استاد کی یاد…

66

تحریر :خورشید انور ندوی

17 جنوری 2021

دنیا بنانے والے نے دنیا ہی کیا عجب بنائی، اور پھر اس میں اپنے خلیفہ حضرت انسان کو تو عجب العجائب ہی بنایا.. چند سو گرام ( مرد 1400 گرام /زن 1200 گرام) کا دماغ ایک ثانیہ میں ہزار جست لگا سکتا ہے.. ہر دیکھی چیز ہر سنی بات دیکھ اور سن سکتا ہے.. دیکھی چیز کو اسی رنگ وروپ حجم زاویہ پس منظر کی رنگارنگی کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، سنی بات کو آواز کے اسی زیر وبم، ارتعاش اور جذبات کی آمیزش کے ساتھ سن سکتا ہے، جیسا کہ برسوں پہلے سنا تھا.. آج کل خدائے بزرگ وبرتر کے بخشے اس زرنگار تخت پر میرے مشفق مہربان اور ذی شان مرحوم استاد مولانا شہباز اصلاحی صاحب بار بار جلوہ آرا ہورہے ہیں.. ان کی یاد ایک تسلسل سے آرہی ہے.. بیداری میں یاد خواب جیسی اور خواب بیداری جیسا لگ رہا ہے.. سارے دوست کم وبیش صحت و سلامتی کے ساتھ زندہ سلامت ہیں.. میرے کسی خواب کی تعبیر کون کیا بتائے گا، اس کا مجھے لفظوں کے ساتھ پیشگی علم ہے، اس لئے بیان کرتے ڈرتا ہوں.. اگر شعیب اسلم سے بیان کروں تو ان کی تعبیر ہوگی، ایک زوردار بلند بانگ قہقہہ اور یہ کہ ” پھر تو کچھ ہونے ہی والا ہے” عرفان حسنی کی تعبیر ہوگی “تم کو بہت مبارک ملاقات جلد ہی ہونے والی ہے، استاد محترم کو سلام کہنا یار.. مارے خوشی کے بھول نہ جیئو!! خطیب عالم کہیں گے..” روح کی موانست زیادہ دن جدائی میں چین سے رہنے نہیں دیتی.. تیاری کرلو.. طاہر ندوی کہیں گے” شطحات شروع ہیں، منازل طے ہورہے ہیں، مقامات زیر ہورہے ہیں مبارک ہو “.. اب سب کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے دن گنے جاچکے.. اس لئے کچھ کہتے نہیں بنتی…. استاد مرحوم کی باتیں ان کی موہنی صورت، وجاہت اور شگفتہ وبذلہ سنج شخصیت کے ساتھ نقش ہے.. میں تھوڑا ” منہ لگو” تھا.. ہمیشہ تبلیغ کی فضیلت سننے کے لئے نازیبا ریمارک کرتا،، اقامت دین پر کچھ منفی کہتا تو تحریکی لٹریچر کا پورا مکتبہ دونوں پٹ کھل جاتا.. ترقی پسند ادب کو گھٹیا اور نعرہ باز اور “سرخا” کہتا تو فیض احمد فیض اور حسرت موہانی کو لے کر بیٹھ جاتے (حسرت کو ترقی پسند شاعر گردانتے تھے) اور فیض کا زنداں نامہ سنانے لگتے.. منطق کی افادیت پر کچھ جارحانہ کہو تو تہافۃ الفلاسفۃ کی کلاس لگا دیتے.. وضوخانہ کے پاس پانی کا کنواں اور اس کی منڈیر ان کی عمومی دانشگاہ تھی.. ویسے وہ ہمارے کمرے میں بھی بے تکلف آتے تھے اور علم وفضل کے گوہر آبدار رولتے تھے.. میری جھک جھک بک بک سے تنگ آگئے تو کہنے لگے “چالیس سے پہلے تم اپنی تحریر عام نہیں کرنا ورنہ لوگ تم کو قتل کردیں گے” اور خوب ہنسے… میں نے لکھنا شروع کیا تو ان کا مشورہ بہت کام آیا، بڑی رہنمائی فرمائی.. ہر تحریر پر تعریف کرتے اور توجہ دلاتے.. ایسے استاد جو ہر طالب علم کے شخصی اتالیق ہوں، اب ناپید ہیں.. میرے جیسے نالائق شاگردوں سے دنیا پٹی ہے لیکن ایسے فائق استاد خال خال ہیں.. جو ذہن کے خانوں کی طرح متنوع،اور وسیع المطالعہ ہوں.. ہر طالب علم کی ذاتی خصوصیت سے آگاہ ہوں، بے نفس سادہ اور باران رحمت کی طرح فیض رساں ہوں.. اللہ ان پر اپنی رحمتوں کا سایہ رکھے.. اللھم ارحمہ کما ربانی صغیرا..