اردو سندھ میں آباد مہاجروں کی زبان ہے

74

پہلے تو یہ بات ہی دل سے نکال پھینکیں کہ اردو سندھ میں آباد مہاجروں کی زبان ہے۔ ان کے آبا و اجداد کا معلوم کیجیے تو بھانت بھانت کی زبانوں سے ہوں گے اور ہجرت کے بعد اردو زبان پہ قبضے کی نا کام کوشش ‘کری’۔ جن سے زور زبردستی سے وطن چھینا گیا، وہ پنجابی، بنگالی اور کشمیری تھے۔ تقسیم یہی ہوئے۔ یو پی، حیدر آباد دکن، مراد آباد، امروہہ، ہذا القیاس؛ یہاں سے کسی کو زبر دستی ہندستان نکالا نہیں دیا گیا اور نہ فسادات کی وہ صورت تھی کہ ہجرت کی جاتی۔ ان علاقوں سے بہتر مستقبل کے لیے ہجرت کی گئی۔ مملکت نو میں خواندہ افراد کے لیے ملازمت کے مواقع خوب تھے اور پھر تاریخ کے پنوں میں جھانکیے تو ابتدا میں بیوروکریٹ مہاجر اکثریت میں دکھائی دیں گے۔ ایسے ایسے مہاجر کہ والدین ہندستان میں ہیں، بہن بھائی ہندستان میں ہیں، وہ پاکستان میں روزگار کے لیے چلے آتے ہیں (اس میں برائی نہیں، اچھی بات ہے۔ پر یہ ‘قربانی’ نہیں، بہ تر مستقبل کے حصول کے لیے تھا، جیسے آج ہم یورپ یا امریکا جاتے ہیں، امریکا اور یورپ کے لیے قربانی دینے نہیں)۔ جن پنجابیوں نے، بنگالیوں نے، کشمیریوں نے ادھر سے ادھر ہجرت کی، کبھی ان کے منہ سے یہ “قربانی”والی بات نہیں سنی، مہاجر تو ان میں بھی ہیں، کیا وہ اردو بولنے والے مہاجر ہیں؟ اردو زبان اس کی ہے جو اسے اپناتا ہے، جیسا کہ (بوجہ) پنجابیوں نے اپنائی۔ (کراچی و حیدر آباد کے) مہاجر اس پر نا حق قبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے وہ اس زبان کے اکلوتے وارث ہیں۔

اب اس تناظر میں مستنصر حسین تارڑ کے بیان کو پڑھیے۔ (گر چہ مجھے تارڑ صاحب کے بیان سے لفظی اختلاف ہے)۔