اجمیر کے بھولے ہوئے عصمت دری کے متاثرین، شفیق الرحمٰن نئ دہلی

73

اجمیر کے بھولے ہوئے عصمت دری کے متاثرین،
شفیق الرحمٰن
نئ دہلی
کرمی:ملک کے نو جوانوں کی اکثریت نربھیا ریپ سانحہ سے واقف ہے، اور اکثر نے نربھیا عصمت دری کے متاثرہ کے لئے احتجاج میں بھی حصہ لیا ہوگا – ایک مشترکہ کاوش کے نتیجے میں جلد ہی مقدمے کی سماعت اور سزا سنا لی گئی – دہائیوں پہلے جب کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا اور ڈیجٹیلائزیشن ایک دور کا خواب تھا -٩٠ کے دہائی کے اوائل میں اجمیر میں عصمت دری کے واقعات کی ایک سیریز نے ہر سمجھدار ہندوستانی کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔ایک پر خطر صبح کو راجستھان کے اجمیر ضلع میں ایک بڑے پیمانے پر عصمت دری اور جنسی استحصال کا معاملہ سامنے پیش آیا جو کہ معین الدین چشتی کے صوفی مزار کے لئے جانا جاتا ہے ایک مقامی ہندی روزنامہ نوجوتی نے انکشاف کیا کہ تقریباً ٥٠٠ اسکول و کالج کی لڑکیاں زیادہ تر ہندوؤں کو زنجیروں سے بلیک میل کیا جاتا تھا (رسالوں اور ٹیلی-ویژن میں تصاویر شائع کرنے کی دھمکی کا استعمال کرتے ہوئے) اور ان لوگوں کے ساتھ جن میں زیادہ تر خادموں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، معروف درگاہ اجمیر میں سماجی بدنامی کے خوف سے بعد میں کچھ لڑکیوں نے خود کشی بھی کر لی، اس واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا، لوگ سڑکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی کیونکہ زیادہ تر متاثرین ہندو تھے جبکہ مجرم مسلمان تھے-مرکزی ملزم فاروق چشتی اس وقت یوتھ انڈین نیشنل کانگریس کا صدر تھا، جبکہ شریک جرم ملزم نفیس چشتی اجمیر انڈین نیشنل کانگریس کا نائب صدر تھا اور انور چشتی اجمیر انڈین نیشنل کانگریس کا جوائنٹ سیکرٹری تھا- معین الدین چشتی کی درگاہ اجمیر شریف اگرچہ مرکز میں اس وقت کی کانگریس حکومت (ریاست میں صدر راج) ان کی شبیہ خراب ہونے کے خدشے سے کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اس کے بعد آنے والی بے، جے، پی حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا، باقاعدہ مقدمے کی سماعت کو یقینی بنایا جس کے نتیجے میں ١٨ کو سزا سنائی گئی، سابق ریاستی بی، جے، پی سکریٹری اونکار سنگھ نے اعتراف کیا :کہ کارروائی بہت دیرسے ہوئی۔بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے نعرے کے ساتھ انتظامیہ پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔