اب تو دونوں آنکھوں میں ہیں خون کے آنسو!

79

(زرعی بل/ فلیٹ ریٹ ) تحریر:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)
ملک کی دو صنعتیں بھارت کی پہچان ہیں اور ان دونوں صنعتوں سے منسلک کسان اور بنکر کے نام سے جانے جاتے ہیں اور ملک کی خوشحالی کیلئے دونوں صنعتوں کو فروغ دینا ضروری ہے لیکن اتر پردیش کی حکومت نے بنکروں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا تو مرکزی حکومت نے زرعی بل پاس کرکے کسانوں کے ارمانوں کا خون کردیا جبکہ پہلے ہی لاک ڈاؤن کی مار سب سے زیادہ بنکروں اور کسانوں پر پڑی ہے بنکر طبقہ بھکمری کا سامنا کررہا ہے علاوہ ازیں اس کا بجلی بل پاس بک رد کردیا گیا اور نئے اصول ضابطہ کے تحت ماہانہ بجلی کا بل جمع کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے جبکہ نئے اصول ضابطے کے مطابق بنکر طبقہ بجلی بل جمع ہی نہیں کر پائے گا کیونکہ غریب مزدور بنکروں کی اتنی آمدنی ہی نہیں ہے موجودہ حکومت کا فیصلہ شرمناک بھی ہے اور افسوسناک بھی ہے کہ بنکروں کو جہاں سہولت فراہم کرنے کی بات آتی ہے تو زبانی طور پر کام چلاتی ہے اور جب سہولت سے محروم کرنا ہوتا ہے تو تحریری فرمان جاری کرتی ہے

بنکروں کے فلاح و بہبود کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے 2006 سے ملنے والی پاس بک سہولت اور فلیٹ ریٹ پر بجلی بل کی ادائیگی کے نظام کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اور بنکر سماج کے لیے بھی ضروری ہے کہ بنکر تحریک کے قائدین جو بھی فیصلہ لیں اور جو بھی اعلان کریں اس پر سارے بنکر لبیک کہیں یہی وقت کا تقاضا ہے پاس بک بحال کرانے کی تحریک میں چھوٹے بڑے سبھی بنکروں کو ساتھ اناہو گا اور کسانوں کی تحریک سے سبق حاصل کرنا ہوگا آج پورے ملک کا کسان اپنی صنعت کو بچانے کے لیے تحریک کے میدان میں اتر پڑا ہے – کیونکہ زرعی بل کسان مخالف ہے، کسانوں کی موت کا سامان ہے، کسانوں کو مجبور بنانے کی سازش ہے اور کسان دیکھ رہا ہے کہ بنکروں کے لیے ریشم، سوت، نائلان، زری، کتان، ڈائبل، مسرائز وغیرہ جیسے میٹیریل کا دام مقرر نہیں ہے یہ سب کچھ بڑے بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے جب چاہیں جیسے چاہیں دام بڑھادیں اور گھٹا دیں اب چھوٹے بنکروں کا حال یہ ہے کہ جب پوری محنت مشقت کے ساتھ مال تیار کرتا ہے تو اس کا دام بھی اونے پونے ملتاہے لمبی لمبی ادھاری اور جب پیمنٹ کا وقت آتا ہے تو بجائے پیسہ دینے کے مالوں کی واپسی کرنے لگتا ہے یاکہ پھر پیمنٹ میں بے تحاشہ کٹوتی کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئیے ہوتا ہے کہ حکومت نے میٹیریل اور تیار مالوں کے لیے کوئی انتظام نہیں کر رکھا ہے- اور اب وہی کام کسانوں کے ساتھ کرنے کے لیے زرعی بل پاس کیا گیا جس کا انجام یہ ہوگا کہ بیج سے لے کر فصل تک پر قبضہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کا ہوگا ان کی مرضی سے بیج فروخت ہوگا، ان کی مرضی سے کھاد مارکیٹ میں آئے گی اور تیار فصلوں کا دام بھی ان کی مرضی کے مطابق ہی لگے گا پورا پورا دن کھیت میں خون پسینہ بہانے والے کسانوں کو سرمایہ داروں کی جی حضوری کرنی پڑے گی اسی لئے کسان احتجاج اور مظاہرہ کررہا ہے – کیونکہ
اتحاد اور تحریک یہ دونوں بہت بڑی چیز ہے بنکروں کو جو پاس بک کی سہولت ملی تھی وہ اتحاد اور تحریک کی ہی دین تھی،، کل پاس بک بنانے کے لیے تحریک چلی تھی اور آج پاس بک بچانے کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت ہے اور اس تحریک کی کامیابی کے لیے چھوٹے بڑے سبھی بنکروں کا تعاون ضروری ہے سبھی کی شمولیت ضروری ہے تاکہ پہلے کی طرح فلیٹ ریٹ پر بجلی دینے کے لیے اترپردیش حکومت کو مجبور ہونا پڑے –

لاک ڈاؤن، ان لاک اور کرونا وائرس کی زد میں جہاں پورا ملک ہے وہیں بنکر اور کسان دونوں ہی طبقہ پر زبردست مار پڑی ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ بنکروں اور کسانوں کو خصوصی مراعات دیتی تاکہ یہ دونوں طبقے کا مستقبل روشن ہوتا لیکن افسوس کہ بنکروں کو فلیٹ ریٹ کی شکل میں بجلی ملتی تھی یعنی یہ ایک خصوصی سہولت تھی موجودہ اترپردیش کی یوگی حکومت نے اسے بھی ختم کردیا بالکل اسی طرح جیسے کسی بھوکے پیاسے شخص کو دو لقمہ زیادہ دینے کے بجائے جو اسے مل رہا تھا وہ لقمہ بھی چھین لیا گیا اور اب تو پوری طرح بنکروں اور کسانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوبتا نظر ارہا ہے- جبکہ کسان اور بنکر یہی دوطبقہ ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ دونوں طبقہ بلا تفریق مذہب و ملت سب کا پیٹ بھرتا ہے اور سب کا تن ڈھکتا ہے اور آج یہی دونوں طبقہ نہ اپنا تن آسانی سے ڈھک پارہاہے نہ اپنا پیٹ بھر پارہاہے بنکر اور کسان ملک کی دو آنکھیں ہیں اور آج ان دونوں آنکھوں میں خون کے آنسو نظر ارہے ہیں –

واضح رہے کہ اترپردیش حکومت نے بنکروں کے پاس بک کو ردکردیا جس کے نتیجے میں اترپردیش کا بنکر تحریک کے میدان میں اتر گیا تھا اور صاف طور پر کہہ رہا تھا کہ گھروں میں گھٹ گھٹ کر مرنے کے بجائے ہم تحریک چلاتے ہوئے مریں گے جس کے نتیجے میں 3 ستمبر 2020 کو اتر پردیش حکومت نے بنکر نمائندوں سے بات کی اور مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کی وجہ سے بنکر نمائندوں نے تحریک کے خاتمے کا اعلان کردیا 3 ستمبر 2020 کو بنکر تحریک ملتوی تو کردی گئی کیونکہ اتر پردیش حکومت نے جولائی 2020 تک پرانے اصولوں اور حکمنامہ کے مطابق بجلی بل کی ادائیگی کا جہاں یقین دلایا وہیں پندرہ دنوں میں بنکر نمائندوں کی رضامندی سے رعائتی شرح نافذ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ابھی تک کچھ ہوا نہیں ہے یعنی حکومت نے بنکروں کے ساتھ وعدہ خلافی کی اور دھوکہ بازی کی جس کی وجہ سے بنکروں کے اندر ایک بار پھر اشتعال دیکھنے کو مل رہا ہے در اصل اترپردیش کی حکومت نے دسمبر 2019 میں 2006 کے حکمنامہ کے مطابق جو سہولیات کو ختم کر کے مارچ تک پرانے اصولوں سے بجلی بل کی ادائیگی کا زبانی حکم اس لیے دیا کہ بنکر تحریک نہ چلا سکے اور جب بنکروں نے اپنے کاروبار کو بند کرکے ہڑتال شروع کیا تو اسی اصول ضابطے کو جولائی 2020 تک بڑھا دیا گیا تاکہ بنکر کی تحریک ختم ہوجائے اور یہی ہوا حکومت نے بنکروں کے ساتھ وعدہ خلافی کی اور دھوکہ بازی سے کام لیا