اسلامی قانونِ میراث اور مسلمانوں کا طرزِ عمل از قلم : مجاہد عالم ندوی

64

اسلامی قانونِ میراث اور مسلمانوں کا طرزِ عمل

از قلم : مجاہد عالم ندوی
استاد : ٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ
رابطہ نمبر : 9508349041
اسلام ایک دین فطرت ہے ، ایک جامع اور ہمہ گیر دستورِ حیات ہے ، اس کی تمام تعلیمات و ہدایات ایک طرف زندگی کے سارے شعبوں کو حاوی ہیں ، تو دوسری طرف ان میں انسانی مزاج اور اس کی فطرت کا بھر پور لحاظ رکھا گیا ہے ، عبادات ہو یا معاملات ، اخلاقیات ہو یا اقتصادیات ، مناکحت ہو یا معاشرت ، غرض ہر شعبہ میں اسلامی قانون فراہم کرتا ہے ، پختہ اور ٹھوس ہدایات دیتا ہے ، روئے زمین پر اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو مال و دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتا ہے ۔
اسلام کا قانون میراث بھی اسی حکمت خداوی کا خاص مظہر ہے ، شریعت اسلامیہ نے میراث کی تقسیم کے حوالہ سے ایک متوازن اور منصفانہ نظام تشکیل دیا ہے ، مردوں ، عورتوں ، اور جوانوں کے ساتھ معصوم بچوں کو بھی ترکہ کا حقدار قرار دیا ہے ۔
میراث پر عمل آوری کو یقین بنانے کے لیے اسلام نے مسلمانوں میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے قرآن و حدیث میں سخت وعید بیان کی ہے ، اور ان کو اللّٰہ تعالٰی کے غضب و غصّہ کا حقدار ٹھہرایا ہے ، اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے ، ” جو شخص اللّٰہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ، اور اس کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے گا تو اسے اللّٰہ تعالٰی جہنم میں داخل کرے گا ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اور اس کے لیے ذلت کا عذاب ہے ” ۔ ( سورہ نساء )
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ” جو شخص ناحق ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا “. ( حدیث )
لیکن بد قسمتی سے میراث کی تقسیم کا معاملہ جتنا اہم اور نازک ہے ، آج اس سے اسی قدر غفلت اور لاپرواہی برتی جا رہی ہے ، عوام تو عوام اچھے خاصے دیندار اور پابند صوم و صلوٰۃ لوگوں کا دامن بھی میراث کی تقسیم میں ہونے والی کوتاہیوں سے پاک نہیں ہے ۔
میراث کی جلد سے جلد تقسیم عافیت کا ذریعہ ہے ، اور باہمی جھگڑے اور رسہ کشی سے حفاظت کا موجب ہے ، اور جو وارث غریب اور تنگ دست ہوتے ہیں ، اور مالی لحاظ سے کمزور اور مفلوک الحال ہوتے ہیں ، وہ میراث کی فوری طور پر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ، اور بسا اوقات بلا مبالغہ انھیں دوسروں کے سامنے دست سوال کرنے کی نوبت آ جاتی ہے ۔
حالانکہ میراث کی جلدی تقسیم اگر عمل میں آئی تو انھیں مال کا معتد بہ حصہ مل جاتا ، جو ان کی ضروریات کی تکمیل میں معین و مددگار ثابت ہوتا ، اور اس مال سے تجارت اور سرمایہ کاری کر کے وہ اس پوزیشن میں آ سکتے ہیں اور خود اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں ، ظاہر ہے کہ میراث کی تقسیم میں تاخیر ان ورثاء کی حق تلفی نہیں تو پھر کیا ہے ؟ کیا یہ ورثاء پر ظلم و زیادتی کے مترادف نہیں ہے ؟
میراث کی تقسیم میں تاخیر بسا اوقات حرام مال کھانے کا ذریعہ اور سبب بن جاتی ہے ، اسی طرح میراث کی تقسیم اگر جلد رو بہ عمل نہ لایا جائے تو ورثاء میں باہم نزاع اور جھگڑے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، کیونکہ جب میراث کی تقسیم ایک لمبے عرصے کے بعد ہوگی تو مرحوم کی مملوکہ اشیاء میں ورثاء کا سخت اختلاف ہوگا ۔
ایک کوتاہی ہمارے معاشرے میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ لڑکیوں کو ترکہ میں حصّہ نہیں دیا جاتا ہے ، اور مورث کے پورے مال پر عموماً لڑکے ہڑپ کر بیٹھ جاتے ہیں ، کسی وارث کو محروم کر دینے اور اس کو حصّہ نہ دینے سے متعلق قرآن و حدیث میں بڑی سخت وعید آئی ہے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ” جس شخص نے کسی وارث کو میراث سے محروم کر دیا تو اللّٰہ تعالٰی اس کو جنت میں اس حصے سے محروم فرمائیں گے ۔ ( مشکوة )
بہنیں جب اپنا حصّہ مانگتی ہیں تو بھائی ان سے کہ دیتے ہیں کہ والد صاحب کے ترکہ سے تمہیں جہیز مل چکا ہے ، لہٰذا! مرنے کے بعد اب تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے ، یاد رکھنا چاہیے کہ میراث ایک شرعی حق ہے ، مورث کے مرنے کے بعد ہر وارث اپنے حصے کا مستحق ہوتا ہے ، جہیز کی وجہ سے میراث میں لڑکیوں کا حق ساقط نہیں ہوتا ۔ لڑکیوں کا حصہ روک کر جس جس وارث نے اپنے مقررہ حصے سے زائد لیا ہے ، اس نے گویا حلال مال کے ساتھ حرام مال کو ملا لیا ، اور جب حلال مال کے ساتھ حرام مال کی تھوڑی سی بھی ملاوٹ ہو جاتی ہے ، تو پھر اس مال کی برکت اٹھا لی جاتی ہے ، اور انسان مختلف قسم کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔
میراث میں عورتوں ، بیٹیوں ، بہنوں ، ماں اور بیویوں کا حق ہے ، لہٰذا! انھیں اپنے حق کا نہ صرف مطالبہ کرنا چاہیے ، بلکہ آگے بڑھ کر تقاضہ کر کے اپنا حق لینا چاہیے ، اور ہر وہ ممکن راستہ اختیار کرنا چاہیے ، جس سے یہ فرض قرآن وحدیث کے مطابق پورا ہو جائے ، عورتوں کو جاہلیت کی رسم اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنا حصہ نہیں چھوڑنا چاہیے ، انھیں کسی صورت بھی اللّٰہ کی نافرمانی کا مرتکب ہونے والوں کا ساتھ نہیں دینا چاہیے ، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو قیامت کے دن قرآن کریم کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں میں شامل ہو جائیں ۔
قرآن مجید نے لڑکیوں کو حصّہ دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتلایا اور بجائے لانثین مثل حظ الذکر فرمانے کے للذکر مثل حظ الانثیین کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ، بہنوں کو میراث سے محروم کرنا حرام ہے ، یہ بات ملحوظ رہے کہ لڑکیوں کو میراث سے محروم کرنا اور ان کو جو میراث سے حصہ ملتا ہے وہ لڑکوں کا آپس میں تقسیم کر لینا ( جیسا کہ اکثر یہی ہوتا ہے ) یہ سخت حرام ہے ، بہنوں پر ظلم ہے ، اور قانون خداوندی سے بغاوت ہے ، چونکہ اللّٰہ تعالٰی نے لڑکیوں کے حصہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے یعنی لڑکوں کا حصہ علیحدہ سے بتایا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کا حصہ بتاتے ہوئے لڑکوں کا حصہ بتایا ہے ۔
میراث کی شرعی تقسیم کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں علمائے دین اور مفتیانِ کرام سے رابطہ کیا جائے ، ان کو بالکل صحیح صحیح صورتحال بتائی جائے ، اور قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ جو فتویٰ دیں ، اس پر من وعن عمل کیا جائے ، چونکہ دین اسلام ہر انسان کے لیے آیا ہے ، اور میراث کے مسائل سے ہر ایک کو واسطہ پڑتا ہے ، اس لیے عوام الناس کو بھی تقسیم میراث سیکھنا چاہیے ، خصوصاً اس زمانے میں جب کہ یہ علم مٹتا جا رہا ہے ، اور عوام شرعی تقسیم سے لاپرواہی کر رہے ہیں ، اور شرعی تقسیم میراث کے نت نئے طریقے بھی ایجاد ہو چکے ہیں ۔
اس صورت حال میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ علم سیکھیں اور سکھائیں ، اور اس پر عمل کریں ، اور نصف علم کے حصول کا ثواب حاصل کریں ۔