اسلام مکمل دین اتحاد میں نجات، جہیز غیر اسلامی رسم کے موضوعات پر کوسی نوادہ میں عظیم الشان اتحاد امت کانفرنس،،

100

 

نوادہ محمد سلطان اختر

نوادہ ضلع کے تحت روہ بلاک کے کوسی گاؤں میں عظیم الشان اتحاد امت کانفرنس قرآن و حدیث کی روشنی میں علماء کرام کا خطاب ہوا۔ اجلاس کا آغاز متعلم عبدالرحمن شکیل کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا، عبدالمعین فیضی نے نظم پیش کیے جبکہ مولوی مجاہد عبدالسمیع صادق پوری نے اسلامی نکاح کی فضیلت بیان کی اور غیرشرعی شادیوں سے اجتناب کی تلقین کی بعد ازاں مولانا حفاظت اللہ سلفی بعنوان تعارف اسلام اور موجودہ حالات پر خطاب کیا اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہے جو کہ ساری انسانیت کے لیے مکمل ہدایت ہے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی زندگی اسلام کا آئینہ دار تھی اپنی ذات اپنی زندگی جینا مرنا نماز اور قربانی سب کچھ اللہ تعالی کے لیے ہے دوسری نشست کے بعد نماز عشاء منعقد ہوئی مولانا عابد ربانی نے اسلام میں پردہ اور عورت کے مقام پر روشنی ڈالی مولانا عبدالرحمن جامیعی نے والدین کے حقوق پر بیان کرتے ہوئے ان کی اہمیت کو واضح کیا کہ اللہ کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے مولانا آصف اقبال مدنی نے اپنی تقریر میں عبادت کی اہمیت اور لوگوں پر اس کے اثرات اور قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت کیا جو کام قول و عمل اللہ تعالی پسند کرتا ہے وہ عبادت ہے عبادت سے آدمی عاجزی انکساری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے عبادت میں کسی کو شریک کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح عبادت میں خلاف سنت عمل بھی انتہائی بڑا گناہ ہے اسلام کے پانچ ارکان ہیں کلمہ طیبہ، نمازوں کا قیام، رمضان کے روزے، زکوۃ کی ادائیگی، بیت اللہ یعنی حج ادا کرنا، یقینابے شمار اجر و ثواب کے کام ھیں تمام عبادات دنیاوی و اخروی بے شُمار فوائد ہیں مولانا معروف سلفی کلکتہ نے اتحاد امت کیوں اور کیسے پر قرآنی دلائل اور احادیث مبارکہ سے اس کا حل اور علاج پیش کیا۔۔ مصیبت اور اور پریشانی میں اور تنازعات اور جھگڑوں کے لئے اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے۔میں محسوس کرتا ہوں کہ ایسے تو اتحاد کے فوائد بہت ہیں جب کہ اختلافات کے نقصانات بھی بہت ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنے سارے اختلافات اور جھگڑے کو ختم کر لو ، جوڑے جہیز کا خاتمہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پابندی سے مکمل ہوگا، مرد مہر دے کر شادی کرو جوڑے جہیز کی چیز ناجائز رقم لے کر نہیں کیونکہ جہیز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں،جہیز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے لڑکی والے بھی لین دین جہیز کی برائی میں برابر کے شریک ہیں جوڑے کی رقم ناجائز طریقے سے بلا زور زبردستی حرام مال کھانا ہے جو جہیز کے لیے گھر بار کھیتی باری بیچنے کی نوبت آجاتی ہے لڑکا خود اپنے قدموں پر کھڑے رہے اور شادی سے پہلے ہی گھر کی ضرورت پلنگ،گھر سجانے کے ساز و سامان چولہا اور رسوئی کا سامان وغیرہ خود پہلے خرید لے،،یہ لڑکی والوں سے خریدنے کا خاتمہ کریں،یہ خاتمے خواتیں سے ہو سکتا ہے کیونکہ خواتین رسم پر سختی سے عمل کرتی ہیں مرد کچھ نہیں بولتا اِس اسلامی بہنوں نکاح کو آسان کرو نہ دو اور نہ لو،،

مہر کی ترغیب دلاؤ عورتوں کا مال ناحق کھانے والے نمک حرام اور نا مرد ہی بے شرم بے غیرت اور نکمے ہوتے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید آصف عمری امیر جماعت اہلحدیث تلنگانہ نے کیا انہوں نے میراث کے احکام اور اس کی اہمیت بیان کی حیات بعد موت سے متعلق جو احکام ہیں ان میں وراثت کا مسئلہ بھی ہے اپنی بیٹیوں کو جہیز دینا اور میراث و ترکہ سے محروم کر دینا غیر اسلامی عمل ہے قرآن و حدیث میں میراث کے احکام تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ فرائض یعنی ترکہ کے مسائل سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ زمانہ جاہلیت میں صرف مرد وارث بنتے تھے عورتیں اور بچیاں محروم کردی جاتی تھی یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود میں اس کی خلاف ورزی نہ کروں وفات کے بعد تمام چیزیں جو اللہ نے دی ہے منقولہ اور غیر منقولہ جیسے زیورات، گاڑیاں گھر کا سامان روپیہ وغیرہ کھیت کھلیان ملکیت دستور و قانون شریعت کے مطابق تقسیم کیے جائیں اِس کے خاتمے اور بچیوں کو وراثت میں حقوق دینے پر پر قراردادیں آج ہم سب یہاں تمام شریک مرد و خواتین اس اتحاد امت کانفرنس کوسی بہار میں یہ عہد کرتے ہوئے قرار داد پاس کرتے ہیں کہ ہم شادی سُنت کے مطابق کریں گے۔ ہم اپنی بچیوں کو دینی تعلیم دیں گے اور ان کی مہارت المومنین کی سیرت تعلیم کی روشنی میں اچھی تربیت کریں گے ہم لڑکی والوں سے چہیز جوڑے گھوڑے اور پیسوں کا ڈیمانڈ نہیں کریں گے ہم نکاح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کریں گے اور نقد مہر دے کر کریں گے، ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کریں گے ہم لڑکی والوں پر شادی کے دن کا کھانا نہیں کھائیں گے یہ غلط رسم و رواج ہے ۔ پلنگ اور سوفا کا گاڑی کا خرچہ اور بے جا مطالبات کا بوجھ نہیں ڈالیں گے ہم وراثت اورترکہ میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کا بھی حق دیں گے ہم ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور جہیز والی شادیوں اور غیرشرعی شادیوں میں شریک نہیں کریں گے ساری باتیں ڈاکٹر سید آصف عمری نے لوگوں سے عہد پیمان لیا اور کہا ہم سب مل کر فرقوں سے اونچا اٹھ کر کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اتحاد اور محبت کام کریں گے اور انہیں کی دعاؤں کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔

اس اجلاس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے نوجوان کوسی اس موقع پر موجود مخصوص لوگوں میں ڈاکٹر ابو نصر صاحب کوسی، عبدالسلام صاحب وشاکاپٹنم، خالد سلام پکری برانواں حافظ اشفاق صاحب،عبد المعین فیضی، محمد وسیم محمد ارمان خان محمد ابوذر محمد ابو شایم محمد ابوبکر محمد صفدر محمد سیفی،محمّد شفیع محمد شاہین محمّد انجم محمد ریحان ان کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین شامل ہوئیں،