اردو زبان کے ساتھ حکومت بہار کا سلوک

36

ہندوستان مختلف زبان و تہذیب اور ثقافت کا گہوارہ ہے یہ ہندوستان کی خوبصورتی ہے کہ یہاں اتنی ساری زبانیں بولی جاتی ہیں اور اتنی ساری تہذیبیں اور ثقافتیں رنگیناں بکھیرتی نظر آرہی ہیں ۔

ہندوستانی زبانوں میں ایک شیریں و خوبصورت زبان اردو ہے،جس میں فارسی کی نزاکت ہے تو عربی کی علمیت بھی رس کھول رہی ہے اور مقامی ہندوستانیوں کی زبانوں کا رس بھی موجود ہے، ہندوستان کا وہ کونسا گوشہ ہوگا جہاں اردو کا بول بالا نہ ہو ہرجگہ اس نے اپنی سحر انگیزی اور اثر انگیزی سے ایک دنیا کو اپنا اسیر بنانے کا لازوال کام کیا،ان ہی گوشوں میں سے گوشہ ریاست بہار ہے جہاں اردو بولنے،اردو لکھنے اور اردو پڑھنے و پڑھانے والوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے، ریاست بہار سیاسی و ملی تنظیموں کے لیے ایک چراگاہ ہے جہاں ہندوستان کی ایک بڑی اردو آبادی ہے اعداد و شمار کے مطابق تمام اضلاع میں تقریبا کل آبادی 103804637 ہیں مگر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اردو زبان ان سے یا وہ اردو زبان سے بچھڑ کر رہ گئے ہیں۔
آئیے ریاست بہار میں اردو زبان کی صورتحال کا جائزہ لیں تاکہ مسئلہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے،
ریاست بہار میں چند محبان اردو ادب و اہل دل جانثاران اردو کی مجاہدانہ اور مخلصانہ کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ کبھی بہار کی سرزمین پر اردو زبان کی طوطی بولا کرتی تھی،لیکن ان دنوں حکومت بہار اور عوامی سطح پر بے توجہی سے اردو زبان کی زبولی حالی کچھ زیادہ ہی لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہونے لگی ہے، ریاست بہار کی سرزمین پر اردو زبان کو ثانوی حیثیت دینے والے” وزیر جگناتھ مشرا” کو بہار کی عوام کبھی بھی بھول نہیں سکتی کہ جس نے باقاعدہ اردو زبان کو ثانوی حیثیت دیکر لاکھوں بہاری باشندوں کو تقویت پہنچایا جس کی وجہ سے وہ لاکھوں افراد کے دلوں میں راج کر رہے ہیں، اس کے باوجود موجودہ حکومت کی اردو زبان سے سوتیلا پن اور عدم فروغ اردو نہایت ہی قابل غور اور ناقابل قبول مسئلہ بن گیا ہے،اگر حکومت بہار کی یہی سوتیلا پن برقرار رہی تو ہماری وراثتی زبان دب کر رہ جائے گی ،اور صدیوں تک ہماری نسل ہمیں اس کی وجہ سے کوستی رہے گی ،

لہذا آج ضرورت اس بات کی ہو گئ ہے کہ اس کے لیے ہم اور آپ احتجاج کا راستہ اختیار کریں ، اس کے لیے سب سے پہلے اردو سرکاری ملازمین کو آگے آنے کی اشد ضرورت ہے، پھر سرکاری و نیم سر کاری ملازمین کو بھر پور کوشش اور کاوش سے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، ہم حکومت بہار اور ان سے جڑے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اردو زبان کی تحفظ و ترویج اور اس کی اشاعت کی بھرپور حمایت کریں تاکہ عوامی سطح پر اردو زبان اپنی شیرینی اور مھٹاس کو برقرار رکھ سکیں ۔
ہمیں امید ہے کہ ہماری اس آواز کو ایوان اسمبلی قبول کریں گے ۔