے لڑنے والے اشخاص کی تعداد کیا تھی اور کس کس اعلی درجہ کی ان کے پاس تیاریاں تھیں؟ ان سب سے قرآن نے آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے ہی امت کو باخبر کرا دیا ہے، اور اسی کو اپنے ذہن و دماغ میں رکھنے کی تعلیم و تاکید بھی کی گئی ہےکہ: دیکھو دشمن کی کمی بیشی یا ساز و سامان کی فراوانی، افراد کی قلت و کثرت اور اسباب و ذرائع ہمارے نزدیک کوئی اہمیت اور مقام نہیں رکھتے، یہ ہمیں جانتے ہیں کہ کس کے حق میں حالات کو سازگار و موافق کیا جانا ہے، کس فرقہ اور طبقہ کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کرنا ہے اور کسے ذلت و رسوائی اور شکست و ہزیمت کا سامنا کرانا ہے؟ یہ سب ہمارے قبضہ و قدرت میں ہے، ہم ہی اصل فیصلہ جاری کرکے ایک فریق کو خوش خبری سنانے والے ہیں اور دوسری جماعت کو سیاہ رو اور مغلوب کرنے والے ہیں۔
چنانچہ یہی وہ آج کا عظیم، قابل فخر و عزت اور اہل اسلام کی شادمانی کا دن تھا، جسے تاریخ 17/رمضان المبارک کے جلی عنوان کے ساتھ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، جس میں اہل ایمان کے واسطے ایک روح پرور پیغام، وسیع و عریض مفہوم اور انتہائی عبرت و موعظت پر مبنی واقعات اس تاریخ سے وابستہ ہیں، جو آج سے 1442/سال پہلے واقع ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس عظیم ماہ مبارک کے یہ مذکورہ ایام و تاریخ اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کے ساتھ جانے جاتے ہیں اور یاد کئے جاتے ہیں۔
الغرض! یہی وہ دن ہے جس میں ظہور اسلام کے بعد احقاق حق کی بالادستی قائم کرنے اور ابطال باطل کی شرح سستی اور اس کا منہ کالا کرنے کےلئے حق کے گرویدہ نیک طینت اشخاص اور ہمت و استقلال میں پہاڑوں کی مانند جم جانے والی جماعت نے باطل پرستوں کے ساتھ تاریخ اسلامی کی پہلی جنگ لڑی، جس کو “سیر و مغازی” کے جمع کرنے والوں نے ‘معرکہ جنگ بدر’ سے موسوم و منسوب کیا ہے۔ جنگ بدر 17/رمضان المبارک بروز جمعہ 2/ہجری= مطابق 13/مارچ 624/عیسوی کو ہوئی۔
نیز یہ سال اس اعتبار سے امت مسلمہ کےلئے اہمیت کا حامل ہےکہ اس سال اور بھی کئی بڑے واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ جیسے تحویل قبلہ کا حکم بھی اسی سال ہوا۔ زکوٰۃ کی فرضیت اس سال میں ہوئی، جہاد اسی سال مشروع ہوا، اور یہی وہ سال بھی جس میں امت محمدیہ پر پورے ایک ماہ کے کامل روزے فرض ہوئے۔ اور اسی سال سے مسلمانوں نے باقاعدہ جنگ بدر سے جہاد کا آغاز بھی کیا۔ جہاد کی بابت یہ بات واضح رہے کہ: مذہب اسلام؛ جو اپنے روز اول سے امن و سلامتی، امانت و دیانت، عدل و انصاف، باہمی اخوت و ہمدردی اور مساوات کا داعی رہا ہے، جو روئے زمین پر آباد پوری انسانی برادری کے لئے رحمت و شفقت اور جود و سخا کے ابر عمیق لےکر نازل ہوا تھا، جس نے فاران کی چوٹی سے اپنی صدائے اولین کا آغاز ہی تمام انسانوں کی کامیابی کی ضمانت پر رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا اور اپنے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ اغیار، ملحدین و منکرین اور خدا و رسول کے جانی دشمنوں کو بھی اپنے دامن رحمت و رافت میں پناہ دینے کا وعدہ کر انہیں اولاً پیغام امن اور سامان تحفظ کا یقین دلاتا آیا تھا، دور دراز خطوں اور علاقوں میں باہمی رنجش و عداوت، قومی مسابقہ آرائی اور اپنے اپنے نظریات و حکمرانی کے باعث دم توڑتی انسانیت اور عام انسانوں کو ان کے مقصد تخلیق سے واقف کرانے نیز ظلم و ستم، سرکشی و طغیانی اور رعونت و شیطنت کی تمام حدود کو پار کر دینے جیسے جرائم سے جب اللہ کی یہ دھرتی لبا لب ہو چکی، اور سید الرسل و انبیاء، حبیب خدا، روئے زمین پر سب سے مقدس و محترم اور عالی شخصیت حضرت محمد مصطفے (ﷺ) کو (نعوذ باللہ) قتل کردینے کی سازش و پلاننگ ان کے ہمراہ عزائم تھی، تو ایسے ناگفتہ بہ حالات میں بحکم الہی، محبوب خدا محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے آبائی اور پیدائشی وطن؛ مکہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ (زادھا اللہ شرفاً و عظماً) ہجرت فرمائی؛ گویا آپ نے یہ قدم اٹھاکر اپنی اور اپنے جانباز و جان نثار فدائین صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے واسطے اسی مدینہ پاک کو مستقر بنا ڈالا، جس کی طرف بہ ذریعہ وحی اشارہ کیا گیا تھا. پہر کیا تھا بس آپ کے اس اقدام کی وجہ سے کفار مکہ جن کے قلوب میں پہلے ہی سے بغض و حسد کی آگ بھڑک رہی تھی اب مزید ان کے دلوں میں انتقام کی لپٹیں جوش مارنے لگیں اور مکۃ المکرمہ میں جو لوگ آپ کی دعوت پر دولت ایمانی سے مشرف ہو جانے کے بعد توحید و رسالت کی امانت سے اپنے سینوں کو روشن و تابندہ کئے ہوئے تھے، مشرکین مکہ نے اول تو انہیں اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اور چاہا کہ اسی آباؤ اجداد والے باطل عقائد اور قدیم دین پر لوٹ جائیں یا پھر وہ بھی اپنے گھربار چھوڑ نے کی تیاری اور آمادگی کا اظہار کریں۔ اولین مرکز توحید اور سرچشمۂ رسالت “بیت اللہ” کے طواف کرنے والے بقیہ توحید کے متوالوں اور شمع رسالت کے پروانوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، بزور طاقت و قوت نشہ میں چور اپنی کثرت تعداد پر مغرور ہوکر خانۂ خدا کو ‘بت خانہ’ میں تبدیل کر دیا گیا.
ایسے بدترین حالات میں رحمت الہی جوش میں آتی ہے جس سے کہ خود بہ خود حالات کا دھارا تبدیل ہوتا ہے اور حالات اس جانب رخ کرنے لگتے ہیں کہ ادھر اہل مکہ (منافقین، مشرکین اور کفار) تینوں گروپ باہم ملتے ہیں اور ادھر اہل مدینہ (تنہا مسلمان) اپنے اپنے طور پر جنگ کی تیاری میں مشغول ہوجاتے ہیں، اہل مکہ کی طرف سے قیادت کی کمان وقت اور تاریخ کا سب سے بڑا جاہل ‘ابوجہل’ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور اہل مدینہ کی سرداری و راہنمائی کے فرائض بظاہر “حضرت مصعبؓ بن عمیر، حبابؓ بن منذر اور سعدؓ بن معاذ” کے حوالے فرمائی جاتی ہے اور محسن انسانیت رحمۃ لّلعالمین (ﷺ) بنفس نفیس میدان کارزار میں تشریف فرما ہوتے ہیں، جو کہ بحسن خوبی حضرات صحابہ کرام کو عزم و حوصلہ دلاتے ہیں اور ان کے عزم و استقلال میں قوت ایمانی کی روح پھونک کر ہر ایک کو میدان جہاد اور میدان کارزار کا بےمثال ہیرو اور سپاہی بناتے ہیں۔ میدان جنگ کی جو صورت حال ہے وہ یہ ہےکہ ادھر چند نفوس قدسی ہیں جن کی تعداد بمشکل تین سو (300) یا اس سے کچھ زائد ہوگی جو سامان جنگ اور آلات حرب سے بھی خالی اور تہی دامن ہیں، صرف دو گھوڑے ہیں، ایک پر حضرت زبیرؓ بن عوام اور دوسرے پر حضرت مقدادؓ کندی سوار ہیں اور ستر اونٹ ہیں جن پر باری باری سے کئی کئی حضرات ایک ساتھ سواری کرتے ہیں، ایک اونٹ جس پر محسن انسانیت (ﷺ) سیدنا حضرت علیؓ اور حضرت مرثدؓ بن مرثد باری باری سوار ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مدمقابل دشمن فوج کا لشکرِجرار ہے جس کی تعداد بھی باقوال مؤرخین ہزاروں سے زائد ہے، ہر طرح کا ساز و سامان، اشیاء خورد و نوش اور جنگی آلات وافر مقدار میں تھے، سواریوں کا نظم و نسق بھی بہتر و مناسب تھا۔
بالآخر یہ نہتھے مسلمان جو ایک خدائے وحدہ لاشریک کی کریم ذات پر بھروسہ کئے ہوئے اور نبی پاک کی عقیدت و محبت سے اپنے قلب و جگر کو سرشار کئے ہوئے تھے، 12/رمضان المبارک 2/ہجری کو اپنے آہنی اوصاف و کمال اور عزم و حوصلوں کو شامل حال لےکر شہر سے نکلتے ہیں، فوج کا جائزہ لیتے ہیں اور دوران جنگ پیش آنے والی بعض ضروری باتوں کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے مقام روحاء آ پہنچتے ہیں۔ اور پھر یہاں سے چند مقامات کو عبور کرتے ہوئے مقام بدر (بدر! یہ اصلا ایک کنواں کا نام تھا، جسے باختلاف اقوال علماء علاقے کے سردار “بدر بن حارث یا بدر بن کلدہ” نے کندہ کرایا تھا، مرور زمانہ کے ساتھ اس پورے علاقے، وادی اور بستی جو کہ مکۃ المکرمہ و مدینۃ المنورہ (زادھا اللہ شرفاً و عظماً) کے درمیان آ گیا تھا، اسی نام سے پکارا جانے لگا، جو شہرمکہ سے تقریبا 303/کلو میٹر اور شہرمدینۃ سے 138/کلو میٹر کی دوری پر واقع مقام ہے) کے قریب فروکش ہوتے ہیں، مخبرین سے تحقیق حال فرماتے ہیں، جو اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ قریش وادی کی دوسری اور یعنی ہم سے بہت قریب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ پھر کیا تھا، آج ہی کے روز یعنی 17/رمضان المبارک ۲/ھجری= مطابق 13/مارچ آنحضرت محمد (ﷺ) کے ہمراہ صحابہ صف آرا ہوتے ہیں، اور بعد فجر جاں نثاران صحابہ کرامؓ کو جہاد کی تلقین فرماتے ہیں جس میں نبی محترم رسول عربی (ﷺ) نصرت الہی اور مدد غیبی کے حصول کی خاطر گوشہ نشیں ہوکر دست بہ دعا دراز فرماتے ہیں.
لہذا جس وقت مقابلہ کی نوبت آتی ہے؛ تو کتب میں لکھا ہےکہ: ہر کلمہ گو شخص کی کیفیت اور نوعیت یہ تھی کہ ہر ایک شخص اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے تھا اور پوری تندھی اور جانفشانی کے ساتھ دشمن کے مدمقابل تھا. چناچہ مسلمانوں کی یہ جانفروشی اور نصرت خداوندی رنگ لاتی ہے اور میدان جنگ بھرپور انداز سے گرمانے کے بعد جب سرد ہوتا ہے تو کل 13/اہل ایمان اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ راہ خدا میں پیش کرکے جام شہادت نوش فرما چکے ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کا حال یہ ہےکہ اس طرف دشمن کے ستر افراد واصل جہنم ہو جاتے ہیں جن میں قریش کے سردار اور وقت کے سرغنہ ابوجہل، عتبہ، عتیبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف وغیرہ بھی ہیں، جن کو دیکھ کر دشمن کے ھتھکنڈے ڈھیلے اور نرم ہوجاتے ہیں،جس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ دشمن کی فوج میں افرا تفریح کا ماحول قائم ہو جاتا ہے اور بھگدڑ مچ جاتی ہے، ادھر مسلمان کفار کے آدمیوں کی ایک بڑی تعداد  گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس میں ان کے چند بڑے لیڈران بھی ہوتے ہیں، یہ منظر دیکھ کر قریش کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں اور وہ ہکا بکا ادھر ادھر بھاگنے اور جان بچانے لگتے ہیں چناچہ ‘نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط’ کو واپس از بدر راستہ میں ہی قتل کر دیا گیا اور بقیہ گرفتاران جنگ اور حاصل شدہ مال غنیمت کو مسلمان، آفتاب رسالت و مہتاب نبوت اپنے ہمراہ مدینہ واپس لاتے ہیں (جن کو آگے چل کر اصحاب بدر سے موسوم کیا جاتا ہے: خدا رحمت کند ایں پاک طینت را) ادھر باشندگان مدینہ اپنے لاڈلے، پیارے اور محترم رسول معظم کا شایان شان خیرمقدم اور استقبال کرنے کو بیتاب و بےقرار ہوتے ہیں جو آپؐ کی بہ خیر و عافیت واپسی پر دلی اطمینان اور تاریخ اسلام کی اس پہلی جنگ میں ملی زبردست کامیابی، مسلمانوں کی وفاداری اور جانفروشی پر خوشی، فرحت و انبساط کا دل کھول کر اظہار کرنے کی تیاری کرتے ہیں. یہ ہے وہ قابل مبارکباد کارنامہ جس کی وجہ سے یہ دن جس میں اسلام کے اولین سپوت اور معرکۂ جہاد کے قابل رشک شہسواروں نے اپنی جان، مال، عزت و آبرو اور آل اولاد سے بھی زیادہ عزیز تر شخصیت کی ہمراہی میں وہ سنہری تاریخ مرتب کی تھی جسے تا قیام قیامت نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس عظیم الشان کارنامہ کو محو کیا جا سکتا ہے، بلکہ اسلام کی یہ پہلی جنگ اپنے ان تمام ماتحتوں کو جو اس کی جانشینی اور خلافت و وراثت کا دم بھرنے والے ہوں گے، ان کے لئے اس میں یہ سبق پنہاں رکھتی ہےکہ:
دیکھو….! “حالات کتنے ہی ناموافق و ناسازگار ہوں، اور چاہے تمہارے مقابلے میں دشمن کی تعداد کتنی ہی بڑھی ہوئی کیوں نہ ہو؟ مگر تم نہ تو گھبرانا اور نہ ہی کم ہمت و پست ارادہ ہونا، بلکہ اسباب و وسائل کے مفقود ہونے پر بھی ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہنا، تا آنکہ اسی حالت میں تم موت کو گلے لگا لو اور اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔ اور یہ یاد رکھنا کہ ایک لمحہ کےلئے بھی احساس کمتری کا شکار ہوکر دشمن کو اپنے اوپر فتح یاب ہونے اور اسے اپنی کم ہمتی کا ثبوت مت دینا”.
مسلمانوں! یہی اسلام کا حقیقی پیغام ہے اور یہی قرآن کی سچی تعلیم ہے اور یہی رسول عربی اور ان کے سچے پکے متبعین کا اسوہ اور ماڈل ہے، اسی میں تمہاری دنیا آخرت کی کامیابی ہے، آج بھی ضرورت اسی ایمان کامل کی حالت میں اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اس باطل دنیا کی طاقتوں کے درمیان زندگی جینے کی ہےکہ اگر کوئی طاقت و اقتدار میں آکر ہم پر زور آزمائی کرے، یا حیلے بہانوں اور مختلف حربوں کو ہم پر آزما کر ہمیں ڈرائے دھمکائے تو ہم اپنے پیش رو اکابر و اسلاف کی سنہری تاریخ کو دہراتے ہوئے باطل پرستوں، دریدہ دہنوں اور شدت پسندوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال حالات کا مقابلہ کریں گے اور اس کے نشیمن کو آگ لگا دیں گے، ہمارا ایسا عزم و ارادہ ہونا چاہئے۔ ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، بڑے بڑے طاقت و اقتدار والوں کو اور دنیا پر اپنی حکمرانی کا سکہ جمانے والوں کو پل بھر میں ملیا میٹ اور زیر زمیں ہوتے بارہا دیکھا گیا ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہےگا؛ تاآنکہ اسلام غالب و فاتح ہو جائے اور اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہر ایک امیر و غریب اور کمزور و قوی پناہ حاصل کرنے والا ہو جائے!