اتر پردیش میں لاقانونیت اور انتشار کے صورتحال سے عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ایس ڈی پی آئی

99

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ اترپردیش میں لاقانونیت اور انتشار کے صورتحال نے ریاست میں خوفناک صورتحال پیدا کردئیے ہیں۔یوگی کی بی جے پی حکومت کوویڈ19کی دوسری لہر کا سامنا کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے متعدد اموات ہورہی ہیں اور ریاست کی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ بڑی تعداد میں لا وارث لاشیں ندی میں تیر رہی ہیں اور ندی کے کنارے دفن ہورہی ہیں۔ ریاست میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور صحت کے شعبے میں انتہائی افسوسناک صورتحال نے لوگوں کو خوف و ہراس میں ڈال دیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے مزید کہا ہے کہ 17مئی کو بارہ بنکی پولیس نے ایک سو سال پرانی مسجد کو توڑدیا اور ملبہ کو دریا میں پھینک دیا اور اس ضمن میں ہائی کورٹ کے حکم کو یکسر نظراندازکیا گیاہے۔ ضلعی حکام نے معزز ہائی کورٹ کے حکم کا احترام نہ کرتے ہوئے مسجد کو مسمار کیا ہے۔ پولیس نے اس ناانصافی اور تعصب کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو پی سرکار مسلم برادری کو نشانہ بنانے اوراپوزیشن کو دبانے کیلئے لاء اینڈ آرڈر ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے۔ شرف الدین احمد نے ریاست میں پولیس کی سیاست کرنے کو بھی جرم قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں  اناؤ کے نوجوان فیصل کے قتل جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ یوگی کے دور میں شروع سے ہی پولیس اپنی عوامی ڈیوٹی نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ شرف الدین احمد نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی نے مختلف معاملات میں پولیس کی ان گھناونی حرکتوں کے خلاف قانونی جد وجہد کا آغاز کیا۔