جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتاستاذ کیوں مارتے ہیں؟

استاذ کیوں مارتے ہیں؟

‘استاد کیوں مارتے ہیں ملاحظہ فرماٸیں’

میرے "ٹیچر” نے ایک دن مجھے بہت مارا ۔

میں نے دل میں انہیں جتنی "گالیاں” دے سکتا تھا

دیں.

ارادہ کیا

جب بھی زرا بڑا ہوا تو انہیں قتل کر دو ں گا۔

لیکن وہ مجھے "سکھا” گئے.

ایک دن ملے "سائیکل” پر تھے ، کافی بزرگ ہو چکے تھے

ان کے پاؤں شوگر کی وجہ سے سوجے رہتے

(کبھی کبھی بنا جوتوں کے سائیکل چلاتے

مجھے دیکھتے ہی بولے "رضوان”

میں "گاڑی” سے بھاگ کر اترا.

بڑے خوش ہوے

مجھے دیکھ کر

ایک دم ہاتھ جوڑ کر بولے

(کمزور آواز میں)

یار.

مجھے "معاف” کر دینا.

تجھے بہت "مارتا تھا”۔

پر اس لیے مارتا تھا کہ تم "کچھ بن” جاؤ اور آج تمہیں کسی "مقام” پر دیکھ کر رو پڑا ہوں کہ میرا شاگرد آج "بڑی گاڑی” میں بیٹھا ہے

بیٹا تم میری خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔و

اور رو پڑے ۔

میرے سینے پر "گھونسہ” لگا

"تڑپ” کر انہیں "سینے” سے لگا لیا

سارا روڈ یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔

پھر ان کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔۔

ہم–دونوں استاد—شاگرد

گلے لگ کر روتے رہے۔۔۔

عجب سی "مہک” تھی ان کے "سینے” سے آتی ،

مجھے ان کی "چھاتی میں سکون” محسوس ہو رہا تھا ۔۔

ابدی سکون

جس جس راہ چلتے بندے کو پتہ چلا.

وہ بھی رو پڑا

استاد شاگرد کا پیار دیکھ کر

بات یہ ہے کہ آپ "اچھے نمبرز” نہ بھی لیں

اچھے "گریڈز” نہ بھی لیں ۔

صرف اپنے "ٹیچر” کا "ادب” کریں.

تو ‘اجر” ٹیچر نہیں "اللہ” دیتا ہے

مجھے یہ "ملاقات” کبھی نہیں بھول سکتی

مجھے "تراشنے” والے وہی تو تھے

میں اک "گمنام”, "بے شکل” *پتھر* تھا

اس لیئے جتنا ہو سکے *”استاد کے احترام”* کو ترجیح دیں اور یہی فقط "کامیابی” کی "سیڑھی” ہیں۔

💎💎💎

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے