جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتاجلاس مجلس عمومی_مختصر رپورٹ

اجلاس مجلس عمومی_مختصر رپورٹ

اجلاس مجلس عمومی

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار

شاخ :- کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند

مشاہد ونگراں:حضرت مولاناشوکت علی صاحب قاسمی،بستوی دامت برکاتہم ناظم عمومی کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند

زیرصدارت: حضرت مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی ،صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار،ومعاون مہتمم جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ

منعقدہ: مورخہ 19 ربیع الثانی 1443ھ مطابق 25 نومبر 2021ء بروز جمعرات

مختصر رپورٹ:- خالدانورپورنوی،المظاہری، جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار

مورخہ 19 ربیع الثانی 1443ھ ،مطابق 25 نومبر 2021ء بروز جمعرات،بوقت دس بجے دن،بمقام: جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ،کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے ناظم عمومی جناب حضرت مولاناشوکت علی صاحب قاسمی ،بستوی دامت برکاتہم کی نگرانی میں، کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ،رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی مجلس عمومی کا اجلاس،جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی صدررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں کثیر تعدادمیں ارباب مدارس شریک ہوئے،پروگرام کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا،نعتِ نبیﷺ کے بعد،احقر (خالدانورپورنوی ) نے دس صفحات پر مشتمل سکریٹری رپورٹ پیش کیا،جس میں احقر نے بتایا: کہ اب تک 14 اضلاع یعنی گیا، بانکا،بھاگلپور،کشن گنج،سمستی پور، نوادہ ، نالندہ ، جہاں آباد ،کٹیہار،سارن(چھپرہ،سیوان،گوپال گنج) مشرقی چمپارن،پورنیہ،ارریہ،سپول،دربھنگہ میں تشکیل جدید ہوچکی ہے،بقیہ دیگراضلاع میں بھی کوششیں جاری ہیں، تفصیلی رپورٹ میں احقر نے یہ بھی بتایا:کہ کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے صدرمحترم جناب حضرت مولانامفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبنداور اس کے ناظم عمومی حضرت مولانا شوکت علی صاحب قاسمی بستوی دامت برکاتہم کی ہدایات کے مطابق رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کی جانب سے اصلاح معاشرہ عشرہ بھی منایاگیا، جس کی بڑی پذیرائی ہوئی تھی۔

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے صدر محترم جناب حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے اہم اور جامع صدارتی خطاب فرمایا، اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا: دارالعلوم دیوبند کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جبکہ دینی تعلیم دلانا اور اسلامی مدارس کھولنا حکومت کے پلان کے خلاف تھا، لیکن علمائے کرام نے ہمت نہ ہاری، اور عملی اقدامات کے ذریعہ حکومت کے پلان کو چیلنج کردیا، چنانچہ حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی ؒنے ایسے وقت میں اعلان کیا، اے مسلمانوں ہمیں صرف تمہاری اولاد یں درکار ہیں، ہم ان کی ضروریات زندگی ، تعلیم، وکتابوں اور اساتذہ کا انتظام کریں گے، ہم تم سے کچھ نہیں چاہتے، چنانچہ حضرت نانوتوی ؒکی آواز کو لوگوں نے سنا، اور جگہ جگہ مدارس قائم ہونے لگے ، 1866ء میں دیوبند کی چھتہ مسجد میں چند علماءنے ایک مدرسہ قائم کرایا جو بعد میں مرکز علم وعرفاں دارالعلوم دیوبندبنا، اور پھر پورے ملک میں مدارس ومکاتب کا جال بچھ گیا، انہوں نے مدارس سے پروردہ علماء کرام اور اساتذہ عظام کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا۔

 مدارس اسلامیہ کے مابین ربط واتحاد ،اس کے نظام تعلیم وتربیت ، یکساں نصاب تعلیم، بند مدارس کو فعال بنانے، ضلعی شاخوں کو متحرک کرنے، سماجی ومعاشرتی اصلاح، تحفظ ختم نبوت وفتنہ شکیت ودیگر ایجنڈوں پر تجاویز منظور کی گئی،اجتماعی امتحان منعقد کرانے کافیصلہ لیا گیا۔

 مشاہد ونگراں کی حیثیت سے تشریف فرما ،جناب حضرت مولانا شوکت علی صاحب قاسمی بستوی ناظم کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے اہم خطاب فرمایا، انہوں نے کہا: مدرسوں کے نظام تعلیم و تربیت کو بہتر بنانا ضروری ہے ، اور نظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنانے کے لئے اساتذہ کرام کا معیاری ہونا ضروری ہے ، انہوں نے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے ریاستی، ضلعی ذمہ داران کی اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے لئے تدریب المعلمین کا نظام قائم کیاجائے، نحو وصرف کی ابتدائی تعلیم کس طرح دی جائے ؟ اس کے لئے جو ماہرین ہوں، ان سے ٹریننگ لی جائے، انہوں نے معاشرتی اصلاح کی طرف بھی توجہ دلائی، اور مدارس کے ذمہ داران کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ ان کا رابطہ عوام سے ہو، مسجدوں میں درس قرآن کا سلسلہ ہو، جمعہ سے قبل خطابات ہوں، سماج میں جو رسومات اور خرافات میں، اس کو ختم کرنے کی کوششیں کی جائیں،انہوں نے مدارس کے حسابات کوصاف ،ستھرہ رکھنے،اور سالانہ آڈٹ کرانے کو بھی ضروری قراردیا۔

جمعیۃ علما بہار کے صدر محترم جناب مفتی جاوید اقبال صاحب قاسمی، مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن صاحب قاسمی، پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی، مفتی اطہر القاسمی صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء بہار،مولاناعطاء الرحمن عطاء ،مفتاحی صدر رابطہ مدارس اسلامیہ ضلع بھاگلپور نے بھی اہم خطاب فرمایا، مدارس اسلامیہ کے داخلی اور خارجی مسائل ومشکلات کو حل کرنے کے لئے انہوں نے باہمی ربط واتحاد کو ضروری قرار دیا،دارالعلوم دیوبندکے استاذ جناب حضرت مولانامحمدعلی صاحب بجنوری دامت برکاتہم، رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے چاروں نائبین صدور جناب حضرت مولاناغیاث الدین صاحب کشن گنج،مولاناقاری شہرت صاحب قاسمی جہان آباد،مولانامحفوظ الرحمن صاحب سیوان،مفتی محمدصابر صاحب دربھنگہ بھی شریک ہوئے۔ان کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع کے صدور وسکریٹری ، مولانا قاری نظام الدین قاسمی ،مولانا یاسین رحمانی (بانکا) مولانا عطاء الرحمن مفتاحی، مفتی الیاس صاحب مظاہری( بھاگلپور) مولانا غیاث الدین صاحب کشن گنج، مفتی مناظر نعمانی(کشن گنج) مفتی اعجاز احمد قاسمی، مولانا محمد شمشیر قاسمی (نوادہ ،نالندہ) قاری مسلم ایاز مظاہری، مولانا مظفر آفاق قاسمی( جہاں آباد،ارول) مفتی منصور عالم مظاہری،(کٹیہار) مولانا وسیم احمد مظاہری، مفتی محفوظ الرحمن (سیوان) مولانا مفتی ولی اللہ، مفتی شمس توحید (پورنیہ) مفتی علیم الدین مظاہری، مفتی عبدالوارث صاحب قاسمی(ارریہ)مولانانوراللہ صاحب، مولانا محمد امان اللہ قاسمی( سپول) مفتی محمد صابر قاسمی(دربھنگہ)مفتی محمدارشد صاحب قاسمی مدھوبنی اور کثیر تعدادمیں مربوط مدارس کے ذمہ داران شریک ہوئے۔

اس میں حضرت مولاناقاری سید محمدعثمان صاحب منصورپوریؒ سابق امیرالہند ،اور حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ سابق صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار ودیگر اساتذہ واکابر دارالعلوم دیوبند کے انتقال پرملال پر تجویز تعزیت بھی پیش کی گئی،اور قرآن کریم کی آیتیں پڑھ کر ان کے لئے ایصال ثواب کیاگیا،جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کے شعبہ حفظ ،عربی،اور دینیات کے تمام اساتذہ نے اس میٹنگ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار پیش کیا،جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ سبل پورپٹنہ کے مہتمم جناب مولانامحمدحارث بن مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے بہترین ضیافت کی،اور تمام مہمانان کیاشکریہ اداکیا۔جناب حضرت مولاناغیاث الدین صاحب کشن گنج کی دعاء پر اجلاس

اختتام پذیر ہوا_

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے