جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتاجتماعی اداروں کاتحفظ ضروری

اجتماعی اداروں کاتحفظ ضروری

اجتماعی اداروں کا تحفظ ضروری

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

مضمون نگار نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا ہے۔

zafardarik85@gmail.com

ہندوستان میں آ ج سیکڑوں ملی وقومی ادارے ہیں جو عوام کے پیسے سے چلتے ہیں۔ یقیناً یہ ادارے قوم و ملک اور معاشرے کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ان اداروں میں رفاہی، تعلیمی اور تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور ثقافتی اقدار و روایات کی اہمیت و افادیت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور یہاں کی رنگارنگی کے طور طریقوں کی مجموعی ضرورت بتانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی جمہوری و آئینی قدروں کی بابت اور اس کی بالا دستی پر بھی کافی کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے۔ عوامی فلاحی ادارے خواہ سرکاری ہوں یا نیم سرکاری۔

، ان میں عموماً انسانی حقوق ورشتوں، بھائی چارگی اور انسان دوستی جیسے اہم اور بنیادی گوشوں پر عوام کی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے معاشرہ وہی زندہ اور حساس کہلاتا ہے جس میں بقائے باہم اور رواداری جیسے اسلوب و آداب کی پابندی کو ضروری قرار دیا جائے۔

عوامی طور پر جن باتوں اور سرگرمیوں میں ہمارے اجتماعی ادارے مصروف ہیں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کے تحفظ اور بقاء کا ہے۔ یہ ایک نہایت حساس اور اہم پہلو ہے کہ اجتماعی مفادات کے اداروں اور تنظیموں کا انتظام و انصرام جب ہمارے اور آ پ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے تو بہت حدتک ہم وہاں عدل و مساوات کو نظر انداز کرڈالتے ہیں۔ کئی مرتبہ تو ایسا بھی دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملا ہے کہ محض اقرباء پروری اور تعلقات کی بنیاد پر یا کوئی اور مراسم کے ناطے ہم اپنی ذمہ داریوں کو حق بجانب نہیں نبھا پاتے ہیں ایسے کتنے اجتماعی ادارے اور عوامی ملکیت کے اثاثے ہیں جو ہمارے اپنے وضع کردہ اصول کی وجہ سے تباہی اور زوال کا شکار ہیں۔

سچ اور حق بات یہ ہےکہ آ ج معاشرے میں انصاف کے قیام اور ظلم و تعدی کے خاتمہ کی بنیادی ضرورت ہے اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ حق وانصاف کے قیام اور معاشرے میں اس کے غلبہ کی طرف پہلے رخ ان اہلیان اداروں اور تنظیموں کو کرنا ہوگا جن کا رشتہ اسلام سے وابستہ یا وہ خود کو اسلام سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

بلکہ حقیقت تو یہ ہیکہ آ ج سب سے زیادہ نا انصافی اور بھید بھاؤ کا ارتکاب وہی نام نہاد برگزیدہ شخصیات کرتی ہیں جو اپنے آپ کو اسلام جیسے مقدس مذہب سے جوڑتی ہیں۔ آ ج مسلم معاشرہ جس دہانے پر کھڑا ہے اور جن مسائل ومصائب کا شکار ہے اس کے پس پردہ ہماری تنگ نظری اور عملی طور پر کی جانے والی وہ چیزیں ہیں جو واقعی غلط ہیں مگر دانستہ طور پر انجام دیا جارہاہے ہے۔ اس رویے اور رجحان کو بدلنا ہوگا اور معاشرے کی تمام اکائیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا تبھی جاکر ہمارے اجتماعی ادارے ذاتی مفادات سے محفوظ رہ سکیں گے۔

آ ج کی دنیا میں سب سے زیادہ معتوب یا نفرت آمیز نظروں سے اگر کسی کمیونٹی اور معاشرے کو دیکھا جارہا ہے تو وہ ہے مسلم سماج، اس کی بہت ساری وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی ساخت اور ان کی حیثیت کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ بے وقعت بھی کردیا جائے ۔ اس کے علاوہ راقم کی نظر میں جو اہم بات ہے وہ ہے کہ آ ج ہم نے اپنے معاشرے اور اداروں میں انسانیت کی خدمت اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک میں لچک پیدا کردی۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے اجتماعی اداروں میں ایک ہی کمیونٹی اور ہم خیال فرد باہم ناانصافی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ چہرے دیکھ کر باتیں کی جاتی ہیں۔ چاپلوسی اور خوشامدانہ مزاج کے حامل افراد کو نوازا جاتا ہے ،اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ غیبت کرنے والوں کی قدر کی جاتی ہے۔ یہ تمام وہ باتیں ہیں جنہیں اب ہماری کمیونٹی اور معاشرے کے ذمہ دار افراد قطعی برا نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکبین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر مسلم معاشرہ کی حالت عالمی سطح پر مخدوش ہورہی ہے۔ لہذا ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے کے لیے لازمی طور پر ہمیں اپنے گھر، معاشرے، سماج اور اداروں میں حق و انصاف کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ میں ذرا ان واقعات اور حوالوں کو دیکھیے کہ جب بھی سماج میں ناانصافی یا عوامی فلاح و بہبود سے وابستہ چیزوں پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے تو ان کی تاریخ وتہذیب تک نیست و نابود کردی گئی ہے۔

ہندوستان ایک تکثیری اور مخلوط سوسائٹی پر مشتمل ہے یہاں ہر برادری اور ہر زبان ودھرم اور فکر و نظر کے حامل افراد موجود ہیں اس لیے ہماری یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ہندوستان جیسے تکثیری سماج کی روحانی اور عرفانی و اجتماعی قدروں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ ان کو آ گے بھی بڑھانا ہوگا اس کے لیے اولا جو کام کرنا ہے وہ یہ کہ ہمارے قول و فعل سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جو ہمارے اجتماعی مفادات یا مسلم کمیونٹی پر حرف گیری کا باعث بنے۔ سماج ایک حقیقت ہے اور اس سے بھی بڑی حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ اس کے اندر پائی جانے والی تمام قوموں، برادریوں اور معاشروں کے ساتھ یکساں سلوک وامتیاز کو روا رکھا جائے۔عوامی اداروں کو عوامی اور اجتماعی تصور کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ان پر تسلط یا اجارہ داری قائم کرکے ان میں ناروا چیزوں کو جائز قرار دے دیا جائے۔

یہ بھی سچ ہے کہ تاریخ میں ان ہی قوموں اور معاشروں کی داستان مثبت تناظر میں ملتی ہے جو انصاف اور عدل کو معاشرتی و سماجی ترقی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ آ خر میں یہ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی اداروں اور زندہ سماج کی روح کا دارومدار اس بات میں منحصر ہے کہ ان کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے مرتّب کیے جائیں ان کے اندر انسانیت نوازی کی خدمات کو عام کیا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ ان میں انصاف و یقین کی کیفیت کو یقینی بنایا جائے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے