جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزاسلام میں یتیم بے سہارا نہیں ہے

اسلام میں یتیم بے سہارا نہیں ہے

اسلام میں یتیم بے سہارا نہیں ہے
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
میرےجواں سال پڑوسی جناب حافظ رہبر صاحب مظاہری اس دنیا میں نہیں رہے،موصوف نہایت شریف اور سادہ انسان تھے،بنگلہ مسجد گیاری میں امامت اوربچوں کو قرآن پڑھانا مشغولیت رہی،زندگی بڑی عسرت بھری ملی، میرے بچوں کے بھی مرحوم استاد رہے،عمر بہت ہی مختصر ملی،تقریبا سال بھر بیماررہےاورجوانی میں ہی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے، انتقال کے دوسرے دن ہی مرحوم کےگھر دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی ہے,یہ واقعی اس بچہ کے لئے بھی تکلیف دہ گھڑی ہے کہ وہ یتیم پیدا ہوا ہے،لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ حافظ جی کے دونوں بچے بے سہارا ہوگئے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہی آپ کے والد وفات پاچکے تھے، قرآن کریم کی سورت "الضحى” میں آپ صلی علیہ وسلم کی یتیمی کو موضوع سخن بنایا گیا ہے، اور رب کریم نےبطور احسان یہ بتلایا ہے کہ ہم نے آپ کو اس یتیمی سےنکالا ہے،سیرت کی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ کا انتقال ہوجاتا ہےتودادا کی کفالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل جاتی ہے،پھر آٹھ سال کی عمر میں دادا کی وفات ہوتی ہے تو شفیق چچا خواجہ ابوطالب کی بے پناہ شفقت نصیب ہوجاتی ہے، یہ سلسلہ وار سرپرستی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی ہے قرآن کی زبان میں خاص فضل الہی اور انعام خداوندی ہے ،بظاہر ایک انسان بے یار ومددگار نظر آتا ہے، مگر خدا کا فضل جب اس کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ دنیا وآخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوجاتا ہے،چنانچہ سورة الضحى میں کہا گیا ہے، اے محمد! لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ تیرے رب نے تجھے چھوڑ دیا ہے اور تو بے سہارا ہوگیا ہے، یہ بات درست نہیں ہے، یتیمی کی حالت میں بھی تیرے رب نے سہارا دیا ہے اور مضبوط ٹھکانہ نصیب کیا ہے، آپ یتیمی کے درد کو خوب محسوس کرتے ہیں ،یہ خاص مشن آپ کا ہوناچاہئے،یتیم کےساتھ دلداری اور دلجوئی کا معاملہ کیجئے،سختی نہ کیجئے، جیسا ہم نے آپ کے ساتھ کیا ہے وہی آپ یتیموں کے ساتھ کیجئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کی کفالت فرمائی ہے، اور یہ ارشاد فرمایا ہے: یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ ہوگا، (بخاری )
آپ صلی علیہ وسلم نےیتیم کےسرپرپراپناپیارا ہاتھ رکھا ہے،یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو، اس عمل سے تمہارے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے،( رواہ احمد)
حدیث شریف میں بہترین گھروہ ہےجسمیں یتیم کے ساتھ حسن سلوک ہوتا ہے،جہاں یتیم کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہےاسے بدترین گھر قرار دیا ہے(ابن ماجہ )
قرآن وحدیث کا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ مذہب اسلام میں ایک یتیم بے سہارا نہیں ہے،آج ہر آدمی یتیم کے تعلق سے یہی کہتا ہے کہ وہ بے سہارا ہے،بے سہارا کو سہارا چاہئے ،اس کی فکر دامنگیر نہیں ہوتی ہے۔گزشتہ دو تین سالوں سے جوانوں کی بکثرت اموات دیکھنے میں آئی ہیں، شکم مادر میں بچہ چھوڑ کر جوان فوت ہورہا ہے، مال واسباب اکٹھا کرنے کا اسے موقع نہیں مل سکا ہے ،ہر گاؤں اور ہرعلاقے میں یتیم ہیں جو نادار ہیں، انہیں مسلم سماج کی نصرت واعانت کی سخت ضرورت ہے مگر دانشوروں کی نظرکبھی ادھر نہیں جاتی ہے۔ڈھیر ساری مسلم تنظیمیں ہیں اور تحریکیں ہیں ،مگر انکے پاس یتیموں کو سہارا دینے کے لئے خاکہ ہے اور نہ کوئی پروگرام ہے، آج اس عنوان پر بیداری پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے