ادب سیاست اور صحافت

83

مفتی ہمایوں اقبال ندوی،
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
 عرب اورإسرائيل معاہدہ اس وقت موضوع گفتگو ہے،یہ خبر روزانہ اخبار کی زینت بن رہی ہے، اس عنوان پر کافی کچھ لکھا جارہا ہے ، مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جارہی ہے اور اس کے نقصانات کو اجاگر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ہم مسلمانان ہند کو بالخصوص اس واقعے سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج کی تاریخ میں امریکہ قوم یہود کے نخرے اٹھا رہا ہے اور ناز برداری کررہا ہے؟ اسی پر بس نہیں اس سے دوقدم آگے بڑھ کر ” تم کو بھی چاہیں اور تیرے چاہنے والوں کو بھی چاہیں” والے محاورے کو عملی جامہ بھی پہنا رہا ہے۔اوراس قوم کی محبت اتنی متعدی اورغالب آگئی ہےکہ امریکی صدراسرائیل پہونچ گیاہےاورپوری دنیامیں یہودکی فلاح وبہبوداوراس کےمفادکےلئےخودکولگارکھاہے،اورایسامحسوس کیاجارہاہےکہ وہ اس کےکسی حدتک جاسکتاہے۔عرب ممالک اور اسرائیل معاہدہ کے نام پر اسرائیل اور یہود کے وجود اور اس کا استحکام ہی مقصود ہے ۔ یہودیوں کی تعداد امریکہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہے باوجود اس کے وہ اس وقت سپر پاور کے بھی اوپر ہے ۔عرب امارات کےساتھ بحرین نے اسرائیل سے معاہدہ کرلیا ہے مزید آدھے درجن عرب ممالک سے اسرائیل کے سفارتی تعلقات کی رضامندی کی امریکی صدر کی طرف سے بھوشوانی کی جارہی ہے، یہ سب ٹرمپ کی مجبوری ہے۔وہ اس لئے کہ یہودیوں نے اپنی طاقت کو تسلیم کرالیا ہے۔یہ ووٹ کی طاقت نہیں ہے بلکہ ادب سیاست اور صحافت کےمیدان کی طاقت ہے۔اسی کی بدولت یہودی اقلیت کی امریکہ میں ہرآدمی کو ضرورت ہے ۔قیادت کے میدان میں جس کا قد جتنا اونچا وہاں دکھتا ہے،یہودیوں کی ضرورت اسے کہیں زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے ۔ ان تینوں میدانوں میں یہودیوں کی قیادت تسلیم کر لی گئی ہے ۔سیاسی گرفت کی بات کیجئےتواتناکہ دیناکافی ہوجاتاہےکہ اقوام متحدہ کے تقریبا ستر کلیدی عہدوں پر ان کے لوگ اس وقت فائز ہیں۔ صحافت اس کےگھرکی لونڈی ہے،امریکہ میں صحافت صرف اسی کوپہچانتی ہے۔رسائل جرائد روزنامہ اخبارات کا مایہ جال انہوں نے بچھا رکھا ہے پوری قوم اس پرقابض ہے ۔لکھنے والوں کی بڑی تعداد انمیں میں موجودہے۔ٹیلیویژن اسٹیشنوں اور نیوز ایجینسوں پر ان کا قبضہ ہے ۔امریکہ میں یہ رائی کو پہاڑ بنادینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہاں کے مقامی لوگ اور منجھے ہوئے سیاستدان تک ان کا آلہ کار اور ان کے ذریعے پھیلائے گئے افواہوں کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔بس یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اسی ناو پرسوار ہوکر دوبارہ کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہونے کے خواہاں ہیں۔یہی وجہ ہےکہ الیکشن سےقبل اسےرجھانےاورمنانےمیں لگےہیں۔نسلی مذہبی اور لسانی تعصب کی بیج سے کوئی کونپل نہیں نکل سکا ہے،یہ انتخابی کارڈالیکشن کی مشین میں کوئی انقلاب نہیں لاسکتا ہے ،اس کا خوب سے خوب ٹرمپ کواحساس ہے ۔ ابھی انہوں نے کالے گورے کی منافرت پیدا کرنی چاہی تھی، وہ بھی ناکام ہوگئی ہے ۔اب تو کالوں کی حمایت میں احتجاج ہوتو امریکہ میں دوردورتک گورے ہی گورے نظر آتے ہیں۔آئندہ صدارتی الیکشن میں انہیں اپنی ناکامی سامنے نظر آرہی ہے ۔اب ایک ہی صورت بچی ہے یہودیوں کو خوش کرو،اس کے وجود منحوس کومستحکم کرنے کے ایجنڈے کو لے کر چلو،اسطرح اس کی حمایت اور طاقت کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار اور اپنے حق میں کیا جاسکتا ہے، اپنا وجود بچ سکتا ہے۔یہ موقف اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کا بن گیا ہے ۔ اس واقعے سے ہندوستان میں بسنے والی قوم مسلم کو جو اقلیت میں ہے بلکہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ہم سب ابتک اپنے ووٹ کی چوٹ پر بات کرتے رہے ہیں اوراسی کوجمہوری ملک میں ایک بڑی ضرورت سمجھکر اپنی اہمیت بتلانے میں لگے ہیں،اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ایک ایسی طاقت پیدا کرنے کی اس وقت ضرورت ہے جو عالمی قیادت کے لئے لازمی عنصر ہے ۔جب لفظ قیادت پر بات ہوتی ہے علامہ اقبال کا یہ شعر خوب پڑھاجاتا ہے؛ نگہ بلند سخن دلنواز اور جاں پرسوز
                یہی ہے رخت سفر میر کاروان کے لئے                                                  جبکہ عملی طور پر اسے وجود میں لانے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ہے،مطلوبہ تین چیزوں میں پہلی چیز بلندی نگاہ یہ قیادت کے لئے بسم اللہ ہے۔اپنی ذات اور اپنے مفاد سے اوپر اٹھ جانے کا نام ہے ،قوم ملت کے لئے خود کو وقف کردینے کا کام ہے ۔یہ کام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔قرآن کریم میں اس کی شہادت دی گئی ہے کہ صحابہ کرام اپنےپر دوسروں کو ترجیح دیا کرتے تھے، اپنے مفاد کو قربان کردیا کرتے تھے،حقیقتا یہی سیاست ہے جسمیں ایک انسان کواپنی ہی نہیں بلکہ پوری ملت کی فکر دامنگیر رہتی ہے۔ دونوں آنکھوں سے آئندہ نسل کے مستقبل کے لئے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے حقیقی قائدتو وہی کہلاتا ہے ۔
دوسری اہم چیز زبان وادب کا میدان ہے،اس کے بغیر سخن میں دلنوازی نہیں پیدا ہوتی ہے ،قیادت کےمیدان میں توبغیر شیرینی کے  فاتحہ کا تصور نہیں ہے۔اسی لئے تو کہتے “زباں شیریں ملک گیری”
تیسری اور آخری چیزقیادت کے باب میں جاں سوزی ہے جسے ہم موجودہ وقت میں صحافت کی دنیا میں اپنی جاں توڑ محنت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ابھی کچھ دنوں سے ایک میڈیا کا ملک میں خوب چرچا ہے اورمیڈیاکی ایک نئی شکل متعارف ہوئی ہے،اسےگودی میڈیا کہتے ہیں،یہ اس میڈیا کا نام ہے جسے حکومت چلاتی ہے جبکہ ہمارا روئے سخن اورموضوع گفتووہ میڈیا ہے جو حکومت کوچلاتی ہے۔ایک جمہوری ملک میں اسی لئے اسے ستون کہا گیا ہے ۔ گودی میڈیاغلامی کا نام ہے، قیادت سے اس صحافت کادوردورتک واسطہ نہیں ہے۔یہ قلم کی آبرو کو بیچ کھانے میں دیر نہیں کرتے، ایسی صحافت کبھی قیادت کے لائق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہوسکتی ہے ۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں نےصحافت کے عنوان پر ابتک اس ملک میزں کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔ہوئی ہے بلکہ ملک کی آزادی میں صحافتی خدمات کا بڑا دخل ہے اوراس میں مولانا آزاد ومولانامحمدعلی جوہر کی ودیگر علمائے کرام کی زبردست نمائندگی ملتی ہے، اردو فارسی انگریزی ہر زبان میں اس محاذ پر لوگ ڈٹے رہے ہیں، کامریڈ، الہلال ،البلاغ ودیگر ڈھیر سارے رسائل و مجلدات سے ملک میں نمائندگی کی بڑی دلیل ملتی ہے،اور یہ بڑی وجہ ہے جسکی وجہ سے آزادی ہمیں نصیب ہوئی ہے ۔ بدنصیبی کی بات ہمارے لئے یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ان تینوں عنوان پر ہماری حاضری لگی ہے مگر نمائندگی نہیں ہوسکی ہے ۔آج کی تاریخ میں پھروقت یہ شدیدتقاضہ کرنےلگاہےکہ اپنےوجودکوتسلیم کرانےہی کےلئےنہیں بلکہ نمائندگی کےلئےاس میدان میں پہلےنمائندگی ضروری ہے۔مدارس اسلامیہ اور علمائے کرام کواس تحریر کے ذریعے پھر دہائی دی جاتی ہے ۔ملک کی سالمیت اور ملت کی خدمت اور قیادت کے لئے یہ ضروری اوصاف سے متصف ہونا یہ دراصل کسی بھی اقلیت کا ایک واضح طاقت میں آجانا ہے جو ملک کی ضرورت ہوتی ہے اور اکثریت کورام ہوناپڑتاہے۔اسی کے ذریعے اکثریت واقلیت کے جھگڑے کا خاتمہ بھی ممکن ہے ۔