ماب لنچنگ کے مقتول محمد اسماعیل کے اہل خانہ کو امارت شرعیہ نے دیا50,000 ہزار کا چیک

200

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ) نوائے ملت
امارت شرعیہ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشادرحمانی قاسمی مدظلہ کی ہدایت پر امارت شرعیہ کے قائم مقام مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے ارریہ کے جوکی ہاٹ بلاک میں واقع چکئی گاﺅں میں مآب لنچنگ کے شکار ہوئے محمد اسماعیل کے اہل خانہ سے ملاقات اورحالات کے جائزہ کے لئے ایک وفد کو متعین کیاتھا، وفد نے حالات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ مرکزی دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کو موصول کرایا، رپورٹ کے مدنظر نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشادرحمانی مدظلہ نے مقتول اسماعیل کے بے سہارا بچوں اوردیگر اہل خانہ کے لئے پچاس ہزار کے مالی مدد کی منظوری عنایت فرمائی، چنانچہ آج مورخہ 10جولائی 2021ءکو امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانامفتی محمد سہراب ندوی صاحب ضلع ارریہ کے 9رکنی وفد کے ساتھ چیک لیکر چکئی پہونچے، اس موقع پر مقامی ذمہ داروں کے علاوہ مقتول کے متعلقین اوررشتہ دار بھی موجود تھے، نائب ناظم صاحب نے حالات سے متعلق مزید ضروری جانکاری حاصل کی، مقتول کے اہل خانہ میں دوبیوی ،تین بچے ،بوڑھے والد اوردوچھوٹے بھائی بہن ہیں، جن کی کفالت کی اہم ذمہ داری مقتول ہی کے سر تھی،نائب ناظم صاحب نے پچاس ہزار(50000)کا چیک اہل خانہ کے حوالہ کیا،

IMG 20210710 WA0005

امارت شرعیہ کی اس مدد سے ان بے سہاروں کو بے حد خوشی ہوئی، اورمقامی علماء،ذمہ داران اوراسماعیل کے اہل خانہ نے غیر معمولی الفاظ میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر محترم نائب ناظم صاحب نے امارت شرعیہ اورمختلف میدانوں میں اس کی خدمات خاص طورپر تحفظ مسلمین اورخدمت خلق کے سلسلہ میں اس کی نمایاں کارکردگی کا تذکرہ کیا اوربتایاکہ امارت شرعیہ دکھ کی ایسی گھڑی میں ہمیشہ مصیبت زدگان کی راحت رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے،ا نہوں نے مقتول کے اہل خانہ کو صبر کی تلقین کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے ،نماز کی پابندی کرنے اورمحبت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت بہار سے مطالبہ کیاکہ اس طرح کی مآب لنچنگ حکومت کی پیشانی پر بدنما داغ ہے، جس کو روکنا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے، انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت جلد ایسے حالات پر قابو پائے ،مقتول اسماعیل کے قتل میں شریک مجرمین کو جلداز جلد سزا دلائے اوران کے ورثاءکو معقول معاوضہ دے۔واضح رہے کہ امیر شریعت سابع مفکراسلام حضرت سید محمد ولی رحمانی ؒ نے اپنے دور امارت میں اس طرح مآب لنچنگ کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو اسی طرح کی مالی مدد دینے کا فیصلہ فرمایاتھا، بحمدللہ اس وقت امارت شرعیہ کا نظام محترم نائب امیر شریعت کی سربراہی میں پوری طرح سرگرم عمل ہے۔

آج کے اس وفد میں دارالقضاءارریہ کے قاضی شریعت مفتی محمد عتیق اللہ رحمانی،رکن شوریٰ وٹرسٹی الحاج اکرام الحق صاحب، دارالعلوم ارریہ بیرگاچھی کے ناظم مولانا شاہد مظاہری صاحب، چشمۂ رحمت ارریہ کے مدیر مفتی حسین احمد ہمدم صاحب،مولاناعبدالرحیم صاحب،صحافیوں میں عبدالغنی لبیب ،جناب قاری جسیم الدین،معراج خالد ،معراج خان وغیرہ شریک تھے۔