ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماسلامیاتاب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟

اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنھما قَالَ: قَاتَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مُحَارِبَ خَصَفَۃَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غِرَّۃً، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْہُمْ، یُقَالُ لَہٗ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، حَتّٰی قَامَ عَلٰی رَأْسِ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم بِالسَّیْفِ، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّي؟ قَالَ: اﷲُ ل فَسَقَطَ السَّیْفُ مِنْ یَدِہٖ، فَأَخَذَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّي؟ قَالَ: کُنْ کَخَیْرِ آخِذٍ، قَالَ: أَتَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اﷲُ، قَالَ: لَا، وَلٰـکِنِّي أُعَاہِدُکَ أَنْ لَا أُقَاتِلَکَ وَلَا أَکُوْنَ مَعَ قَوْمٍ یُقَاتِلُوْنَکَ، فَخَلّٰی سَبِیْلَہٗ، قَالَ: فَذَہَبَ إِلٰی أَصْحَابِہٖ قَالَ: قَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ خَیْرِ النَّاسِ…الحدیث۔

رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ یَعْلٰی۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ: ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔

”حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محارب خصفہ قبیلہ کے ساتھ نخلستان میں جہاد کیا۔ پس اُنہوں نے مسلمانوں کی جانب سے غفلت محسوس کی، تو اُن میں سے ایک آدمی جسے غورث بن الحارث کہا جاتا ہے آیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ انور کے پاس تلوار لے کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: اب آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ۔ (بس یہ سننا تھا کہ) تلوار اُس کے ہاتھ سے گر گئی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار اُٹھا لی اور فرمایا: تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے عرض کیا: بہتر انداز میں مجھ سے بدلہ لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ گواہی دیتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں؟ اُس نے کہا: نہیں، مگر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی آپ کے دشمنوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کا راستہ چھوڑ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں لوگوں میں سب سے بہترین شخص کے پاس سے ہو کر آیا ہوں۔”

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے