اسرائیل ہری گھاس کی تلاش میں

43

  

ایک جیسی زندگی سے ایک قوم عاجز آگئی، جنگل میں منگل بھی اچھا نہ لگنے لگا، مَنّ وسلوی آسمانی غازہ اوربٹیرتروتازہ بھی باسی معلوم ہوا، بادلوں کا خود پر سایہ بھی بارگراں محسوس ہوا، رحمت خداوندی سراسر زحمت زندگی نظرآنے لگی، خدا کی ساری نعمتیں بے لذت معلوم ہونے لگیں ۔ قوم نبیِ وقت کی مصاحبت سے اکتانے لگی، خدا کی خاص حفاظت سے انکار کرنے لگی اور مطالبہ شروع کر دیا کہ ہم شہرمیں رہیں گے،بازار جائیں گے، ساگ سبزی اور پیاز کھائیں گے اور خوب مزے اڑائیں گے ۔ نبی نے خوب سمجھایا مگر یہ کب سمجھنے والی تھی بالآخر خدا کا حکم ہوا، خدا سے بہتر ان کے دلوں کا حال کون جانتا تھا کہ ان کے دل میں کیا کھچڑی پک رہی ہے، قوم کی نیت اطاعت کی ہے یا بغاوت کی ہے،اورپرانی عادت توانکی شرارت کی ہے۔ نبی نے ان سے کہا تم آسانی کے ساتھ سامنے والے شہر میں داخل ہوجاؤ مگر خدا کا حکم ہے کہ دو زادِسفر ضرور ساتھ لے جاؤ ۔ایک یہ کہ زبان سے شکرِخدا بجالاؤ اور لفظ “حِطَّة” جس کے معنی بخشش کے ہیں اسی کا ترانہ گاؤ اور گنگناتے ہوئے جاؤ ۔
دوسرا تواضع اور خاکساری کے لئے شہر کے دروازے سے داخل ہوتےوقت اپنےسراوراپنی کمر کو جھکاؤ اور سجدہ شکر بجالاؤ ۔قوم نے اپنی زبان سے کہدیا؛”سَمِعنَا”جبکہ عمل اس کے برخلاف اپنی پرانی روایت کےمطابق “عَصَینَا” پرکیا ،چنانچہ جب یہ سبھی شہر اریحا میں داخل ہوئے(وہاں قومِ عمالقہ آباد تھی جو قوم عاد سے تھی) انہوں نےاپنے دماغ پر چارہ سوار کرلیا، اور لفظ حطة معنی بخشش کی جگہ پر لفظ حنطة معنی گیہوں کا نعرہ لگادیا،اور سجدہ شکر کی جگہ پر اپنی سرینوں پر پھسلنا شروع کردیا۔اس قوم کی اس نافرمانی پرخداکا عذاب آگیا ،طاعون پڑا،شہر میں داخل ہوتے ہی ستر ہزار یہود اپنی خواہشات کاسمندردلوں میں لئے منوں مٹی کے نیچے قبروں میں داخل ہوگئے ۔
آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ یہ کونسی قوم کی سچی کہانی آپ کے گوش گذار کی گئی ہے، جی ہاں! آپ صحیح کہتے ہیں، یہ قوم یہود کی حقیقی کہانی قرآن کی زبانی ہے۔آج یہی قوم عرب ممالک اور اسلامی ممالک سے دوستی کرنے چلی ہے اور اپنے عہد وپیمان کا دم بھرنے نکلی ہے ۔دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ اس کی اگوائی کررہا ہے اور اس کی قیمت موجودہ الیکشن میں بھرپور چاہتا ہے ۔ابھی عرب امارات سے ان کا نکاح کراچکا ہے مزید تمام اسلامی ممالک پر ڈورے ڈال رہا ہے ۔سفارتی تعلقات کی ملک کی ترقی میں بڑی اہمیت ہواکرتی ہے اس کی افادیت کاکسےانکارہے،مگران ممالک کو بالخصوص سعودی عرب کو جہاں کا آئین خود قرآن ہے،اسرائیل سے تعلقات پر سو بار سوچنے کی آج ضرورت یے۔امام حرم شیخ عبد الرحمن سدیس یقینا قابل احترام ہیں اور انکی باتیں قیمتی ہیں مگروہ قرآن نہیں ہیں۔قرآن تو سب سے بدترین مثال اسی قوم کے لئے ہیش کی ہے اور پھر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یہ بری مثال ہے، یہ ان کی کارستانی اور کرتوت کی بدولت ہے ہوارشادربانی ہے؛ مثال ان لوگوں کی جن پرلادی توریت پھر نہ اٹھائی انہوں نے جیسے مثال گدھے کی کہ پیٹھ پر لے چلتا ہے کتابیں، بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو اور اللہ راہ نہیں دیتا ہے بے انصاف لوگوں کو،( سورة الجمعه :5)
 آسمانی کتاب توریت کے معاملے میں انہوں نے اپنے گدھے ہونے کا مکمل ثبوت پیش کردیا ہے، اس کتاب کو اپنی پشت پر گدھے کی مانند لادا ضرور ہے مگر اسے اپنی پیٹھ سے دل تک پہونچنے نہیں دیا ہے اور نہ ہی اپنے عمل میں کبھی اسے لایا ہے ،بلکہ اپنی خواہشات پر یہ قوم عمل پیرا رہی ہے اورکتاب اللہ اور عہد وپیمان کو بالائے طاق رکھ کر بھاگتی گئی ہے ۔
آج کی تاریخ میں پھر اسرائیل اپنا چارہ عرب ممالک اور اسلامی ممالک کو بنانے کے لئے سفارتی تعلقات کے نام پر ایک ایسے شہر میں داخلہ کا خواہشمند ہے جہان انکی حرص وہوس کا سامان بہم ہوسکے ،ایسے موقع پر اسلام سے جڑنے کا مطلب اسلامی ممالک کو قرآن سے جڑنا چاہئے اور خوب سے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے، ان کے عہد اور معاہدہ کو قرآن نے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے، ارشاد ربانی ہے :او كلما عهدوا عهدا نبذه فريق منهم،  (سورة البقرة :100) (جب کبھی بھی باندھیں گے کوئی قرار تو پھینک دیگی اس کو ایک جماعت ان میں سے بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے )
عہد شکنی اس قوم کی پرانی عادت  ہے۔یہ خواہ اللہ سے یا رسول سے یا کسی ملک سے یا کسی شخص سے عہد کرتے ہیں تو عہد شکنی کرتے ہیں۔عنقریب یہ بھی سب کےسامنے آنے والا ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ