آہ وہ بھی کیا رمضان تھے ۔ از قلم طیب ظفر

78

آہ وہ بھی کیا رمضان تھے ۔
از قلم طیب ظفر
8668705379
قبل از رمضان مساجد کو دلہن کی طرح سجایا جاتا تھا شہر بھر میں استقبال رمضان پر پروگرامات ہوا کرتے تھے بازاروں کی رونق دوبالا ہوجاتی تھی اور جب رویت ہلال کمیٹی یہ اعلان کرتی تھی محترم حضرات آج اللہ کے فضل و کرم سے رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے اور انشاء اللہ آج سے تراویح کی نماز ادا کی جائے گی اور انشاءاللہ سحر بھی ہوگی تب خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا لوگ فرد خوشی میں گلے مل مل کر مبارکباد دیا کرتے تھے اور ہر قدم مسجد کی طرف اٹھتا تھا لوگ تراویح کی تیاریوں میں لگ جاتے تھے شہر بھر میں ہر چوراہے اور ہر نکڑ پر رمضان المبارک کی مبارکباد کے بینرز لگ جاتے تھے فلا شخص یا فلا پارٹی کی جانب سے تمام اہل اسلام کو رمضان مبارک اور لوگ آپس میں محو گفتگو ہو جاتے تھے کے فلا مسجد میں تین پارے ہوں گے فلا میں دو پارے ہو گے اور فلا میں ایک پارہ ہوگا بہت خوشی میں مساجد کی اذانوں کے درمیان لوگوں کی چہل پہل کے درمیان اس طرح رمضان کے شروع ہوا کرتی تھی رمضان المبارک میں مختلف جگہوں پر مختلف پروگرام ہوا کرتے تھے اب ہمارے شہر اورنگ آباد کی ہی بات لے لو مسجد گنج شہیداں میں آخری عشرے میں الگ الگ عنوان پر الگ الگ مبلغ اسلام تقریر کیا کرتے تھے تو وہی جان محمد مسجد میں شیخ کی آمد ہوا کرتی تھی جہاں پر رات پر صوفیانہ انداز میں ذکر و اذکار وعظ و نصیحت ہوا کرتی تھی شہر کی کہیں مساجد میں شبینہ ہوا کرتی تھی بہت ساری رونق ہوا کرتی تھی اور رمضان ہی ایک ایسا مہینہ تھا جس میں مدارس والے اپنے سال بھر کے اخراجات کا ٹارگٹ پورا کر لیا کرتے تھے جس کی وجہ سے سال بھر مدارس کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی اور ملت اسلامیہ کے نونہالان دین اسلام اور قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے جس سے یہ یقین کامل ہوا کرتا تھا کہ دنیا میں دین اسلام بلند رہے گا اور اللہ کا پاک کلام قرآن پاک مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ رہے گا اور مسلمانوں کے بچے شریعت کے قانون پر عمل کریں گے شریعت کے قانون کو سیکھیں گے اور دوسروں کو سکھائے گے قرآن پاک سیکھیں گے یاد کریں گے اور دوسروں کو سکھائے گے اسی طرح مذہبی اور ملی جماعت بھی اپنے سال بھر کے اخراجات اسی مہینے میں وصول کرتی تھی جس سے امت مسلمہ کو قانونی امداد مل جایا کرتی تھی رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے سال بھر کی رحمت و برکت عزت عظمت سب برسا کر چلا جاتا تھا ۔
گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
ہمیں تم یاد آو گے تمہیں ہم یاد آئیں گے_
پھر اچانک گزشتہ سال ایک عجیب سی بیماری نے ایک عجیب سی وبا نے اموات سے بھری غموں سے بھری بدبودار باہیں کھولیں اور ساری دنیا کو اپنی آغوش میں لے لیا لوگ بیمار ہونے لگے، لوگ مرنے لگے، پہلے شہر بند ہوئے، پھر ملک بند ہوئے، پھر دنیا بند ہوئی، پوری دنیا نے ایک ساتھ درد بھری آواز میں کہا (لاگ ٹاؤن) ہوگا تالا بندی کی جائے گی، لوگ آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ملیں گے ،انسانیت انسانیت سے دور رہیں گی، اب کوئی تازی ہوا میں سانس نہیں لے گا، اب ہر باہر نکلنے والا چہرے پر ماسک لگائے گا، اگر اپنوں سے محبت ہے تو اپنے سے دور رہے گا، اس بیماری نے دنیا کی رونق چھین لی، خوشیوں کو چھین لیا، اس بیماری سے صرف ایک چیز عام ہوگی اور وہ صرف اور صرف اموات ہیں ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئ، آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مرنے لگے ایسے حالات پوری دنیا پر چھا گئے کہ لوگ جنازوں میں جانے سے کترانے لگے کتنے اپنوں نے لاشوں کو لاوارث کی طرح چھوڑ دیا ہندوؤں کی آخری رسومات بھی مسلمانوں نے پوری کی تو کہیں مسلمان کو ہندو نے دفن کیا مسجدوں پر تالے پڑ گئے، مندروں پر تالے پڑ گئے، یہاں تک کہ ہر عبادت گاہ پر تالے پڑ گئے، ہندوستان میں سینکڑوں مزدوروں نے ہزاروں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا ہزاروں بھوک سے مرے، ہزاروں پیاس سے مرے، ہزاروں ڈر سے مرے، ہزاروں دوائی نہ ملنے کی وجہ سے مرے، ہزاروں دوائی ملنے کے باوجود مرے، اس وبا نے اتنی اموات کروائیں جیسے قیامت کا صور پھونک دیا گیا ہوں غم کے بادل ایسے آئے کہ چھٹنے کا نام نہیں لیتے ایسے حالات میں ہم نے ایک رمضان گزارے نا تراویح کی نماز کو مسجد میں جانے کی اجازت تھی نہ فجر کی نماز کو مسجد میں جانے کی اجازت تھی گھر میں اس طرح قید تھے جیسے کوئی پرندہ پنجرے میں قید ہوتا ہے نہ کہیں جا سکتے تھے نہ کسی سے مل سکتے تھے سوشل میڈیا کھولتے بھی تھے تو صرف اموات کی خبریں ملتی تھی،اس کے بعد ذرا سے حالات سازگار ہو گئے تھے چند دنوں کے لیے دوبارہ دکانیں کھلنے لگی دوبارہ لوگ کاروبار پر جانے لگے دوبارہ مسجدیں کھولیں مندرے کھولیں چرچ کھلے یہاں تک کہ تمام عبادت گاہیں کھل گئیں ایک عام سی زندگی دوبارہ آہستہ سے شروع ہونے ہی لگی تھی کے دوبارہ اس وبا نے سر اٹھایا اور اس طرح سے اٹھایا کی اموات کا سلسلہ بڑھ گیا دواخانوں میں بیٹ کم پڑھنے لگے ڈاکٹروں کے اسٹاف کم پڑھنے لگے دوائیوں کی قلت ہونے لگی آکسیجن کی قلت ہونے لگی اور ایسے حالات میں ایک اور رمضان کا چاند دیکھا لوگ پریشان ہے کیا اس رمضان بھی نماز پڑھنے کو نہیں ملے گی کیا اس رمضان بھی گھر میں قید رہنا پڑے گا اور سرکاری اعلانات بھی کچھ اسی طرح ہوئے کہ مساجد میں پانچ افراد سے زیادہ نہیں جا سکتے بازاروں میں کوئی پھیڑ نہیں لگائے گا، یہ پریشانی تو ہے کہ رمضان پھر سے گھر میں گزرے لیکن اصل پریشانی یہاں پر ہے کہ لوگ بھوکے ہیں لوگ بے روزگار ہیں لوگ مجبور ہیں اور یہ بے روزگاری مجبوری اور بھوک کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے یہ اس وقت کا ایک اہم اور بڑا سوال بنا ہوا ہے لیکن ان سب کے باوجود ایک اور اہم سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ مدارس بند ہے مکاتب بند ہے دینی درسگاہ بند ہیں گزشتہ سال بھی کسی مدرسے کا چندہ نہ ہو سکا اس سال بھی ایسے کوئی امکانات نہیں ہے اور مدارس بند ہونا یہ ملت اسلامیہ کا بہت بڑا نقصان ہے ہماری آنے والی نسلوں کا بہت بڑا نقصان ہے یہ بات فکرمند کرنے والی ہے کہ مدارس کو بند کرنے کا جو پلان باطل طاقتیں بناتے آئی ہیں ان کے لیے یہ وبا بڑی کارآمد ثابت ہوئی کیوں کہ اگر مدارس کے پاس پیسہ نہیں ہوگا تو مدارس اپنے آپ بند ہو جائیں گے کسی کو کچھ حرکت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور دنیا کے سامنے کوئی بد نام بھی نہیں ہوگا ایسے حالات میں مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنی دینی درس گاہوں کی حفاظت کرے وہ اپنے مدارس کی حفاظت کرے اور مدارس کو بند ہونے سے محفوظ رکھے میں کسی مدرسے سے جوڑا ہوا نہیں ہوں میں یہ عام بات کر رہا ہوں جو اس وقت امت مسلمہ پر خطرہ منڈلا رہا ہے ہم نے اس وبا کے دور میں بازار بند ہونے کے سوگ منائیں کاروبار بند ہونے کے سوگ منائیں گاڑی یا موٹر بند ہونے کے سوگ منائیں لیکن ہمارا دھیان مدارس سے اور دینی درسگاہوں سے کیوں اٹھ گیا ہمیں مدارس کے تعلق سے سوچنا ہوگا وبا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن کہیں افراد کے جو امکانات ہیں کہ یہ ایک سازش ہے اگر ان کے امکانات کو سچ مان لیا جائے تو کہیں نہ کہیں یہ دینی درسگاہوں کو بند کرنے کی سازش ہو سکتی ہے مسلمانوں کی بڑی تنظیموں کو خاموش کروانے کی سازش ہو سکتی ہے کیونکہ مسلمانوں کی بڑی تنظیمیں بھی مسلمانوں کے دیے ہوئے پیسوں سے چلتی ہے چاہے جمیعۃعلماءہند ہو چاہے جماعت اسلامی ہو چاہے مسلم پرسنل ہو چاہے دوسری دیگر ملت کی تنظیمیں ہو یہ تمام تنظیمیں ملت اسلامیہ کے دیے ہوئے پیسوں سے چلتی ہیں اور اس لاگ ٹاؤن کی وجہ سے رمضان المبارک میں تمام چیزیں بند ہونے کی وجہ سے کوئی بھی جماعت کوئی بھی تنظیم کوئی بھی مدرسہ صحیح سے چنداں نہیں کر پا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ہوگا کہ ہمارے نونہالان دینی تعلیم سے دور رہیں گے اور ملت کی جماعتیں اپنی آواز اٹھانے سے قاصر ہو جائے گی اسی لئے ملت اسلامیہ کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس وقت ہم کس طرح سے ملت کی تنظیموں کی حفاظت کر سکتے ہیں ان کی آواز کو مضبوط کر سکتے ہیں اور دینی مدارس کی حفاظت اور انہیں کس طرح سے شروع کر سکتے ہیں ان تنظیموں کی اور دینی مدارس کو کس طرح سے آباد کر سکتے ہیں یہ تمام سوالات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں اور ہمیں ان سوالات پر غور و فکر کرنا ہوگا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے رمضان بہت ساری چیزیں لے کر آتا ہے جس کی وجہ سے سال بھر ملت اسلامیہ کے مختلف ادارے اپنی شایان شان چلتے ہیں ہمیں ان تمام چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا ساتھ ہی اس وبا کے تعلق سے اپنے اپنوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ وہ اس وبا سے خود بھی محفوظ رہے اور اپنے اہل و عیال کو محفوظ رکھے اللہ امت مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے اللہ ملت اسلامیہ کی مدد فرمائے آمین یا رب العالمین ۔