اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سکریٹری مولانا امین عثمانی کا انتقال عظیم علمی و فکری خسارا

61
جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا و منظم معروف اجتماعی فقہی اور علمی و تحقیقی ادارہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سکریٹری مولانا امین عثمانی ندوی بھی آج 2 ستمبر 2020 مطابق 13 محرم 1442ھ بروز بدھ ہمدرد دہلی کے مجیدیہ اسپتال میں اپنی عمر کی تقریبا 68 بہاریں گزار کر راہی ملک عدم  ہوگئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا انتقال دینی و ملی اور علمی و فکری حلقہ کا عظیم خسارا ہے۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بیمارچل رہے تھے۔ ان کے انتقال سے علمی و دینی حلقہ میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مولانا امین عثمانی بلا کے ذہین اور باصلاحیت و سنجیدہ  عالم دین تھے۔ ندوة العلماء سے فارغ التحصیل عربی, اردو اور انگلش زبانوں میں لکھنے, پڑھنے اور بولنے پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔عالم اسلام اور فکری موضوعات پر انہیں خصوصی امتیاز حاصل تھا۔ وہ فقہ اکیڈمی کے بانی حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ اور معتمد خاص تھے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے قیام کے وقت سے ہی اس سے وابستہ تھے اور بطور سکریٹری بڑی خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں اکیڈمی کا دماغ کہا جاتا تھا۔ مولانا امین عثمانی صوبہ بہار کےضلع گیا میں مشہور خانقاہ فردوسیہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کے والد کا نام محمدعیسیٰ فردوسی تھا۔
وہ بہت سادگی پسند,خلیق و ملنسار اور امانت و دیانت میں اسم با مسمی تھے۔ حلم و وقار, تدبر و تفکر اور تواضع و انکساری میں طاق اور نام و نمود سے کوسوں دور تھے، یہی وجہ تھی کہ اکیڈمی کے سیمیناروں کی تمام تیاریاں اپنی نگرانی میں کراتے تھے لیکن اس کے باوجود کبھی اسٹیج پر نہیں آتے تھے، ہمیشہ اسٹیج کے پیچھے رہ کر ہی کام کیا کرتے تھے۔اس قدر خاموش مزاجی اور اسٹیج سے دور رہ کر عظیم الشان خدمات انجام دینے والی شخصیت اب کہاں ملے گی۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی تھی، پنجاب یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر آپ کی تقرری ہوچکی تھی لیکن حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بلاوا پر آپ نے یونیورسٹی کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور اسلامک فقہ اکیڈمی سے وابستہ ہوگئے اور تا حیات اکیڈمی کی تمام ترذمہ داریوں کو سنبھالتے رہےاور اس کو اپنے خون جگر سے سینچ کر سجاتے سنوارتے رہے۔ ان کی بے مثال خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔اس کے علاوہ وہ دیگر اہم اداروں اور ملی تنظیموں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے رکن عاملہ، آل انڈیا ملی کونسل کے رکن تاسیسی، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیزکی گورننگ کاؤنسل کے رکن، امارت شرعیہ بہار کے ارباب حل و عقد اور المعہد العالی للتدریب فی القضا والافتاء پٹنہ کے ٹرسٹی تھے۔ ملت کادردرکھنے  کے ساتھ ساتھ ملت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تھے اور کبھی نام و نمود کی خواہش نہیں کرتے تھے۔ بیمار ہونے کے باوجود دفتر آکر اکیڈمی کے کاموں میں مصروف رہتے۔ آپ کے پسماندگان میں آپ کی اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالی آپ کی دینی و ملی اور علمی و فکری خدمات کو قبول فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔ ملت کے عظیم اثاثہ  فقہ اکیڈمی کی حفاظت فرمائے۔ پسماندگان ، متعلقین و محبین کو صبر و سکون دے۔ ایں دعا ازمن واز جملہ جہاں آمین باد
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے