’’ ادب ِاطفال پر خصوصی دھیان دیتے ہوئے عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘پروفیسر عبدالمجید صدیقی ’’

57

’’ ادب ِاطفال پر خصوصی دھیان دیتے ہوئے عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘پروفیسر عبدالمجید صدیقی
’’بچوں کا ہفت روزہ اخبارباختراردو ادب اطفال میں قدیم اور جدید زمانے کے تمام ترتقاضوںاور تعلیم کا ایک منفرد امتزاج ہوگا۔ ‘‘ اشفاق عمر
مورخہ17؍نومبر 2020بروز منگل شہر مالیگاؤں میں بچوں کے ہفت روزہ اخبار’’باختر‘‘ کی رسم اجرا کا پروگرام محترم عبدالمجید صدیقی، سابق پرنسپل ،سٹی کالج ،مالیگاؤں کی صدرات میں منعقد ہوا۔ شہرمالیگاؤںکے سرگرم میونسپل کارپوریٹر محمد مستقیم ڈگنٹی کے ہاتھوں اخبار باختر کا اجرا عمل میں آیا۔اس پروگرام میں شہر کی چنندہ نمائندہ شخصیات موجود تھیں۔ قاری زبیر اختر عثمانی کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ مدیر اشفاق عمر نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اب ادب اطفال میں اکیسویں صدی کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ ادب اطفال کی موجودہ روش کے ساتھ ساتھ ایک نئے منظرنامے میںتعلیم اور سائنس کوشامل کرتے ہوئے ہم نے باختر کو جاری کیا ہے۔انہوں نے بالتفصیل باختر میں موجود کالموں اور عنوانات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اخبار کس طرح ادب اطفال اور تعلیم و تربیت کا حسین امتزاج ہے۔ مہمانِ معظم ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے اشفاق عمر کو اخبار کے اجرا پر مبارکبادپیش کی اور فرمایا کہ اب اس قوم کو ہر مرحلے پر ،ہر نہج پر اور ہر سمت میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ محترم احمد ایوبی نے اپنی مخاطبت میں مبارکباد دیتے ہوئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیااور ہر ممکن تعاون پیش کیا۔ مستقیم ڈگنٹی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرما کہ اشفاق عمر نے بچوں کا اخبار جاری کرتے ہوئے ایک بہترین کام کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہرممکن تعاون کا اظہار کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔روزنامہ ترجمان، مالیگاؤں کے مدیر محمد یوسف نورالہدیٰ نے حاضرین کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے استادِ محترم عبدالمجید صدیقی صاحب نے فرمایا کہ ہمیں اس اخبار کی سرپرستی کرنا چاہئے۔ انہوں نے اخبار کے اجرا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی کے لفظ باختر، جو کہ مردہ ہوچکا تھا، اسے اکیسیوں صدی میں نئے معنی کے ساتھ زندہ کرنے پرکی یہ کوشش خوش آئند ثابت ہوگی۔پروگرام میں ہفت روزہ خیراندیش کے مدیر خیال انصاری، ادیب الاطفال ابن آدم، شب انصاری،رائل کالج کے پروفیسر شکیل صاحب، عتیق سر، نثارسر، افضال انصاری سمیت کئی اہم افراد موجود تھے۔اشفاق عمر نے رسم شکریہ ادا کی۔ محمد مصطفیٰ برکتی نے بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے پروگرام کی شان بڑھادی۔