بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتاردو "ہندوستانی" ہے .ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

اردو "ہندوستانی” ہے .ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

اردو "ہندوستانی” ہے

اردو اخبار روزنامہ انقلاب کے ذریعہ یہ خبر مل رہی ہے کہ محکمہ صحت کےجوائنٹ ڈائریکٹر تبسم خان کو معطل کر دیا گیا ہے،معطلی کی وجہ وہی حکمنامہ ہے جو ابھی کچھ دنوں پہلے محکمہ صحت کی طرف سے جاری ہوا تھا، اور اسمیں ہسپتالوں کے نام ،ڈاکٹروں کے نام ہندی کے ساتھ اردو میں بھی لکھنے کی ہدایت دی گئی تھی،
ملک بھر میں اس فیصلہ کی بڑی پذیرائی ہوئی، لوگوں نے یوپی حکومت کے اس فیصلے کو دوسری سرکاری زبان اردو کے ساتھ انصاف قراردیا، اورحکومت کا شکریہ بھی ادا کیاگیاہے، اب یہ معاملہ برعکس نظر آرہا ہے، ڈاکٹر تبسم خان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے حکمنامہ جاری کرنے میں پروسیز کا خیال نہیں کیا ہے، لہذا اب معطلی کے ساتھ ساتھ یہ حکمنامہ بھی قابل عمل نہیں رہا ہے۔
اس تعلق سے لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما جی کابیان واقعی قابل تعریف ہے، موصوفہ کہتی ہیں کہ” کارروائی افسوسناک ہے، ہمیشہ یوپی میں روایت رہی ہے کہ محکموں میں ہندی کے ساتھ اردو کا استعمال ہوتا رہا ہے، اردو اسی ملک کی زبان ہےاور اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ،قانون کے مطابق ہر محکمہ میں ہندی کے ساتھ اردو کا استعمال ہونا چاہیے ”
یہ بیان واقعی قابل تعریف ہے اور تاریخی حقائق پر مبنی بھی ہے، جولوگ اردو زبان سے ادنی بھی واقفیت رکھتے ہیں، یہ دونوں موٹی موٹی باتیں بخوبی جانتے ہیں کہ اردو کی جائے پیدائش ہندوستان ہے،اور یہ بھی کہ اردو کسی خاص مذہب یا کسی ایک قوم کی زبان نہیں ہے،بلکہ مختلف زبانوں اور لوگوں کے میل جول کا نتیجہ اردو ہے،علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
"اردو زبان کا پیدا ہونا کسی ایک قوم یا قوت کا کام نہیں بلکہ مختلف قوموں اور زبانوں کے میل جول کا ایک ناگزیر اور لازمی نتیجہ ہے”( نقوش سلیمانی )
معروف ومشہور کتاب "باغ وبہار” کے دیباچہ میں میر امن دہلوی نے یہ تحریر کیا ہے:”حقیقت اردو زبان کی بزرگوں کے منھ سے یوں سنی ہے کہ جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے،تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم قدردانی اور فیض رسانی اس خاندان لاثانی کی سن کر، حضور میں آکر جمع ہوئے،لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدی جدی تھی، اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین، سودا سلف،سوال جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی "۔(باغ و بہار )
ان تاریخی حقائق کو آج فراموش کیا جارہا ہے ، اس میل جول اور پیار ومحبت کی زبان کو صرف مسلمانوں کی زبان کہ کر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اور اب یہ اردو ریاستی حکومت کی دوسری سرکاری زبان ہوتے ہوئے سیاست کا ایک عنوان بن گئی ہے،اور اس کی قانونی حیثیت سے بھی روگردانی کی جارہی ہے،
ع۰۰ اپنی اردو تو محبت کی زبان تھی پیارے
اب سیاست نے اسے جوڑدیا مذہب سے
دوسری سازش اردوزبان کے خلاف یہ ہورہی ہے کہ،عام ذہنوں میں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ، اردو دراصل فارسی زبان سے بنی ہے،اور یہ غیر ملکی زبان ہے،اسے باہری زبان کہ کر ہر جگہ سے باہر کا راستہ دکھادیا جائے،یہ سوچ جہالت پرمبنی ہے،بابائے اردو مولوی عبدالحق رقم طراز ہیں:
"بزرگان دین نے اہل ملک سے ارتباط اور میل جول بڑھانے اور ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، اس نظر سے انہوں نے ان کی اور اپنی زبان کو ملانا شروع کیا، اس میل اور ارتباط سے خود بخود ایک نئی زبان بنی، جو نہ ہندی تھی اور نہ فارسی بلکہ ایک نئی مخلوط زبان بنی جسے اب ہم اردو یا ہندوستانی کہتے ہیں "(اردو کی ابتدائی نشو ونما میں صوفیاء کرام ۰۰)
مذکورہ بالا اقتباس سے جہاں اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ اردو فارسی زبان سے نہیں بنی ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اردو کا دوسرا نام "ہندوستانی” ہے۔اب کوئی طاقت اس ملک میں یہ کوشش کرے کہ” ہندوستانی” کو ہندوستان سے باہر کردے، یہ قیامت کی صبح تک نہیں ہونے جارہا ہے، البتہ یہ پیغام ان لوگوں تک ضرور جانا چاہئے جو اردو دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جہاں کسی شہر اور گاؤں کا نام اردو الفاظ سے بنے ہوں، اسے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ چاہیں تو اردو کا نام بدل کر ہندوستانی رکھ سکتے ہیں، شاید اردو داں طبقہ کو اس کا بالکل افسوس نہیں ہوگا، بلکہ اردو پر ہم ہندوستانیوں کو فخر بھی اسی لئے ہے کہ آج پوری دنیا میں یہ زبان بولی جارہی ہے، اور جہاں کوئی اردو بولتا ہے، وہاں دراصل ہندوستان بول رہا ہے،
ع ۰۰ جہاں جہاں کوئی اردوزبان بولتا ہے
وہیں وہیں مرا ہندوستاں بولتا ہے

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۶/ستمبر ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے