“اردو کارواں ” کے وفد کو وزیر تعلیم بہار کی یقین دہانی خوش آئند علامت:انوارالحسن وسطوی 

40
 حاجی پور (پریس ریلیز 14جلاءی) “کاروان ادب” حاجی پور کے جنرل سیکریٹری انوارالحسن وسطوی نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ سابق امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی قائم کردہ تنظیم “اردو کارواں” کے نمائندہ وفد کی اردو کے تعلق سے دی گئی عرضداشت کو قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم بہار جناب وجے کمار چودھری کی یہ یقین دہانی کہ اردو زبان، اردو اساتذہ اور اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اردو کاز کے تعلق سے ایک خوش آئند علامت ہے جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے- واضح ہو کہ گزشتہ  11 جولائ 2021 کو اردو کارواں کا ایک نمائندہ وفد وزیر تعلیم موصوف سے ملا تھا جس میں کارواں کے نائبین صدر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی، جناب مشتاق احمد نوری، پروفیسر صفدر امام قادری، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ریحان غنی سیکریٹری ڈاکٹر انوار الہدی اور امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی شریک تھے- ارکان وفد نے اپنی اس ملاقات میں اردو کے مسائل کے تعلق سے ایک عرض داشت پیش کی جس میں وزیر تعلیم سے ریاست کے ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں سے اردو کی لازمیت ختم کرنے اور اسے اختیاری مضمون کے زمرے میں ڈالنے والے سرکلر 799 مورخہ 15 مئی 2020 کو واپس لینے اسکولوں میں اردو کو لازمی مضمون کی حیثیت سے برقرار رکھنے، ہر اسکول میں ایک اردو ٹیچر کا لازمی طور پر تقرر کرنے اور اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کو ہندی ٹی ای ٹی امیدواروں کی طرح ہی گریس مارکس دے کر ان کا رزلٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا – ارکان وفد نے اردو مشاورتی کمیٹی،  بہار اردو اکادمی، اور گورنمنٹ اردو لائبریری کی مجلس عاملہ کی تشکیل نو کا بھی مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں وزیر تعلیم موصوف نے اپنے مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کیا اور ارکانِ وفد کو اپنی سطح سے کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی – تقریبا انہیں سارے مسائل کے تعلق سے گزشتہ برس اگست 2020 میں پروفیسر غلام غوث (ایم ایل سی) کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد جس میں مولانا ابوالکلام قاسمی ڈاکٹراسلم جاوداں  اور ڈاکٹر انوار الہدی  شریک تھے سابق وزیرتعلیم جناب کر شنندن پرسادورما  سے ملا تھا  اور مذکورہ مسائل پر گفتگو کی تھی، لیکن سابق وزیر تعلیم نے اردو کے ان مسائل سے اپنی گہری دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور اس سلسلے میں حکومت کے افسران سے رابطہ کرنے کی نصیحت کر کے اپنا پلہ جھاڑ لیا- اس طرح اردو کے یہ مسائل جوں کے توں رہ گئے- اب جب موجودہ وزیر تعلیم جو نہایت سنجیدہ اور منصف مزاج انسان ہیں ان سے بہار کی اردو آبادی کو یہ توقع ہو گئی ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں اردو کے ان مسائل پر توجہ دیں گے اور اردو آبادی کے مطالبات کو پورا کرکے انہیں ممنون کریں گے-